لال قلعہ

serwer

(سرور سکھیرا)
1964ء کا لندن آج کے لندن سے بہت مختلف تھا ۔ وہاں غیر ملکی خصوصاََ برصغیر سے آئے ہوئے لوگ خال خال ہی نظر آتے تھے ۔ پاکستان میں جب کبھی بھی انگریز دیکھتا تو وہ اتنے زیادہ سفید لگتے جیسے کسی نے اُس کا سارا لہو نچوڑ لیا ہو ۔ اُن کے درمیاں مسلسل د وسال رہنے کے بعد چمڑی کی سفیدی آنکھوں میں اب چھبتی نہیں تھی اور میں اُن کے علاقائی لہجے میں بولیجانے والی انگریزی بھی سمجھنے لگا تھا ۔ مانوسیت اس قدر ہو گئی کہ رنگ کی سفدی گورے پن میں بدل گئی ۔چہروں کی نقوش اور بدن بدن کی تراش خراش پر توجہ مرکوز ہونے لگی ۔ اب میمیں مجھے بھیڑوں کے ایسے ریوڑ کی طرح نہیں لگتی تھیں جہاں ایک سے دوسری میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے ۔
ابتداء میں جواں دل ہر وقت ان کے قرب کے لئے مچلتا رہتا لیکن ادپنے اور اُن کے درمیان فاصلے محسوس کرتا ۔ اور پھر طارق بن زیاد کی سی جرّات اور تدبیر سے فنِ لشکر کشی میں اس قدر مہارت حاصل ہو گئی کہ ہر جبرالڑ مجھے ہموار ساحل نظر آنے لگا ۔ کسی بھی لڑکی کی حیثیت میرے نزدیک پاکستان میں ہمارے گھر کے سامنے والی بیری کی سی ہو گئی جس پرمیں اتنے اعتماد اور پھرتی سے چڑھتا تھا کی اگر کوئی میری آنکھوں پر پٹی باند ھ دیتا تو بھی کہیں نہ تھڑکتا ۔ یہی بیری کا درخت پہلے مجھے ہمالیہ جتنا اونچا نظر آیا کرتا تھا اور میں اس پر پکے پکے سرخ بیر بڑی حسرت بھری نگاہ سے دیکھا کرتا ۔سوچتا کہ وہ لوگ ان بیروں پر چڑھ سکتے ہیں بڑے کمال کے ہوں گے ۔ وقت وقت کی بات ہے ، ایک دن وہ بھی آگیا جب بیری مجھے اپنے گھٹنے برابر لگنے لگی ۔
گاہے گاہے اُن کے گھر بھی گیا ، ماں باپ سے متعارف کرایا گیا لیکن حیرت ہے کہ کبھی جلیاانوالہ باغ ، ایسامعاملہ نہ ہوا ۔ میموں کے سلسلے میں صادق یا جعفر نہیں بلکہ صلاح الدین ایوبی بن گیا تھا جنگ بھی جیت لیتا اور دشمن کے دل بھی ۔آج میں ایک بڑی مزے دار لڑکی کے ساتھ دن گزار چکا تھا اور شام کسی اور کے نام تھی ۔ہمیں چیئرنگ کراس سٹیشن کے باہر سٹرینڈ میں ملنا تھا ۔ وہ میرا انتظار کر رہی تھی۔ بڑی بن ٹھن کے آئی تھی۔باریک سا سکاف بالوں میں بندھا ہوا تھا ، وہ بے تاب اور کچھ نروس لگ رہی تھی ، بار بار ہونٹوں کو ملا ملا کر کھولتی تھی جیسے لپ سٹک برابر کر رہی ہو۔ وہ آہستہ آہستہ ٹہل بھی رہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ واقعی شدت سے میری منتظر ہے ۔ یہ میری فتح کی نشانیاں تھیں لیکن میں آج دوپہر اپنی بھوک مٹا چکا تھا اس لیے سوچا کہ اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا چاہیے۔اور میں وہاں سے چل دیا ۔ یوں جیسے کھانے کی بھری میز سی کوئی اُٹھ جائے ۔ اس کا ٹیلی فون نمبر تو میرے پاس تھا ہی ۔اگر کسی روز کوئی بہتر میسر نہ آئی تو پیار کے انداز میں کوئی ایسابہانہ تراش کے سناؤں گا جس سے اس کا دل پسیج جائے اور باقی کام کافی آسان ہو جائے۔ویسے یہ عام گورے گوریاں بیوقوفی کی حد تک سادہ لو ح ہیں ۔ کبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ ننھے سے جزیرے پر رہنے والے یہ چند لاکھ گورے کرہء ارض پر پھیلی یہ وسیع سلطنت کیسے بناگئے !
میں چیئرنگ کراس ٹیوب سٹیشن پر انڈرگراؤنڈٹرین پکڑنے چلا آیا ۔ڈسٹرک لائن کے ارلز کورٹ جانے والی ٹرین میں سوار ہوا تو اچانک مجھے اپنے قریب ایک سانولی سلونی سی تیکھے تیکھے نقوش والی ،بیس اکیس سال کی لڑکی ساڑھی پہنے بیٹھی نظر آئی ، وہ مجھے یوں لگی جیسے بہت سارے ابلے چاولوں کے درمیان پلاؤکی پلیٹ رکھی ہو۔اس میں سے ایک قدر اور بھینی بھینی سی غیر روائیتی قسم کی خوشبو آرہی تھی جس سے ظاہر تھا کہ اس نے میک اپ نہیں کیا ہوا تھا ۔ لڑکی مجھے فوراََ پسند آگئی اور میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کیا پتہ اگلے ہی اسٹیشن پر اُتر جائے ۔ میں نے بڑی مہارت کے ساتھ فقر پھینکا ۔
"ہیلوشکیلہ !کیا حال ہیں تمہارے ؟ کہاں ہوتی ہو ؟کب آئی ؟ تم دس سالوں میں بہت بدل گئی ہو یار۔"
وہ میری طرف مڑی اور بالکل ایسے لگی جیسے کوئی ہرنی جنگل میں گھاس چر رہی ہو اور اچانک کھٹاک کی آواز پر چونک اُٹھے ۔ وہ حیران نگاہوں سے مجے دیکھنے لگی ، میں نے فوراََ معذرتوں والا جال تیار کرنا شروع کر دیا ، لیکن میرے جال پھینکنے سے پہلے ہی وہ یکا یک مسکرا اُٹھی ۔ اُس کی مسکرائٹ میری بے اعتمادی اور ناامیدی کی اُمنڈ گھٹامیں سورج کی کرن بن کر چمکی ۔
"نہیں، میرانام تو پورنیماہے"۔وہ کافی بدھو تھی جبھی تو اتی آسانی سے نام بتا دیا ، نہ غصہ ہوئی نہ منہ پھیر ا، نہ چپ کا تالا لگایا ۔
پور نیما ہندو نام ہے ، یہ یقیناََ ہندوستان سے آئی ہو گی میں جان گیا اور اور میرے اندر بگل بج اُٹھے ۔ آج تک محض جنگی مشکیں تھیں، اعلان جنگ تو اب ہوا تھا ۔اُن دنوں جب مجھ پر حقیقی مذہب کے بجائے ایک فرضی قسم کی اسلامیت طاری تھی تو میں جان گیا تھا وہ ہر شخص جو مسلمان نہیں ہمارا ممکنہ دشمن ہے اور یہ کہ خصوصاََ ہندو ایک عیّار قوم ہے ، اس کے بناوٹی بھولپن کی اوڑھنی سے کبھی دھوکہ نہیں کھانا چاہیے ۔ میں نے بڑی احتیاط کے ساتھ حکمت عملی ترتیب دی ۔"اچھا اچھا ،یونیورسٹی کالج والی پورنیما !"۔
لیکن آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ میں وہاں پڑھتی ہوں ؟"وہ حیران ہوئی ۔
میں نے کہانی گھڑنا شروع کر دی ، حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ اس کی گود میں پڑی نوٹ بک پر 'یونیورسٹی کالج لندن '.چھپا ہواتھا ۔وہ ٹسیک لگا کر آرام سے بیٹھ گئی جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے میری کہانی پر یقین کر لیا ہے میراارلز کورٹ کو سٹیشن آیا لیکن میں بیٹھا رہا کیونکہ مسلسل کامیابیاں ہو رہی تھیں اور فوج بڑھ رہی تھی ۔ایسے میں کون جنگ بندی کرتا !
رچمنڈ پر وہ اُتری اور شین روڈ کی طرف چل دی ۔ میں ساتھ ہولیا ۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے لندن آئے ہوئے صرف ایک ماہ ہوا تھا ۔اس کا باپ بمبئی یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر تھا اور یہاں وہ اپنے باپ کے ایک دوست کے ہاں رہتی تھی جو ہندوستان چھوڑ کر لندن میں آیا آبسا تھا ۔ اس پروفیسر کی دو جوان بیٹیاں تھیں اور اس طرح اس کا دل بھی لگا رہتا تھا ۔
زمین مجھے بڑی زرخیز لگی ۔ تین جوان لڑکیاں اور وہ بھی
ہندو!میرادل آنے والے وقت کا سوچ کر مچلنے لگا ۔وہ چلتے چلتے اچانک کھڑی ہو گئی اور پوچھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں ۔ میں نے اصل مقصد کو چھپاتے ہوئے کہا کہ میں ایک دوست کو ملنے جارہا ہوں جو اتفاق سے اسی طرف رہتا ہے ۔ اس جواب سے اس کی تسلی ہو گئی ۔ ہم پھر پہلو بہ پہلو چلنے لگے ۔ اس کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میں ایل ایس ای ، میں پڑتا ہوں اور فیروز پور( ہندوستان) سے ہوں ۔ کہنے لگی کہ وہ بھی فیروزپور میں رہ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کے باپ کی اتنی جگہ تبدیلیاں ہو چکی تھیں کہ اب اسے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ کہاں کیرہنے والی ہے ۔ اپنے تئیں میں بڑے فلسفیانہ انداز میں بولا ، اپنا شہر وہی ہوتا ہے جس سے اُسے اُنس ہو ، جو من بہائے جہاں جی لگے ۔"
"اُنس تو مجھے لاہور سے ہے اگر چہ میں اس وقت چھوٹی سی تھی جب دیس کی تقسیم ہوئی ، لیکن میرے ماتا پتا جس انداز سے اس شہر کی باتیں کرتے ہیں ، مجھے وہ شہر بہت اچھا لگتا ہے ۔ اور لاہور کا نام جب بھی پڑتی یا سنتی ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے کوئی میرے اپنوں کی بات کر رہا ہو ، بالکل ایسے ہی جیسے میری مرحومہ نانی اماں کی باتیں کی جاتیں ہیں "۔ میں نے لائن کلیئر پائی تو فوراََبول اُٹھا ، میں بھی لاہور سے ہوں ، اور فیروز پور میں تو صرف پیدا ہوا تھا ، رہتا میں لاہور میں ہوں "۔ وہ جیسے ہی خوشی سے اچھل پڑی ۔
میں نے دشمن کو یوں دوبارہ بچھڑتا دیکھ کر فوراََ ایک اور وار کیا اور کل دوبارہ ملنے کا وقت مانگا ۔وہ اس شرط پر مان گئی کہ میں اسے لہور کی باتیں سناؤں گا ۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اگلے روز ان کے ہاں دعوت ہونے والی ہے جہاں تین ہندو لڑکے بلائے گئے ہیں ۔ دراصل وہ لوگ اپنی بیٹیوں کے لئے مناسب ہندولڑکوں کے رشتے ڈھونڈنے کے لئے بڑے فکر مند رہتے تھے اور اکثر قانون، انجینئرنگ اور ڈاکٹری پڑھنے والے ہندو طلباء کو اپنے ہاں مدھو کرتے رہتے تھے کہیں ان کی لڑکیاں غیر قوم کے لڑسکوں سکے ساتھ اپنے آپ کو منسلک نہ کر بیٹھیں ۔ انہوں نے ازراہِ ہمدردی اب دو دو کی بجائے تین تین لڑکے مدھو کرنے شروع کر دیے تھے تاکہ پور نیما کا بھی یہیں بندوبست ہو جائے ۔ ان میں سے ایک لڑکا پور نیما کے پیچھے بری طرح پڑا ہوا تھا ، لیکن وہ اسے سخت ناپسند تھا کیوں کہ وہ بہت متعصب تنگ ذہن اور کٹر قسم کا ہندو تھا ، وہ ذاتپات کی پٹاری کھول لیتا ۔ لیکن پور نیما کی سوچ تھی کہ کون کہاں پیدا ہوا محض ایک حادثہ ہے ۔ اس بناء پر تفخر یا تضحیک کا اظہار سطحی پن کی انتہا ہے ۔
دوسرے روز ہم ملے ۔ اس نے سلیکس پہنی تھی ، پونی ٹیل باندھی ہوئی تھی اور بالکل سکول کی لڑکی لگ رہی تھی ۔ اسے پانی اور درخت بہٹ اچھے لگتے تھے اور شہر کے ہنگاموں سے دور کہیں جانا چاہتی تھی ۔ ہم ٹو کنہم کے قرہب ٹیمز کے کنارے چلے گئے اور بینچ پر بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ وہاں شام کو بہت لوگ آ جاتے ہیں ۔ ہمارے قریب ہی ایک انگریز بوڑھی اور بوڑھا آ کر بیٹھ گئے اور ہماری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔ جواب میں ہم بھی مسکرا دیئے ۔ وہ دونوں ہمارے قریب آئے اور کہنے لگے کہ ہم دونوں انڈین ایک دوسرے کے ساتھ بہت جچتے ہیں اور اچھے لگ رہے ہیں ۔ شاید یہ مجھے ہندو سمجھ رہے ہوں ۔ یہ سوچ کر میں سٹپٹا گیا اور فوراََ ان کی تصیح کرنے لگا ۔ جس پر انہوں نے کوئی خاص توجہ نہ دیتے ہوئے یہ کہہ کر بات ختم کرنا چاہی کہ آخر ہیں تو ہم دونوں ایک ہی لوگ ۔ یہ جھوٹ تھا ۔ مسلمان ہونے کی بناء پر ہمارا برّضغیر کی دھرتی اور اس کی قدیم تاریخ سے کوئی ناتا نہیں رہا ۔ مجھ پر یہ بات مزید عیاں ہو گئی کہ ہندؤوں کا پراپیگنڈہ بہت مؤثر ہے اور انگریز پاکستان کی حقیقت کو نہ ماننے کا پکا ارادہ کر چکے ہیں ۔ میرے لئے یہ مایوس کن بات تھی ۔ مجھے ایک محاذ پر شکست ہو چکی تھی ۔ لیکن میں نے وہاں وضاحت کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ پونیما کو میری اس تفریق پر ضد یقیناََناگوار گزرتی اور اچھی حکمت عملی نہ ہوتی ۔ اس روز ہم نے بہت باتیں کیں ، اپنی اپنی فیملی کی باتیں ۔ دوستوں کی باتیں کیں ، شہروں کی باتیں ، گلی محلوں کی باتیں ۔ میں اسے کافی اچھی طرح سمجھنے لگا تھا ، وہ بڑی کھلی ڈھلی اور صاف شفاف نظر آتی تھی ۔اس کے اندر بظاہر کوئی بارودی سرنگیں نہیں بچھی ہوئی تھیں ۔ وہ کسی محفوظ مورچے میں چھپی نہیں لگتی تھی اس نے کوئی ہتھیار پہن نہیں رکھے تھے اور نہ ہی خطر ناک لگتی تھی ۔ میں نے محسوس کیا کہ مقابلہ دشمن کے فوجی جوان سے نہیں بلکہ ایک جاسوس سے ہے ۔ جو سادہ کپڑوں میں ملبوس چپ چاپ اپنا کام کیے جا رہا ہے ۔ شام ہونے تک میں دشمن کو مکمل گھیرے میں لے چکا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اب درویشانہ اطوار کی اداکاری کرتی، ماتاہری ،بچ کے نہیں نکل سکے گی ۔
اگلے روز ہم پھر ملے ۔ آج وہ بڑے اچھے کپڑے پہن کر آئی تھی اور ہلکا ہلکا میک اپ بھی کیا ہوا تھا ۔ ہم ہیہ مارکیٹ کے ایک تھیڑ میں "ہیلوڈولی"ڈرامہ دیکھنے گے پھر لیسٹر سکوئر میں ' اینگس سٹیک ہاؤس میں کھا نا کھایا ۔ اس شام وہ بے حد خوش لگ رہی تھی ۔ اور میں بھی خوش تھا کہ میری ہر چال کامیاب ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد ہم کئی بار ملے اور بہت قریب آگئے تھے کہ ایک روز میں نے اچانک شام کے اخبار میں پڑھا ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ گئی ہے ۔ اور ہندوستانی فوج نے لاہور پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں سخت غم وغصہ میں تھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں؟ میں اس شام اس کو ملنے کے بجائے اپنے ہائی کمیشن گیا ، پاکستانی دوستوں سے باتیں کیں اور چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں حصہ لینے لگا ۔
اسے ملے ہوئے تقریباََ دن ہو گے تھے ۔ میں جس آشنا جگہ پر بھی جاتاکافی بار ویٹر ، پب کی بارٹینڈ ر، ریسٹورنٹ کا بیرا ، آرٹ گیلری کا کیپر اور سگرٹوں ، مٹھایوں کی دوکان والی مسز جیمز تک مجھے بتاتے کہ پورنیما مجھے ڈھونڈ رہی ہے ۔دونوں ملکوں میں تو جنگ بند ہو گئی تھی لیکن میں نے اپنی جنگ تیز تر کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اگر شکر گڑھ میں لٹنے والی عصمتوں کا ایوب خان بدلہ نہ لے سکا تو میں یوں لوں گا ۔ سارے بدلے لوں گا،ایک ایک کر کے !47ء سے لے کر 65ء تک کے سارے بدلے۔ حیدر آبادجونا گڑھ اور کشمیر تک کے بدلے ۔
پھر ایک دن میں اسے یوں ملا جیسے سارا وقت ایک شام میں گزر گیا تھا اور میں دوسرے ہی روز اسے ملنے آگیا ہوں ۔وہ میرے خاندان کے لئے متفکر تھی جو ہیڈ سلیمانکی کے قریب آباد تھا اور جہاں سے ہندوستانی سرحد بہت قریب ہے ۔ وہ میرے والدین کی بار بار خیریت دریافت کرتی اور میں اس کی اس کمزوری سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتا ۔ میں نے کہانی گھڑی اور بتایا کہ بم گرنے سے ہما را پورا گھر تباہ ہو گیا ہے ، یہ سن کر اس پر سناٹاسا چھا گیا ہے ۔ہونٹ کانپنے لگے ، رنگ سرخ ہو گیا اور موٹے موٹے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے اور پھر مجھ سے لپٹ کر کسی قدر ؂بلند آواز میں رونے لگی ، سسکیاں لیتے ہوئے بڑے قرب سے اُس نے مجھ سے پوچھا ، "ہم آپس میں کیوں لڑتے ہیں "۔ اور میں جواباََ مسکرادیا۔
اب تک میں نے جانچ لیا تھا کہ حملہ کسی عرب ، ترک ، اُزبک ، ترکمانستان یا افغانی مسلمان بہادر سپہ سالار کی طرح کامیاب نہ ہو گا ، بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا طریقہ واردات زیادہ مؤثر ثابت ہو گا ، اسی لئے میں نے اس کے لئے پھول ، چاکلیٹ اور خوشبوئیں خریدنا شروع کیں ۔یہ میری کامیابی کی نشانی تھی کہ اب وہ میرے دائیں بازو کے ساتھ یوں لپٹ کر چلا کرتی تھی جیسے مجھ میں سما جانا چاہتی ہو ، ایک دن میں نے بڑے رومانوی انداز میں تجویز کیا اور وہ بڑی آسانی سے شیکسپیئر کے آبائی گاؤں 'سٹریڈ فورڈاپون ایون ، چلنے کو تیار ہو گئی ، پروگرام وہاں شیکسپیئر کمپنی کے ڈرامے دیکھنے اور ویک اینڈ گزارنے کا تھا ۔ ہمیں گیسٹ ہاؤس میں ڈبل بیڈ کا ایک کمرہ مل گیا ۔ ڈبل بیڈ والی سکیم میری ہی تھی اور اسے اس کا اس وقت پتا چلا جب ہم کمرے میں پہنچے ۔ جوں ہی اس کی نگاہ بستر پر پڑی تو وہ میری طرف مڑی ۔ اس کی آنکھوں سے کچھ تعجب اور تھوڑی سی گھبراہٹ جھلک رہی تھی ، لمحہ بھر کو مجھے لگا یہ معاملہ "چونڈا "کی طرح گھمسان کی صورت اختیار کر رہا ہے ۔ لیکن میرے شاعرانہ رومانوی الفاظ نے حالات کو 'چھمپ جوڑیاں 'میں بدل دیا اور اُس نے ساتھ سونے کے لئے ہاں کر اور پھر اس رات پاکستان نے ہندوستان سے اولمپک میں ہاکی کا گولڈ میڈل جیت لیا ، کرکٹ کے ٹیسٹ میچ میں بری طرح ہرا دیا ، کشمیر فتح کر لیا اور دہلی کے لال قلعہ پر فتح کا پرچم لہرا دیا ۔
پورنیما کی یہ پہلی شکست تھی لیکن پھر بھی اگلی صبح اس کے چہرے پر ندامت یا شکست کے کوئی آثار نہ تھے ۔ وہ بڑی پر سکون اور مطمئن سی لگتی تھی ۔جس طرح بات بات پر پور نیما میرے اُوپر نچھاور ہو ئے جا رہی تھی پہلے لمحے ہی میں جان گیا کہ میری شدید نفرت کو وہ محبت سمجھتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ محبت اور نفرت کے درمیاں بڑی مہین سی لکیر ہے ، اکثر فرق کا پتا نہیں چلتا ، فیصلہ کر لیا کہ اس حسن اور جوانی کے مندر پر مجھ محمود غزنوی کو مسلسل حملے جاری رکھنے چاہیں ۔اور اس مالِ غنیمت سے اس وقت تک توجہ نہیں ہٹانی چاہیے جب تک وہ مر نہ جائے یا میرا دل نہ بھر جائے ۔ میں لال قلعہ میں روز دربار لگاتا اور اپنی رعایا کی فریادیں سنتا ۔اپنی تعریف میں قصیدے سنتا ، نز رانے قبول کرتا اور شکوے شکایت دور کرنے کے وعدے کرتا ۔اس کے جسم اور دماغ پر پوری طرح میری حکومت تھی اور وہ مجھے پوجا کی حد تک پیار کرنے لگی ۔ اب وہ مجھے ملنے کے لئے ہر وقت بے تاب رہتی اور آئی تو پھر جانے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ پور نیما کو انگلینڈ آئے ہو ئے ایک سال ہو گیا تھا اور وہ بڑی نکھر گئی تھی ۔رنگ کی سنو لاہٹ چھٹتی جا رہی تھی اور خون کے گلابی گلابی رنگ نے اس کی رنگت کو تانبے ایسا بنا دیا تھا ۔ اس کا میرے پاس ہونا فتح کے نشے کی مانند تھا ، ایک مسلسل خمار کی سی کیفیت ۔ پھر ایک روز اس نے مجھے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔ یہ خبر میں نے ہزاروں توتیوں ، شہنائیوں ، پھلجھڑیوں اور پٹاخوں کے چھوٹنے کے شور میں سنی ۔ پورے ہندوستان پر میری فتح مکمل ہو چکی تھی ۔ وہ شکست خوردہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی اور ہمیشہ میرے ساتھ رہناچاہتی تھی ۔ لیکن ہم دونوں کا نباہ کیسے ہو سکتا تھا ؟ ہمارا مذہب مختلف ، ہمارے ملک مختلف ، ہماری پہچان مختلف ۔ اس نے ایک دو بار کہا تھا۔''میرے نزدیک ایسی سیاسی یا جغرافیائی حدود اور مذہب کی کوئی وقعت نہیں جو دو انسانوں کو اکھٹے کرنے کے بجائے دور کر دیں ۔"لیکن اس کی ایسی باتیں مجھ پر اثر انداز نہ ہوئیں ۔ ایسے لوگ جو مذہب ، پہچان اور حبّ الوطنی سے عاری ہوں ان پر یقین کون کرے !
جوں جوں اس کا پیٹ پھولتا گیا میں اس سے دور رہنے لگا کیونکہ کہ میں ڈرتا تھا کہ وہ ہونے والے بچے کا عدالت سے میرے ذمہ خرچہ ڈلوا سکتی ہے ۔ وہ میرے پیچھے پیچھے پھرتی لیکن میرے حیلے بہانوں کو سچ جان کر مجھ سے میرے بدلے ہوئے رویے کا شکوہ تک نہ کرتی ۔
اگلے روز اس نے اسپتال جانا تھا کہ وقت قریب آگیا تھا ۔ میں نے اسے لے جانے کا وعدہ کیا لیکن پھر نہ گیا ۔ میں جنگ کے اس اصول پر یقین نہیں رکھتا کہ پہلے توبیس ، گولیاں چلا کر انہیں زخمی کرو اور پھر ان کی مرہم پٹی کرو ۔ میں اپنا فلیٹ جسے وہ جانتی تھی ،چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہونے میں مصروف تھا کہ ہسپتال سے فون آیا ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ پورنیما کی طبیعت خراب ہے ۔ میں کئی گھنٹے ایک عجیب بے چینی اور اُدھیڑ پن کی کیفیت میں رہا ۔ فیصلہ نہ کر پا رہا تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں ۔ دوتین بار ٹیکسی میں بیٹھ کر اُتر گیا اور میٹر کے بنیادی پیسے دے کر واپس آگیا ۔ آخرمیں نے جانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ میں اپنا بچہ دیکھنا چاہتا تھا ۔
میں نے ہسپتال پہنچ کر میٹر نٹی وارڈ کی سسٹر سے پور نیما کا پوچھا ۔ وہ ڈھلتی عمر کی آئرش عورت لمحہ بھر کے لئے مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی ۔ پھر اپنی نیلی دھاری دار یونیفارم کی جیب سے میرے نام لکھا پورنیما کا خط نکال کر مجھے تھماتے ہوئے بتانے لگی کہ وہ اور بچہ دونوں مر گئے ہیں ۔ یہ خبر بجلی کی طرح مجھ پر گری اور میں لرز اُٹھا ، مجھے یوں بھی لگا کہ اپنی تما م تر فتح کے باوجود جنگی اعزاز سے محروم رہ گیا ہوں ۔
میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے لفافہ پکڑا اور باہر کو چل دیا ۔ کوریڈ ارمیں لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے میں نے لفافہ کھولنا چاہا لیکن وہ مجھ سے کھل نہیں رہا تھا ۔ اس لفافے کے اندر خط نہیں لیکن معصومیت اور خلوص کا ایک ایٹم بم ہے جسے میں نے کھولا تو پھٹ جائیگا!میرے اندر ایک خوفناک دھماکہ ہو گیا اور میرا یقین ، میرا ایمان ، میری حبّ الوطنی ، میری سوچ ، میرا سب کچھ پاش پاش ہو کر بکھر جائے گا ۔ میں نے خط کو لفافے سمیت پرزے پرزے کر کے کونے میں پڑی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔ اور تیز تیز چلتا ہسپتال کی گھٹن سے باہر کھلی ہوا میں نکل آیا ۔ (زیرِتصنیف ناول سے اقتباس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *