مودی اپنا بھارت سنوارو

zulqarnain hundal

بھارت کی سلامتی خطرے میں ہے اور مودی اس خطرے کی گھنٹی ہے۔بھارتی عوام جو سمجھ بوجھ کی حامل ہے اس عوام کے دل میں ایک خوف بھارتی سا لمیت کے بکھرنے کا خوف بھارت میں بدعنوانیوں کے بڑھنے کا خوف بلکہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خوف بھی گردش کر رہا ہے۔بھارت میں ایسی کئی آوازیں ایسے کئی نعرے بلند ہو چکے ہیں کہ مودی اپنا بھارت سنوارو دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرو۔اپنے اس ٹوٹتے ہوئے وطن کو تو سنوارو کہیں دوسروں کے معاملات میں روڑے اٹکاتے ہوئے اپنے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر بیٹھو۔۔مودی خود کو بین الاقوامی سطح کا سیاستدان تصور کرتا ہے یہ اس کی بھول ہے۔مودی جس کا پورا نام نریندر مودی ہے بھارت کا ایک انتہا پسند ہندو کارکن تھا۔جو اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے ہندؤں میں مقبول ہوا اور بعد ازاں ان انتہا پسند ہندؤں نے اپنے مفادات اور انتہا پسندی کو مزید تقویت دینے کے لئے مودی کو فنڈنگ کر کے سیاست میں اتارا اور پھر انہیں انتہا پسند ہندؤں کی مدد سے مودی وزیر اعلی اور اب وزیر اعظم کی کرسی پر موجود ہے۔یوں انتہا پسندوں نے اپنے نمائندے کو ملک بھارت کا سربراہ بھی بنا لیا تاکہ انتہا پسندی کو تقویت مل سکے اور اقلیتوں کو ڈرا دھمکا کر اپنا غلام بنا کر جب دل چاہے ان پر تشدد کیا جا سکے۔موجودہ کئی انتہا پسندی کے واقعات اس کا ثبوت ہیں۔ایسے کئی گھناؤنے مقاصد کی خاطر انتہا پسندوں نے اپنے نمائندے مودی کو یہاں تک پہنچایا۔سمجھ بوجھ رکھنے والے بھارتی یہ سب سمجھتے ہیں۔مودی سے اتنی جلدی یہ سب ہضم نہیں ہو رہا کہ وہ اتنے بڑے ملک بھارت کا سربراہ ہے۔خود کو اتنے بڑے عہدے پر براجمان پا کر سمجھتا ہے کہ وہ برصغیر کا بادشاہ بن بیٹھا ہے۔جس کے نتیجہ میں مودی کے کئی کارنامے بھی نظر آئے۔مودی سرکار کی برصغیر پر بادشاہی کے نشے کو صرف پاکستان ہی اتارتا ہے۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے ایٹمی ہتھیار بھارت سے زیادہ ایکٹو اور فعال ہیں۔بھارت نے بنگلہ دیش افغانستان اور دوسرے کئی چھوٹے ممالک تو روپے کے عوض اپنی مٹھی میں کر رکھے ہیں۔اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری لگا کر بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مراسم خراب کئے ماضی میں پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔افغانستان جن کا سب سے بڑا خیر خواہ پاکستان ہے۔اور جنہیں پاکستانیوں نے اپنے بھائیوں کی طرح سمجھا۔بھارت نے اسی افغانستان میں کھربوں روپے کے عوض اپنی ساکھ قائم کی اور افغانستان کو مکمل اپنے کنٹرول میں کیا اور پاکستان کے خلاف افغانستان اور افغانیوں کو استعمال کر رہا ہے۔یہ غیور پٹھان صرف روپے کے عوض بھارتی قابو میں نہ آئے بلکہ مکمل منصوبے کے تحت بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی سالوں کی برین واشنگ کام کر رہی ہے۔بھارتی میڈیا بھی اس گھناؤنے کر دار کا حصہ ہے۔پھر مودی سرکار کے اچانک ایران کے ساتھ اچھے مراسم اور ایران میں سرمایہ کاری پراجیکٹس صرف اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر پاکستان مخالف استعمال کیا جائے اور پاکستان کو کوکھلا کیا جائے۔بھارتی سرکار ایسے کئی منصوبے تشکیل دے رہی ہے جن سے ابھی ہم آگاہ نہیں۔مودی سرکار سے پہلے بھی بھارتی سرکار کے ہمیشہ ایسے ہی وچار رہے مگر مودی پاکستان مخالفت میں کچھ زیادہ ہی ایکٹو نظر آتا ہے۔دوستو آج ملک پاکستان جو متعدد مشکلات کا شکار ہے یہ کوئی فٹا فٹ مشکلات کے بھنور میں نہیں پھنسا بلکہ بھارت کی کئی سالوں کی منصوبہ بندی اسکے پیچھے ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے افسران کا پاکستان سے گرفتار ہونا اس کا ثبوت ہے۔بھارت پاکستان میں دہشتگردی بھی بھارت براستہ افغانستان کروا رہا ہے۔بھارت سالانہ اربوں روپیہ پاکستان میں غدار تنظیمیں پیدا کرنے میں لگا رہا ہے۔بلوچستان گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے لئے بھارت نے ان علاقوں میں اپنے خفیہ ایجنٹس بھیج رکھے ہیں جو لوگوں کو پاکستان مخالف کرنے میں آہستہ آہستہ اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے تھے اور ہیں۔جن میں سے متعدد پاکستان کی بہادر اور غیور فورسز نے پکڑ لئے ہیں اور امید کرتے ہیں باقی سب بھی پکڑے جائیں گے۔آرمی پبلک سکول لاہور گلشن اقبال اور موجودہ بچوں کا اغواء بھی بھارتی پشت پناہی کا حصہ ہیں۔ان سب کے پیچھے افغانستان کے تانے بانے ملتے ہیں ۔اور سمجھدار باخوبی سمجھتے ہیں افغانستان مطلب کہ بھارت کی کارستانی۔بھارت ایسی کارستانیاں کر کے پاکستان کی توجہ اصل مقاصد سے ہٹانا چاہتا ہے جس میں کشمیر کا مسئلہ اور پاک چائنہ کوریڈور بھی ہیں۔بھارت کی مزید کارستانیاں لکھنے سے قاصر ہوں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت برصغیر میں امن و سلامتی کو کچلنا چاہتا ہے اور پاکستان امن و سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔جی وہ کہتے ہیں نہ کر بھلا ہو بھلا۔بھارت کے ساتھ کر برا ہو برا جیسا ہوا۔اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔مودی سرکار کو علم نہیں تھا کہ دوسروں کے ٹکڑے کرتے کرتے کبھی کبھار اپنا گھر بھی بکھر جاتا ہے۔مودی سرکار اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے برصغیر میں سرمایہ کاری تو کر رہی ہے۔کھربوں روپے کا اسلحہ۔مگر اپنا وطن بھارت غربت افلاس نا انصافی بد اخلاقی انتہا پسندی قتل و غارت نیز ہر قسم کی بد عنوانی کا شکار ہے۔ایسی ایسی بد عنوانیاں کہ آپ لکھتے ہوئے اور پڑھتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگا لیں۔انتہا پسند ہندؤں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہ جب چاہیں ہندوستان میں مقیم سکھوں مسلمانوں عیسائیوں دلتوں اور بدھ متوں کو زندہ جلا دیں انکی بستیاں اجاڑ دیں ان کی عزتوں کو اچھالیں۔ان غریب بے آسرا اور ستائی ہوئی اقلیتوں نے ہندوستان سرکار سے علیحدہ ریاستوں کا مطالبہ کیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ مطالبہ تھم نہیں سکتا ایسا مطالبہ ہی بیسویں صدی میں تھا جو اب ایک عرصہ کے بعد دوبارہ تقویت پکڑ رہا ہے اور یہ ہندوستان کی ساکھ کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔اور زیادہ چانسسز ہیں کہ عنقریب ہندوستان اپنی غلط پالیسیوں اور ہٹ دھرمیوں سے بعض نہ آیا تو خود کے ٹکڑے ٹکڑے کر بیٹھے گا۔اتنے ٹکڑے کہ سمیٹنے بھی مشکل ہو جائیں گے۔یہی خوف ہندوستان میں اب بول رہا ہے اور سمجھدار ہندوستانی مودی کے خلاف بول رہے ہیں کہ مودی اپنا بھارت سنوارو نہ کہ دوسروں کے معالات میں ٹانگ اٹکاؤ۔بھارتی میڈیا اگر اپنے وطن کی سلامتی چاہتا ہے تو وطن کو بچانے کے لئے اپنی حکومت کی حقیقی غلط پالیسیوں سے عوام کو آگاہ کرے۔نہیں تو اس سیاسی کھیل میں بھارت کا اپنا ہی شیرازہ بکھر جائے گا۔پاکستانی میڈیا اور حکومت سے درخواست ہے کہ کشمیریوں کی آواز پوری دنیا تک صدق دل سے پورے جذبے سے پہنچائیں تا کہ دنیا کشمیر کو اسکا حق دلانے کے لئے اقدامات کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *