پاکستان میں ہیرا پھیری کی صحافت(حصہ پنجم )

کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، پھرکراچی میں ایک بارپاکستانی میڈیا کی دھنائی کی گئی ہے۔ماضی قریب میں بھی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں،جب میڈیا کی خاطر مدارت ہوئی،اس کے باوجود میڈیا میں بیٹھے اکثر کرایے کے صحافی نعرہ مستانہ بلند کرتے رہتے ہیں کہ میڈیا آزاد ہے۔کرایے کے صحافی اس تناظر میں کہا،یہ پرکشش پیکج دیکھ کر روزروز چینل بدل لینے والے صحافت سے نظریاتی وابستگی کادعویٰ بھی کرتے ہیں ،مگر وطیرہ خالصتاًکاروباری ہے ۔ ان کی اخلاقی جرات کو سلام ہے،جس طرح یہ ڈھٹائی سے اپنی دعویداری پر قائم رہتے اورمیڈیا کی آزادی کاغلغلہ بلند کرتے رہتے ہیں۔اس تناظر میں سب سے بڑی مثال ’’بول ‘‘چینل کی ہے،جس میں مختلف بولیوں پر یہ صحافی بھرتی ہوئے،پھرجب اس چینل کا چل چلاؤ ہوا،توان سب کرایے کے صحافیوں کاضمیر ایک ایک کرکے جاگااورانہوں نے وہاں سے نکلنے میں عافیت جانی۔
http://www.bolnetwork.com/

پاکستانی میڈیا کی منافقت کا تازہ مظاہرہ ۔۔۔!

حال ہی میں کراچی میں میڈیا کی ہونے والی دھنائی کے ذمے دار ان کی فہرست مرتب کی جائے ،توسب سے پہلانام بطورادارہ میڈیا کاہی آتاہے،کیونکہ انہوں نے اپنی دوکان پرمنفی نظریات اورخبروں کا وہ پرچارکیا، جس کااخلاقی طورپرکوئی جواز نہ تھا۔جن معاملات اورسرگرمیوں کی ان کو خبر تھی،ان کو ’’نامعلوم‘‘کے کھاتے میں ڈال کرکاروبارِ نشریات چلاتے رہے۔مختلف سانحات اورحادثات میں ذمے داران کانام لینے کی بجائے(پیشہ ورانہ طورپران کافرض تھا) غیر متاثر کن اصطلاحوں کااستعمال کیاجاتارہا۔جانبداری کا چورن بھی فروخت کرتے رہے،اب جو ذرا پہلو بدلنے کی کوشش کی توسودامہنگاپڑگیا۔برسوں کایارانہ ہے،ایسے تو ذراسی بات پر ٹوٹنے نہیں دیاجائے گا۔اسی لیے اب اس میڈیا کی خبر لی گئی(حیرت ہے ،اس مرتبہ نامعلوم کی اصطلاح بھی استعمال نہیں ہوئی) تویہ بلبلااٹھے،جب کراچی شہر میں ہزاروں آدمی مرتے رہے،پرتشددمظاہروں کادوردورہ رہا،تویہ میڈیا اصطلاحیں گھڑنے میں مگن تھا،اب آگ اپنے گھر تک پہنچی،توساری اصطلاح بازی ترک کرکے دلائل اورثبوتوں کی بات کررہاہے،ہائے رے میڈیاتیری یہ معصومانہ منافقت ۔۔۔

ایک تاریخ داں کاپاکستانی میڈیا کے بارے میں حقیقی تجزیہ۔۔۔!

پاکستان کے معروف تاریخ داں اوردانشورڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتاب’’پاکستانی معاشرہ ‘‘کے ایک باب’’پاکستان میڈیا‘‘کے متعلق اظہار خیال کوقلم بند کرتے ہواکہا۔’’یہ بھی ایک مفروضہ ہے کہ پاکستانی میڈیا آزاد ہے۔یہ اس لیے ممکن نہیں کہ جو اخبارات اورچینلز کے مالکان ہیں،ان کااپناایجنڈاہوتاہے،جسے میڈیا کے ذریعے پوراکیاجاتاہے، لہٰذا ایک حد تک یہ اپنی آزادی کا اظہار کرتے ہیں،مگر اس کے بعد پابندیوں کاشکار ہوجاتے ہیں۔اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا میں اب وہ لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں ،جن کااپنا کاروبار ہوتاہے۔میڈیا کے ذریعے ان کو تحفظ مل جاتاہے۔اس لیے پاکستان کے میڈیا سے یہ توقع کرنا کہ یہ معاشرے کی اصلاح کرے گایا فرسودہ روایات واقدار کے خلاف آوازاٹھائے گا،غلط فہمی ہے۔‘‘
ہم نے گزشتہ اقساط میں پاکستانی پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا میں ہونے والی تکنیکی غلطیوں کاجائزہ لیا،میڈیا کے غیرملکی ادارے،جوپاکستان میں کام کررہے ہیں ،ان کی خبرفروشی کابھی احاطہ کیا۔بحیثیت انسان ہم سب غلطی کے مرتکب ہوسکتے ہیں،جس کی معافی بھی ہے،مگروہ اقدامات جن کو دانستہ کیاجائے،اخلاقی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں،صد افسوس پاکستانی میڈیا کی مختصر تاریخ میں ان اخلاقی جرائم کی فہرست کافی طویل ہے،جس کووقت اورتاریخ اپنے ہاں محفوظ کررہے ہیں،ایک وقت آئے گا،جب ان تمام پہلوؤں کوضرور نئے سرے سے مکالمے کے لیے پیش کیاجائے گا۔

پاکستانی میڈیا کاسفید ہاتھی۔۔۔ریڈیو پاکستان !

یہ پاکستان کا وہ نشریاتی میڈیم ہے،ہمیں پاکستانی ہونے کے ناطے جس پرفخر رہاہے۔یہی وہ میڈیم ہے،جس کے ذریعے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی خبر ہم تک پہلی مرتبہ پہنچی تھی۔یہ وہی نشریاتی رابطہ ہے،جس نے عہدحاضر کی جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے پہلے نہ صرف باخبر رکھنے کافریضہ پوری تندہی سے انجام دیا،بلکہ ذوقِ سماعت کی تربیت بھی کی۔پاکستانی فنون لطیفہ کومحفوظ کیا۔اتنی شاندار تاریخ کے باوجود اس کی موجودہ صورتحال افسوسناک حد تک ابتر ہے۔زوال کے منفی اثرات ،جنہوں نے معاشرے کو لپیٹ میں لیا،یہ ادارہ بھی ان سے محفوظ نہ رہ سکا۔
اب ریڈیو پاکستان میں سب سے زیادہ جس کام کوانتہائی توجہ سے دل لگاکرانجام دیاجاتاہے،وہ سرکاری افسران (اس ادارے میں براڈ کاسٹر توکہیں دکھائی نہیں دیتا) کاایک دوسرے کی ٹانگ گھسیٹناہے۔ریڈیوپاکستان کے ملازمین کی اکثریت ایک دوسرے کی برائیوں میں اپنی توانائی خرچ کرتی نظرآتی ہے،ہر افسر خود کودوسرے سے بہتر،قابل اورحق پر سمجھتاہے،حقیقت یہ ہے ،اس رویے نے ریڈیوپاکستان کو ایک ایسے نشریاتی ڈربے میں بدل دیاہے،جس کوگھر کی مچان پر رکھ کر اب مکین بھولتے جارہے ہیں،مگرکبھی اس ادارے کے ان متعلقہ افسران سے اس پہلوپر بات کرنے کی کوشش کی جائے،تووہ ریڈیو پاکستان کی مقبولیت کے تناظر میں ردیف قافیہ ملانے میں پورازور صرف کردیں گے اورکرنا بھی چاہیے،آخر کار اس ادارے کے ملازم جو ٹھہرے،مگرسارازورزبانی جمع خرچ تک محدود ہے،عملی طورسے منظر نامے پر خاموشی ہے۔وہی گھسی پٹی نشریات اوربس۔
ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی اکثریت صرف فائلوں اورایئر ٹائم کاپیٹ بھرنے میں جتی ہوئی ہے۔اعلیٰ عہدوں پر براجمان ملازمین اپنی ترقی اور ٹرانسفرکے معاملات میں خاصے سرگرم رہتے ہیں۔دیگر ملازمین اپنی ملازمت کے تحفظ اوراگر کانٹریکٹ پر بھرتی ہیں ،تواس کی توسیع اوردیگر ذاتی مسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔وہ حضرات جن کانشریات سے براہ راست تعلق ہے،ان کے اپنے بقراطی مسائل ہیں،یہ بیان کرنا ممکن نہیں ،کچھ دن ریڈیو پاکستان پابندی سے سنیے،تمام باتوں کے تانے بانے سمجھ آجائیں گے۔
 http://urdu.radio.gov.pk/

ریڈیو پاکستان کارسالہ ’’آہنگ‘‘اورنالائقی کی داستانِ الف لیلیٰ!

پاکستان ٹیلی ویژن اورریڈیوپاکستان نے ماضی میں جب بھی کسی خاص موقع کی مناسبت سے کوئی کام کرنا ہوتاتھا،تواس کو نہایت باریک بینی سے ترتیب دیاجاتاتھا،یہی رویہ ریڈیو پاکستان کی واحد رسالے’’آہنگ‘‘کاتھا،مگر اب تواس رسالے کاحال بھی نہایت خستہ ہے۔بھلااب کوئی ریڈیو پاکستان والوں کو بھی بتائے گا کہ موسیقی پر کسی رسالے کا نمبر کیسے ترتیب دیاجاناچاہیے ،یا اس کے کیا اصول ہونے چاہییں۔رواں برس فروری میں ماہنامہ آہنگ کا’’گلوکارنمبر‘‘شایع کیاگیا،وہ نالائقی کی الف لیلیٰ ہے۔

4

ریڈیو پاکستان کے تحت شایع ہونے رسالے آہنگ کے مدیران’’ محبوب سرور ‘‘اور’’افشاں نگار‘‘کویہ علم نہیں،جب کسی رسالے کاخاص نمبرنکالاجاتاہے تواس کے کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں۔اس شمارے کو دیکھ کر صاف محسوس ہوتاہے ، صرف صفحات کاپیٹ بھراگیاہے۔اس شمارے میں اکثریت ایسے مضمون نگاروں کی ہے،جو ریڈیو پاکستان کے ملازمین ہیں ،یعنی باقاعدہ قلم کارنہیں ،مگرانہوں نے اس رسالے میں اپنا لکھنے کاشوق پوراکیاہے،اسی لیے کئی مضامین ناقص اورادھوری معلومات پربھی مبنی ہیں۔رسالے کے متن میں کوئی توازن نہیں،جواورجیسا کی بنیاد پر تحریری مواد شامل کرلیاگیاہے۔
گھرانوں کی موسیقی کے تناظر میں ،مدیران آہنگ کو سوائے پٹیالہ اور شام چوراسی کے کوئی اورگھرانہ دکھائی نہیں دیا۔بعض مضمون نگاروں کی دودوبلکہ تین تین تحریریں بھی ایک ہی شمارے کی زینت بنی ہیں،مثال کے طورپر ’’محمدحسین ‘‘نامی ایک مضمون نگارکانام دیکھاجاسکتاہے۔اسی طرح جب رسالے کوایک مخصوص موضوع پر نکالاگیاہے،تو اس کاتقاضا تھا، اس میں متعلقہ موضوع پر متن شامل ہوتا، گلوکارنمبر میں ادیبوں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں،وفاقی وزیر سمیت کئی طرح کی سرکاری سرگرمیاں تفصیل سے پیش کی گئی ہیں ۔
آرٹ پیپر پر چھپے اس رسالے پر دل کھول کرعوامی وسائل خرچ کیے گئے ،بلکہ یوں کہیں ضایع کیے گئے ہیں۔مختلف مضامین میں موسیقی کے شعبے کے لحاظ سے بھی تکنیکی غلطیاں ہیں،جیسا کہ رسالے کے سرورق پر اس خصوصی شمارے کو ’’گلوکارنمبر‘‘لکھاگیاجبکہ اداریے میں اس کو باربار’’گائیک نمبر‘‘لکھاہواہے،پھر’’خصوصی گزارش‘‘ کے عنوان سے مدیران کی طرف سے بین السطورمیں اپنی نالائقی کااعتراف بھی کیاگیاہے۔اس رسالے حصے میں ایک اوراعزاز یہ آیا ہے کہ مدیران آہنگ محبوب سرور اورافشاں نگار نے ریڈیوپاکستان کے لوگو،جس کو پاکستان کے معروف مصور ’’عبدالرحمن چغتائی‘‘نے ڈیزائن کیاتھا، انہوں نے اس لوگومیں بھی ترمیم کردی ہے-

1

2

3

یہ اجازت انہیں کس نے دی،وہ قومی سطح کی ایک مقبول شناخت رکھنے والے فنکارانہ کام میں ترمیم کریں؟( دونوں ہستیوں کا مصوری اورڈیزائننگ سے کوئی براہ راست تعلق بھی نہیں ہے)اس کاسوال ہنوز تشنہ ہے
 https://www.facebook.com/ahang.pbc?fref=ts
 https://en.wikipedia.org/wiki/Abdur_Rahman_Chughtai

مدیرانِ ’’آہنگ‘‘کی پیشہ ورانہ ترجیحات کے نمونے ۔۔۔!

رسالے کے متن میں بے شمار لفظی غلطیاں ہیں،جیسا کہ شمارے میں موسیقی کے ساتھ کہیں ’’کلاسیکی‘‘کا لاحقہ ہے توکہیں ’’کلاسیکل‘‘لفظ کااستعمال کیاگیاہے،کہیں ’’لوک‘‘ موسیقی لکھاگیاہے توکہیں اسی کو ’’فوک‘‘کہاگیاہے۔ایسا لگتاہے کہ مدیر نے تدوین کے فرائض انجام دینے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔استاد فتح علی خاں کا انٹرویو شایع کیاگیاہے،جن کا تعلق حیدرآباد(سندھ) سے ہے اوروہ موسیقی میں گوالیارگھرانے کے نمائندہ گائیک ہیں-

5

ملکی اوربین الاقوامی طورپر بھی ان کی شہرت ہے ،جبکہ اس رسالے میں تصویر پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کی لگادی گئی ہے۔اس بات سے مدیران کی قابلیت اور اس خصوصی شمارے میں دلچسپی کااندازہ لگالیجیے،مگراس کے باوجود کراچی اسٹیشن کے اسٹیشن ڈائریکٹر’’غلام قاسم کوثر‘‘اس کی اشاعت کے بعد رسالے کی مدیرہ کوتوصیفی خط لکھتے ہیں،جس کی نقل یہاں منسلک ہے،ملاحظہ کیجیے ،کس کس کو روئیں،آوے کاآوا ہی بگڑاہواہے۔۔۔

6

مختلف شہروں سے گلوکاروں کامختصر تعارف شایع کیاگیا،مگراس میں بھی کسی ترتیب کاخیال رکھنے کی سعی نہیں کی گئی،چلیں وہ نہ کرتے ،مگر یہاں بھی تکنیکی خامیوں کی بھرمار ہے،جیسا کہ ایک سرخی جمائی گئی’’کراچی کے معروف گلوکار‘‘اوراس میں استاد بندوخان کانام وتعارف بھی موجود ہے۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق استاد بندوخان گلوکار تھے؟اسی طرح نصرت فتح خان کے متعلق شامل کیے گئے مضمون میں ان کی ایک تصویر شامل کی گئی،جس میں وہ انڈین فنکاروں کے ہمراہ ہیں،ہمیں کوئی حیرت نہ ہوتی اس تصویر کودیکھ کر اگریہ رسالہ ریڈیوپاکستان کانہ ہوتایاپھر نصرت فتح علی خان کی دیگر تصاویر دستیاب نہ ہوتیں،بالائے ستم انہیں لوک موسیقی کے خانے میں شامل کررکھاہے۔پاپولر گائیک(لفظ پاپولرکامتبادل بھی مدیرآہنگ کومل نہ سکا)کے خانے میں صرف ایک ہی نام شامل کیاگیا،وہ نازیہ حسن کاہے،اب مدیرکوشاید خبر نہیں وہ پاپولرگائیک نہیں ہوسکتیں۔وہ گائیکہ تھیں،یاانہیں گلوکارہ کہہ لیں،مگرگائیک کہنے کی گنجائش توبالکل نہیں نکلتی،مگرآہنگ کاخصوصی شمارہ ہے،اس میں کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ریڈیوپاکستان کی سرگرمیوں کے عنوان سے رسالے کے خاصے صفحات رسمی کاروائیوں(انہیں چاپلوسی اورخوشامدی باب بھی کہاجاسکتاہے) کی نذر کردیاگیاہے۔یہ ایک سرکاری ادارے کے رسالے کی رودادہے۔ریڈیو پاکستان کے دیگر سپوتوں کی تفصیلات بھی ہوشربا ہیں،مگران کاتذکرہ فی الحال ممکن نہیں،تحریر طوالت کاشکارہوجائے گی۔ایف ایم چینل 101اوردیگر معاملات اس کے علاوہ ایک اورمضمون کے متقاضی ہیں،جن کاتذکرہ پھرکبھی سہی۔۔۔
 https://www.facebook.com/ahang.pbc/photos_all
 https://www.facebook.com/ahang.pbc?fref=ts

پاکستان کے ایف ایم چینلز کی کارکردگی کاایک عمومی جائزہ۔۔۔!

ایک اعزاز تو سب کے پاس ہے،انہوں نے ریڈیو کے اس تصور کوختم کیا،جس میں یہ سمجھاجاتاتھا کہ ریڈیو تربیت بھی کرتاہے۔اب ریڈیو کے اغراض ومقاصد صرف تفریحی ہیں۔خالصتاً کاروباری انداز میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کھولے جارہے ہیں،تفریح کے نام پر غل غپاڑہ عام ہے۔موسیقی میں انڈین اورپاکستانی گیتوں کی کوئی تخصیص نہیں،بلکہ انڈین گیتوں کاتناسب زیادہ ہے،جن کو آن ایئر نشر کیاجاتاہے۔ایف چینلز کے اس حمام میں سب ننگے ہیں،اس لیے ایک دوسرے پر خود سے کوئی بات نہیں کرتے،البتہ یہاں تذکرہ ان پہلوؤں کاہے،جو سامعین کے مشاہدے میں آئے،یابحیثیت براڈ کاسٹرمجھے اس طرح کے حالات کاتجربہ رہاہے۔
کراچی کے ایک ایف چینل103 سے ’’ساحرلودھی‘‘نام کے معروف اینکرپرسن نے کئی برس ایک شو کیااوراخلاقیات کی دھجیاں اڑادیں۔نہ جانے وہ شخص انڈین اداکار شاہ رخ بننے کے زعم میں کس طرح مبتلا ہوا،یاکسی نے کیااوریا پھر اس نے یہ روپ جان بوجھ کر دھارا،تاکہ اس اداکار کی عوامی مقبولیت کو اپنے حق میں استعما ل کرسکے،مگر اس کاسب سے بھیانک نتیجہ یہ نکلا،وہ ریڈیو پرشاہ رخ خان کی فلموں کے مکالموں سے پوری پوری فلمیں دھرانے لگا،نوعمر اورکم شعور سامعین بھی اس کومل گئے،اس نے کئی برس اس چینل سے فلمی دھماچوکڑی مچائی،جس کو بیان کرنا ممکن نہیں،جنہوں نے سنا،وہ ہی اس کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
اسی طرح ایف ایم 105سے نوجوان نسل کی ایک مقبول جوڑی’’مانی اوراظفر‘‘نے ایک لیٹ نائٹ شو کیا،اس میں فٹ پاتھیہ زبان کومتعارف کروایا،ریڈیو سے جڑی تہذیب اور شائستگی کی تمام روایات کو رونددیا،مگرچونکہ ہمارے ہاں بیہودگی کو بھی بہت توجہ ملتی ہے،چاہے اس کی شکل صوتی ہویابصری،تو اس لیے جب تک اس کی بھی ریٹنگ بلندوبالا رہی،وہ چلتارہا،کسی کواس سے مطلب نہیں تھا،رات کے پچھلے پہر میں کس طرح نوجوان نسل کے دماغ کی فکری تکہ بوٹی کی جارہی ہے۔وطن پرستی ،اخلاقیات ،تہذیب وتمدن اوراس طرح کے دیگر الفاظ سوشل میڈیا کی ماہر،اعلیٰ جامعات سے انگریزی میڈیم میں پڑھنے والی نوجوان نسل کی اکثریت کے کام کے نہیں ،میڈیم کلاس کے نوجوان ویسے گلیمر کے مارے ہیں،وہ اس کے اثرات سے باہر نکلیں ،توسوچیں ،اس کے نقصانات کیاہوسکتے ہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ مزید کئی ایف ایم چینلز کااضافہ ہوچکاہے اوران بدتمیزیوں کابھی،جن کایہاں تذکرہ ہورہاہے،ایسا نہیں ہے،یہ سب ایف ایم چینلز ابتدا سے ہی خراب تھے،ہم نے انہی چینلز پر اچھی اورمہذیب آوازوں کو بھی سنا،جن میں آصف غزالی اورخلیل اللہ فاروقی جیسی مبہوت کردینے والی آوازیں شامل ہیں،مگراب منظرنامہ کافی حد تک ویران ہے۔ایف ایم 101سے عاصم بشیر،ایف ایم 105سے رضوان زیدی،ایف ایم 100سے اجمل شوبی اوردیگر چند ناموں کو چھوڑ مجھے تو کوئی ایسی آواز سنائی نہیں دیتی،جس کو براڈکاسٹر کے معیار پر رکھاجاسکے۔اودھم مچالینے کی صلاحیت کو براڈ کاسٹنگ کانام نہیں دیاجاسکتا۔
 https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_radio_channels_in_Pakistan

جامعات کے ایف ایم چینلز۔۔۔!

جامعہ کراچی سمیت مختلف نجی جامعات نے بھی اپنے ایف ایم چینلز کی محدود نشریات کا آغاز کیا،مثلاً شہید ذوالفقارعلی بھٹوانسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ ہے یااوراسی طرح کی دیگر نجی جامعات ہیں،لیکن وہاں براڈکاسٹنگ کے تناظر میں سنجیدہ کام نہیں ہوسکتا،کیونکہ وہ طالب علموں کوسکھانے کے لیے کھولے گئے ایف ایم چینلز ہیں،جن کی نشریات کاپیمانہ بھی محدود ہے۔دیکھایہ گیاہے کہ محدود پیمانے پر بھی ریڈیو اپناجادوجگاسکتاہے یایوں کہہ لیں ،ا س سے فروغ نظریات کا کام لیاجاسکتاہے،اس میڈیم کی ایک منفی مگر اہم مثال طالبان کی ہے،جنہوں نے پختون خوامیں اس میڈیم سے اپنے منفی مقاصد حاصل کرنے کاتجربہ کیا۔جامعات کے طالب علم جن کاتعلق میڈیا اسٹڈیز سے ہے،اگروہ اس میڈیم کو سنجیدہ لیں،تو شاید اس کامسقبل سنورسکتاہے اورریڈیو کی حقیقی سروس کو واپس لایاجاسکتاہے،جس کے ذریعے سامعین کو باخبر رکھاجاتاہے اورتفریح کے ساتھ تربیت کے عمل سے گزاراجاتاہے۔
 http://zabfm.org/
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *