کھلی جنگ

طارق کھوسہtariq khosa

شمالی وزیرستان ایجنسی میں 15جون سے مسلح افواج کی جانب سے غیرملکی اور مقامی جنگجوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ وزیراعظم نے بھی دوٹوک الفاظ میں عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح،مخدوش سکیورٹی اور سیاسی کہانیوں کے ایک اچھے خاصے دور کے بعد، فوج اور سیاسی سربراہ یک آواز ہو کر بولتے نظر آ رہے ہیں۔
وہ قوم جو حالت جنگ میں ہوتی ہے اسے بغاوت کے خلاف اور اپنے تحفظ کے لئے خطرہ بننے والے عوامل کی روک تھام کے لئے یقیناًتمام ضروری آلات مطلوب ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور ہونے والا تحفظ پاکستان کا قانون، اگلے دو برس کے لئے ملک بھر میں جنگجوؤں کے خلاف اعلان جنگ کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، منتخب نمائندے ، جنگجوؤں سے برسرپیکار دفاعی اداروں کی ضروریات اور مطالبات کو پورا کرنے سے بہت دورہیں۔ اگرچہ کچھ حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کے باوجود، کچھ یقینی پہلوابھی بھی تحفظات پیدا کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل سطور میں میں نے ان پہلوؤں کی فہرست بنا دی ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کچھ تجاویز بھی دے دی ہیں۔
پہلی تجویز ’’اجنبی دشمن‘‘ کی اصطلاح سے متعلق ہے جسے قومی قانون سازی میں پہلی بار بیان کیا گیا ہے۔ اجنبی دشمن کی شناخت کو کون یقینی بنائے گا؟جب کہ یہ توشایدمقابلتاًآسان ہو کہ کچھ غیر ملکیوں کا سٹیٹس معلوم کیا جائے مگر اجنبی، جن کی 1980ء کی دہائی سے حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی کہ فاٹا اور افغانستان کے بارڈر پر دیگر علاقوں میں آ بسیں، ان میں سے کچھ نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈز بھی حاصل کر لئے ہیں، یہاں شادیاں بھی کر لی ہیں اور اب ان کے بچے بھی ہیں جو یہیں پیدا ہوئے، لیکن وہ جو تمام عرصہ خود کو ایک عالم گیر نظریاتی جنگ میں حصہ دار تصور کرتے رہے ہیں، کیااب وہ انتظامیہ کو ایک چیلنج محسوس ہو رہے ہیں؟ مزید یہ کہ پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ملک بدر کرنے کے معقول منصفانہ طریقے مرتب کئے جانے چاہیں۔
دوسرے مسئلے کا تعلق’’جنگجو‘‘ کی نہایت وسیع اور ممکنہ طور پر غلط استعمال ہو سکنے والی تعریف سے ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو’’دھمکی دیتے ہیں یا پاکستان کے تحفظ، سا لمیت یا دفاع کے خلاف تعصب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘مزید دانشمندانہ طریقہ یہ ہوتا کہ 1997ء کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی پیروی کی جاتی جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ سکیورٹی اداروں کوفرقہ وارانہ دہشتگردوں اورکارکنوں کا پیچھا اور نگرانی کرنے کی اجازت مل جاتی۔ یہ خفیہ فہرستیں نہیں ہیں اور ان میں زیادہ تر کالعدم جنگجو تنظیموں کے ارکان شامل ہیں۔ تنظیموں کی نسبت افراد پر پابندی لگانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے کیونکہ تنظیمیں مختلف شناختوں کے تحت کام کرنا جاری رکھتی ہیں جبکہ مشکوک جنگجوؤں کو اپنی حرکات محدود یا بند کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے یا ان کے خلاف انتظامی و قانونی اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
پھر تحفظ پاکستان ایکٹ میں شامل ’’مارنے کے لئے گولی چلانے‘‘ کی شقیں بھی اختلافی ہیں۔ جب ک گریڈ 15یا اس سے بڑے رینک کے پولیس افسران ، آخری حربے کے طور پر گولی چلانے کی اجازت دے سکتے ہیں۔فائرنگ کی اجازت دینے سے متعلق کسی بھی گریڈ کے سول اور ملٹری افسران پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ میرے خیال میں، صرف ایک گزیٹڈ پولیس افسر یعنی کہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ یا سترھویں سکیل کا اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ اور ایک کپتان یا اس کے برابر کا کوئی سول یا ملٹری آفیسر ، اگر چاہے تو، آخری حربے کے طور پر، کسی ایسے جنگجوپر فائر کرنے کے احکامات جاری کر سکتا ہے، جو کہ مسلح ہے اور فوج یا پولیس کے حملہ آور گروہ پر گولی چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔مزیدیہ کہ، کسی سول یا فوجی اہلکار کی فائرنگ کے نتیجے میں کسی کی ہلاکت کی ہمیشہ جج صاحبان سے تفتیش کرائی جانی چاہئے، نہ کہ مبینہ ملزم کو مارنے والے ادارے ہی کے کسی اہلکار سے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگرگولی چلانے اورتفتیش کرنے والے اہلکاروں کا تعلق ایک ہی ادارے سے ہو تو تفتیش کرنے والے گولی چلانے والے کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
چوتھا مسئلہ انسدادی یا حفاظتی گرفتاری ہے۔ پاکستانی جنگجوؤں کی صورت میں، ان کے خاندان کو اس مقام کا پتہ ہونا چاہئے جہاں انہیں (جنگجوؤں) رکھاگیا ہو اور یہ کہ انہیں گرفتارکرکے حکومت کی کسی باقاعدہ نوٹیفائیڈ جیل میں رکھا جانا چاہئے۔ مزید یہ کہ اجنبی دشمنوں کو زیرحراست رکھے جانے کا وقت بھی لامحدود نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس وقت کے تعین کا اختیار گرفتار کرنے والے کی صوابدید پر چھوڑا جانا چاہئے۔ کسی جنگجو دشمن کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور اپنے اہل خانہ سے ملنے سے نہیں روکا جانا چاہئے۔
آخری مسئلہ، تحفظ پاکستان ایکٹ میں بیان کردہ جارحیتوں کے قانون سے متعلق ترمیم کاہے۔وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان ایکٹ میں کسی بھی ترمیم، اضافے، تبدیلی، بہتری یا کچھ حذف کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے اور پارلیمان نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے۔انتظامیہ کو آئین سازوں کے کام پر قبضہ نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں کیا گیا تھا، جس میں وہ ضابطے بھی شامل کئے گئے تھے کہ جن کا دہشتگردی کے اقدامات سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ایسی بے مہار اتھارٹی کے غلط استعمال کاامکان موجود رہتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں پہلے ہی مذہبی، سیاسی، نسلی اورفرقہ وارانہ الاؤ جل رہے ہیں۔
فوج سے تحفظ پاکستان ایکٹ ہی کے خطوط پر مزید آئین سازی کا وعدہ کرنے کی بجائے، وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو اپنا وقت اور توانائی حفاظتی اقدامات کرنے پر صرف کرنا چاہئے تھا تاکہ سکیورٹی کی ضروریات اور افراد کی آزادی کے درمیان ایک توازن قائم کیا جا سکے۔جب کہ ریاستی اداروں کو مزید اختیارات دیتے ہوئے ، فوری ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کاپارلیمانی اور عدالتی جائزہ لیا جائے۔ طویل مدتی تناظر میں دیکھیں تو ہمیں احساس ہو گا کہ یہ قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی اور سماجی و معاشی انصاف کا معاملہ ہے،اور درحقیقت یہی وہ عناصر ہیں کو جو جنگجوؤں کو شکست دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *