وعدوں کے خطرات

رفیعہ زکریاzakaria

اگست 1947ء سے15سال قبل، وِنسٹن چرچل نے کہا تھا:’’ ہماراایسا کوئی ارادہ نہیں کہ ہم بادشاہ کے تاج کاوہ حقیقتاً چمکدار اور قیمتی زیور پھینک دیں جوہماری دیگر تمام نوآبادیوں اور محکوم علاقوں سے بڑھ کر برطانوی سلطنت کی عظمت اور طاقت کا باعث ہے۔‘‘
ہمسب جانتے ہیں کہ یہ زیور ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔یہ تقریباً 13اگست ہے کہ جسے ہم برطانویوں کے جانے اور آزادی اور اپنے بہت پیارے پاکستان کی تخلیق کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔جیسے ہی برطانوی گئے، انہوں نے وہ تمام تاج جمع کئے جوانہوں نے ان بے شمار مہاراجاؤں اور سلطانوں سے جمع کئے تھے،جن سے ہندوستان میں 200برس کے پڑاؤ کے دوران ان کا مقابلہ ہوا تھا ، اور دنیا کے اس پار آباد اپنے جزیرے پر واپس لوٹ گئے۔ان تاجوں کو انہوں نے حقیقتاًوِنڈسر کیسل کی قالینوں سے آراستہ ایک گول عمارت میں شو کیسوں میں مرتب کیا، جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔ نواب بھوپال اور ٹیپو سلطان کے وہ تاج قطار میں پڑے ہیں جو کبھی سلطنت کی شان اور دولت ہوا کرتے تھے۔
پاکستان ایک دوہری فتح، ایک دوہری کامیابی، برطانیہ پر سبقت اور پھر اس حصے پر حکومت تھی، جو برطانوی سلطنت سے قبل ہمارا ہوا کرتا تھا۔ایک نیا ملک جس کا وجود اور امکان بہت کم تھا، حتیٰ کہ اس کا تصوراہل برطانیہ کی رخصتی سے بھی کم تھا۔اس کا تصور پہلی بار ایک شاعر نے کیا تھا ۔ اس نے یورپ کی سنگدل سردمہری میں مسلمانوں کے لئے وطن کا مطالبہ کیا تھا۔پاکستان ایک وعدہ تھا۔ ایک درست سمجھا جانے والا امکان ،جس کی کشش اس کے کھوکھلے پن میں پنہاں تھی۔ترقی پسند مصنفین برصغیر کی عظیم نو آبادی مخالف تحریک کے راحت آمیز جنون میں مبتلا ہو گئے۔انہوں نے اس زیر تعمیر نئے ملک کو اپنی ادبی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا۔ سیاسی رہنماؤں نے اس نئے ملک کو اپنے نظریاتی تجربات کا میدان سمجھا۔ نہایت کاریگری سے مخصوص قسم کا جمہوری طرزِ حکومت ایجاد کیا گیااورزبان و ثقافت کے اختلافات سے گندھا ہوا عقیدہ اختیار کیا گیا۔ وہ جن کے پاس بہت کم اسباب حیات تھے، انہوں نے اپنی بیل گاڑیاں لادیں اور اپنے کھیتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا۔جنہوں نے اپنے بستر گول کئے اور سفر شروع کر دیا وہ نامعلوم افراد کی جانب سے ممکنہ طور پرمسلط کئے جانے والے انجام سے بے پروا تھے، ان کے اپنے خواب تھے۔۔۔ نہایت پر امید انداز میں تخلیق کئے گئے خوشحالی اور معاشرتی زندگی کے دلکش، شاعرانہ اورپرلطف تصورات۔
جیسا کہ پاکستان حال ہی میں امکان سے حقیقت تک پہنچا ہے تو یہ ان تمام خوابوں اور تصورات کو روک کر رکھ سکتا ہے۔مکمل گھر کے یہ وسیع طور پر متنوع خواب ، سب کے سب اس کی نو تعمیر کردہ سرحدوں کے بیچ موجود ہیں۔ پاکستان ایک وعدہ تھااور اس کی ہنوز ناحاصل کردہ استعدادوں پر ہر شخص یقین کر سکتا ہے۔
ہماری موجودہ جنگوں اور ناقابل بیان تبدیلیوں میں سے انگنت ، انہی بے شمار وعدوں کے باہمی ٹکراؤ کا نتیجہ ہیں۔ یہ تمام وعدے ایک عرصہ تک اپنا وجوداکٹھے برقرار رکھے رہے لیکن اب اکٹھے رہنے کے خلاف فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ ماضی کے آئینوں کے وعدے ہیں جو موجودہ ترامیم کی تیاری و اضافے کے ذریعے ایک دوسرے کو دھکیل اور نکال رہے ہیں۔یہ قوم کے واحدتصور کی وہ یادیں ہیں کہ جنہیں ماضی کے رہنماؤں کے اقوال اور تحریروں اور یادداشتوں نے نمایاں کیا اور بعد کے دیگر رہنماؤں کے تصوراتِ قوم نے بھی ماضی کی کرچیوں کو تقویت بخشی۔
پھر ایک ایک کرکے، وہ جوقیام پاکستان کے وقت زندہ تھے،جب تخلیق پاکستان کا جادوئی لمحہ آیا تو انہیں وقت بہا کر دور لے گیا، اور ان کے ساتھ ہی ان کے الفاظ کی وہ سادہ سچائیاں ، جو یقینی اور معنی خیز تھیں، وہ بھی آسودۂ خاک ہو گئیں۔اس سب کے بعد، آج پاکستان متعدد خوابوں کا ایک میدان جنگ ہے اور متوازی وعدوں کا ایک میدان جنگ ہے، اور ان میں سے ہر ایک مکمل طور پر بے تاب اور پر جوش ہے۔
تاہم مسئلہ صرف مختلف اندازمیں یاد رکھے جانے والے وعدوں کے متضاد الفاظ یا ناقابل تبدیل تصورات کے خوفناک تصادم ہی کا نہیں ہے۔ وعدوں پر تعمیر کردہ قوم بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یقیناً، ہرقوم، حتی ٰکہ وہ بھی جو اپنے آپ کو ہمارے عہد کی مضبوط ترین، منظم ترین اور طاقتور ترین قوت کہتے ہیں، وہ بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وعدے نے تخلیق کے پہلے جرثومے کا کام کیا۔اپنی 67ویں سالگرہ کی شام بندگلیوں اور شہروں میں جمع ہجوم اور آمادۂ سفر مارچوں کے ساتھ،وعدوں سے متعلق پاکستان کا مسئلہ، اس کی یہ نااہلی نہیں کہ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ اس نے کس وعدے کو پورا کرنا ہے۔
اس کی بجائے ، یہ ہمارے سیاسی وجود میں ایک مخصوص درجے کا اضافہ ہے، وعدے کا وہ مقام کہ جس پر سب کچھ ممکن ہے، کچھ یقینی نہیں ہے اور ہر چیز کا فیصلہ جوش کرتا ہے۔یوں گلیوں میں جوش، انصاف کی ٹوٹ پھوٹ، ایک نئے وعدے سے منسلک ایک مختلف مستقبل کی ناقابل یقین کشش ہر بارکوشش کرتی ہے اور ماحول کو خراب کر دیتی ہے۔
بطور پاکستانی، ہم وعدوں پر یقین کر سکتے ہیں لیکن ہم ان کے حقیقت بننے کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے، یعنی راستے کا سطحی پن، جسے سودمند ثابت ہونا چاہئے اور جوش بیٹھ جانے کے بعد حاصل ہونے والے فرسودہ اور بے کار نتائج۔حتیٰ کہ وعدے کے الفاظ بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے، جن کے ساتھ بہت تسلسل کے ساتھ بحران جنم لیتے ہیں۔۔۔ جانثاروں کا ہجوم نمودار ہوتا ہے، ان کے نظریے پر رقوم خرچ کی جاتی ہیں اورتازہ ترین وعدے کے مطابق، کسی نئے کارنامے کی انجام دہی کے لئے جھنڈے بلند کئے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *