ناکام ریاست کی کہانی

رفیعہ زکریاzakaria

پاکستان کے موجودہ تاریک دور میں جو سوالات سیاستدانوں کو گھیرے ہوئے ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہیں۔ کیا ریاست پاکستان ناکامی کی طرف جا رہی ہے؟ کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟ کیا پاکستان کی ریاست ناکام ہو جائے گی ؟ یہ سوال اس تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ ناکام ریاست کے شور میں بہت ساری کوتاہیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔پاکستانی سیاست میں ہر طرف کرپشن، اقرباء پروری، مقصدیت کی کمی،پست معیار اور ظاہری شان و شوکت نے مایوسی پھیلا رکھی ہے جس سے ناکام ریاست جیسی اصطلاح جنم لیتی ہے۔
بہت سے مبصریں جو پاکستان کے حالات سے واقف ہیں ، ان کا پاکستان کے بارے میں الگ نقطہ نظر ہے۔جب 2012ء میں ناکام ریاستوں کی فہرست جاری کی گئی تو اس وقت سٹریٹفور کے چیف جیولوجیکل سٹریٹجسٹ رابرٹ کپلان نے پاکستان کو ایک گمراہ کن ریاست قرار دے دیا۔ان کی دیکھا دیکھی ان کے ہمنوا ؤں نے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کے انبار لگا دئیے۔اور ناکام ریاست کی اپنے اپنے انداز میں تشریح کرنے لگے۔نئے نو آبادیاتی نظام میں کسی ملک کے معاملات میں مداخلت کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔جیسا کہ ناکام ریاست کی اصطلاح پاکستان جیسے ان ترقی پزیر ملکوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو مکمل خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک سال پہلے گارڈئین اخبار کے کالم نگار ایلیٹ راس نے اس ناکام ریاست کی اصطلاح کا پول کھول دیا۔ان کے مطابق یہ اصطلاح جے جے مسنرکی تخلیق ہے جوایک پرائیویٹ سکیورٹی ادارے کے لیے کام کرتا تھا۔مسٹر مسنر تو یہ بات ماننے سے انکاری ہیں لیکن کئی سیاسی ماہرین جو عام طور پراپنے دعوؤں کی تصدیق کے لیے بہت مستعد رہتے ہیں ، اس فہرست کی پہلے سے موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں۔راس کے مطابق یہ کوئی ناگہانی واقعہ نہیں تھا بلکہ امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو اہلکاروں جیرالڈ ہلمن اورسٹیورٹنر کی کارستانی ہے۔ فارن پالیسی کو لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر نئے ابھرنے والے ممالک اس قابل نہیں ہوتے کہ بین الاقوامی کمیونٹی میں اپنی فعالیت برقرار رکھ سکیں۔یہ ممالک خود کو فعال رکھنے کے لیے مغربی ممالک کی گود میں جا بیٹھتے ہیں جو کہ ان کی بقا کی ضمانت ہوتی ہے(پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے)۔سادہ الفاظ میں ناکام ریاست کی اصطلاح اس مفروضے پر مبنی ہے کہ نئی اور کمزور ریاستیں مغربی طاقتوں کی دخل اندازی کوقبول کریں جو کہ ان کی بقا میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اصطلاح طاقتور ممالک کے لیے ترقی پزیر اور غریب ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا ایک بہانہ بن گئی۔اس کام کو جائز قرار دینے کے لیے یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ ناکامی کی جانب گامزن ملکوں کی جو مدد کی جاتی ہے اس میں ’’گاڈ فادر‘‘ ممالک کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف ان کمزور ممالک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کی آڑ لے کر طاقتور نہ صرف کمزوروں کے مقام کا تعین کرتے ہیں بلکہ دنیا کو ناکام ریاست کا چشمہ پہناتے ہیں جس سے ان کے غلط کام بھی صحیح لگنے لگتے ہیں۔
پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دینے کے بعد حب الوطنی اور قوم پرستی جو کہ ہماری اساس ہے، مبہم ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کو بنیاد بناکر ایک طاقتور پڑوسی کمزور ملک کے معاملات میں مداخلت بھی کرے تو اس کی مخالفت کرنے والے کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔اس تمام کھیل میں ناکام ریاست کے نظریے کی مخالفت کی جائے تو بدلے میں ریاستی کمزوریوں اور نا اہلی کو نظرانداز کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں دہرا نقصان ہوتا ہے اور سیاسی احکامات کی چمک دمک میں اصل مسائل آنکھوں سے اجھل رہتے ہیں۔
عالمی سیاست کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ جو پاکستان کے حالات پر یا پھر نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد ترقی پزیر ممالک کی کوتاہیوں پر تبصرہ کرتے ہیں وہ ترقی اور عالمی امداد کے مفہوم کولیکر چوکس رہتے ہیں۔
نئے نو آبادیاتی نظام میں ناکام ریاست کی اصطلاح کو دغا بازی اور کردار کشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جوکہ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کو اخلاقی اور قانونی جواز مہیاکرنے میں مددگارثابت ہوئی ہے۔اصل میں ناکام ریاست کا نظریہ ایک کہانی ہے جو نہ صرف دوسروں کی خودمختاری کا جنازہ نکالنے کے لیے استعمال ہوتی ہے بلکہ متاثرہ ملک کے اصل مسائل کوبھی پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *