ایک ستارے کے لئے ستارہ امتیاز

Alia Shah

میں نے یہ خبر سنی کہ تارڑ صاحب کو اعلی ترین اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ہے تو فورا ان کو مبارکباد کا پیغام واٹس ایپ کیا یہ سوچے بنا کہ برسوں ہو گئے ان سے ملاقات ہوئے نہ جانے وہ جواب دیں گے یا نہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد تارڑ صاحب کا جواب بھی موصول ہو گیا
(It is just a piece of worthless matle but your message makes it golden)
ایک ایسا انسان جس کے نزدیک کتابوں سے عشق، انسانوں سے محبت اور اس دھرتی کے دلکش قدرتی نظاروں سے بڑھ کر کوئی چیز نہ ہو۔ اس سے ایسے ہی جواب کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تارڑ صاحب نے ساری زندگی انسانوں کی محبتیں جمع کیں نہ وہ کبھی پیسے کے پیچھے بھاگے نہ ہی تمغوں اور اعزازات کے۔ وہ ایک ایسا قراقرم ہیں جس کی مٹی علم اور محبت کی چاشنی سے گندھی ہے۔
تارڑ صاحب سے پہلی ملاقات برسوں پہلے اس وقت ہوئی جب مجھے ان کے ساتھ جیو ٹی وی کے مقبول ترین پروگرام کی میزبانی کے فرائض ادا کرنے لئے منتخب کیا گیا۔ لوگوں کی زبانی سن رکھا تھا کہ تارڑ صاحب میں ( میں ) بہت زیادہ ہے۔ ہم میں بھی اس وقت فوں فاں کچھ کم نہ تھی۔ گورنمنٹ کالج سے تازہ تازہ فارغ التحصیل تھے۔ آنکھیں ماتھے پر اور پاوں آسمان پر تھے۔ سو اس زعم میں ہم بھی تمام اوزار تیز کر چکے تھے۔ لیکن ہم یہ اوزار اس لئے استعمال نہ کر پائے کہ تارڑ صاحب کی مسکراہٹ اور شرارتی ہنسی تیز سے تیز دھار آلے کو کند کرنے کے لئے کافی تھی۔ وہ جگت لگانے کے انتہائی ماہر ہیں اور شرارت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ تارڑ صاحب اردو، انگریزی انتہائی شستہ بولتے ہیں لیکن پنجابی پر ان کو ملکہ حاصل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ صبح صبح اٹھ کر اگر ایک گھنٹہ پنجابی نہ بولی جائے تو قبض ہو جاتا ہے۔ اور منڈی بہاالدین کے بندے کو اردو بولتے دیکھ کر تو ان سے برداشت نہیں ہوتا۔ فورا بولتے ہیں ( اوے تو منڈی بہاالدین دا ایں؟ ہاں وہیں کا ہوں۔ اس کا جواب ہوتا۔ اچھا تے فیر پنجابی کیوں نئیں بولدا۔ تارڑ صاحب کہتے۔ زبان سے یہ محبت ان کی تحریروں میں بھی نظر آتی ہے۔ بہاو، راکھ یا ان کے دیگر ناولوں اور افسانوں میں اپنی دھرتی، مٹی، زبان اور کلچر سے محبت کا یہ انداز جا بجا نظر آتا ہے۔ تارڑ صاحب بطور لکھاری عالمی ادب کے بہترین مصنفین میں شمار ہو چکے ہیں۔ ان کے ناولوں کو پوری دنیا کے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
تارڑ صاحب زمین سے جڑے ہوئے انسان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور خوبصورت خواتین کی ایک بڑی تعداد ان کے اس فین کلب میں شامل ہے۔ آپ تارڑ صاحب سے ملنا چاہیں تو منہ اندھیرے، منہ اٹھا کر لاہور کے ماڈل ٹاون پارک چلے جائیں۔وہ گزشتہ بیس برس سے بلاناغہ واک کے لئے آتے ہیں۔ پارک میں پہنچ کر کسی بھی حسینہ سے ان کا پتہ پوچھ لیں وہ آپ کو تکیہ تارڑ تک پہنچا دے گی۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی جناب۔ آپ ملک سے باہر ہوں تب بھی تارڑ صاحب کے مداحین قطار اندر قطار اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن پہنے ان کی جانب لپکتے نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے پروگرامز کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں دبئی گئے تو اندازہ ہوا کہ وہاں پر چلنے والی تمام ٹیکسیاں دراصل تارڑ صاحب نے ٹھیکے پر لے رکھی ہیں ۔شاید اس لئے کہ وہاں ٹیکسی چلانے والے بیشتر لوگوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ہمارے پورے کرو crew کو مفت سفر کی سہولت مل گئی ۔ ہم جس سڑک پر ٹیکسی کے لئے نکلتے ٹیکسی والے کی بتیسی تارڑ صاحب کو دیکھتے ہی باہر نکل آتی۔ بس پھر کیا ہوتا پورے سفر کے دوران ٹیکسی والے تارڑ صاحب سے یوں محو گفتگو رہتے جیسے ان کے فرسٹ کزن ہوں۔ تارڑ صاحب بھی پنجابی زبان کے خوب تڑکے لگاتے اور منزل پر پہنچتے ہی ٹیکسی ڈرائیورز کرایہ لینے سے انکار کر دیتے۔ ہزار سمجھانے کے باوجود کہ بھائی آپ کی خون پسینے کی کمائی ہے براہ کرم یوں نہ کیجئیے اور ہم سے کرایہ لے لیجئے۔ لیکن مجال ہے پورے ٹرپ کے دوران کسی ٹیکسی نے بغیر کسی تمہید ، لمبی گفت و شنید اور ہزار ہا درخواستوں کے ہم سے کرایہ لیا ہو۔ یہ صورتحال دیکھ کر ہم سب یہ پلان بنانے لگے کہ کیوں نہ تارڑ صاحب کے ساتھ کسی مہنگے ملک سیر کو چلا جائے ۔جہاں ٹیکسی افورڈ کرنا مشکل ہو۔اور ہم تارڑ صاحب کے صدقے میں پورے ملک کی مفت میں سیر کر لیں۔ بس پھر کیا تھا چینل سے فرمائش کی گئی کہ اب کے بار ریکارڈنگ کے لئے ہمارا عملہ امریکہ جانے کی خواہش رکھتا ہے۔
دبئی میں جس طرف بھی نکل جاتے تارڑ صاحب کے چاہنے والے کسی گلی کسی دکان یا کسی ریسٹورنٹ سے نمودار ہو تے اور پھر کم از کم آدھ گھنٹے تک ہمیں شستہ پنجابی اور اردو سننے کو ملتی ۔ وادی شمشال سے لے کر رتی گلی تک قصوں کا دور چلتا۔ اور ہماری شاپنگ کے پلان کا دھڑن تختہ ہوجاتا۔ لیکن تارڑ صاحب اپنی شاپنگ کو کبھی ادھورا نہ چھوڑتے۔ کلاک کا جوتا لینا ہو ، مارک اینڈ سپنسر کا سوٹ یا پاکستان لے جانے کے لئے بیمبو Bamboo کا پودا۔ تارڑ صاحب کی خریداری کی خاطر ہم نے پورے دبئی کی خاک چھان ڈالی۔ لیکن کسی کو تھکن محسوس نہ ہوئی۔ کیونکہ تارڑ صاحب کے قصے اور لطیفے کسی کو بور نہ ہونے دیتے۔
کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ پورا پاکستان ان کا دوست ہے۔ ماڈل ٹاون پارک سے لے کر ان کے گلبرگ والے پرانے گھر ( جو اب ان کا نہیں رہا) اورنئے گھر سے لے کر لکشمی تک آپ جہاں نکل جائیں لوگ تارڑ صاحب کی جانب لپکتے ہیں۔آج کل بندہ ذرا سا معروف ہو جائے تو چار پانچ پلاٹ تو آسانی سے اپنے نام کرا لیتا ہے۔ تارڑ صاحب اپنے ایک گھر کی تعمیر پر ہی خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ وہ ایک انتہائی شاہانہ زندگی بسر کر سکتے تھے۔ بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو سکتے تھے۔ کسی بھی ٹاپ کلاس چینل کے ساتھ بھاری بھرکم معاوضے پر وابستہ ہو سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے تمام عہدوں اور بھاری بھرکم رقموں کو ٹھوکر مار کرایک سیاح ایک آوارہ گرد ایک سادھو ایک لکھاری اور ایک درویش کا روپ دھارا اور وہ محبتیں سمیٹیں جو کم کم کو نصیب ہوتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *