آزادی مارچ کیس :عمران خان عدالت طلب

Lahore Highcourtلاہور ہائیکورٹ کے فُل بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چودہ اگست کو ہونے والے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو طلب کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے اپنے اقدامات سے عدالت کو آگاہ کریں۔پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کو رکوانے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے کی۔درخواست گزار محمد کامران ایڈووکیٹ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آزادی مارچ سے ملک میں انتشار اور قتل وغارت کا خدشہ ہے، لہذا عدالت اسے رکوانے کے لیے وفاقی حکومت کو اقدامات اٹھانے کا حکم دے۔جس پر چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دے دیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس خالد محمود خان نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کے پاس وفاقی حکومت کو حکم دینے کا اختیار نہیں، آئین کے مطابق احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے اورعدالت کسی شہری کو احتجاج سے نہیں روک سکتی، لیکن اگر ہائیکورٹ حکم دے اور سیاسی جماعتیں اسے ماننے سے انکار کردیں تو پھر عدالت کیا کرے۔اس پر درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے کا کہنا تھا کہ اگر عدالت احتجاج سے نہیں روک سکتی تو یہ انصاف فراہم کرنے میں ناکامی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ملکی سالمیت داؤ پر لگی ہے، ایسے میں وزیر اعظم کودس بار بھی کسی کے پاؤں پکڑنے پڑیں تو بھی وہ گریز نہیں کریں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ نے استدعا کی کہ وزیر اعظم بات چیت کے لیے پہلے بھی مخالفین کے گھر جا چکے ہیں اور اب بھی انھوں نے پیشکش کی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے عدالت کو بتایا کہ آزادی مارچ سے تشدد اورخون خرابے کو فروغ حاصل ہوگا۔
عدالت نے پنجاب اور وفاقی حکومت کوآزادی مارچ کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے اپنا موقف جمع کرانے کی ہدایت کی اورپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *