جعلی جمہوریت اور’’ حقیقی‘‘ انقلاب

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

پاکستان میں دو نعر ے بہت مقبو ل ہیں ،پہلا،اس ملک میں جعلی جمہوریت ہے ،یہاں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے تمام اداروں کو زنگ لگ چکا ہے، ملک میں موروثی سیاست ہے ،عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں،اوپر سے لے کر نیچے تک سب کرپٹ ہیں ، پور ا نظام ناکارہ ہو چکا ہے ، جعلی ووٹوں کے ذریعے حکومت بنتی ہے ، عوام کا مینڈیٹ چرا لیا جاتا ہے ، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، پارلیمانی کمیٹیاں ‘ ٹرائبیونلز ،احتساب کرنے کے ادارے، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ، سروے کرنے والے نجی ادارے ، میڈیا میں کام کرنے والے …ان میں سے کوئی بھی قابل اعتماد نہیں ۔دوسرا نعرہ، جب تک ملک کا یہ فرسودہ نظام لپیٹ کر حقیقی انقلاب نہیں لایا جاتا لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ،انقلاب لانے کے لئے ضروری ہے کہ جو نقش کہن نظر آئے اسے مٹا دیا جائے ،پورے سسٹم کو انسانی خون سے غسل دیا جائے اور غسل دینے والا ایسا مسیحا ہو جس کی ایمانداری اور راست بازی کی گواہی عالم بالا سے فرشتے زمین پرآ کر دیں ،وہ اس ملک کی تقدیر یوں سنوار دے جیسے بھلے وقتوں میں رحم دل مگر جنگجو بادشاہ آس پاس کی ریاستوں پر حملہ کرکے خزانے لوٹتے تھے اور پھر اس دولت کو اپنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے تھے (کم از کم کہانیوں میں ہم نے یہی پڑھا ہے)۔یہ دونوںبیانئے اس قدر دلفریب ہیں کہ اگر انہیں ملا کر پڑھا جائے تو دگنا مزہ دیتے ہیں،سادہ لوح عوام کو ان نعرو ں میں اس قدر سچائی نظر آتی ہے کہ جو شخص بھی انہیں یہ سبز باغ دکھاتا ہے وہ منہ اٹھا کر اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور پھر 5جولائی 1977یا 12اکتوبر1999کا تحفہ لے کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہاں پانچ باتو ں کا تعین کرنا ضروری ہے۔ پہلی، نظام کی تبدیلی کے نعرے میں اس قدر کشش کیوں ہے، دوسری ،جو لوگ انقلاب کے داعی ہیں ان کا اپنا کردار کیا ہے۔ تیسری ،کیا دنیا میں کہیں نظام کی تبدیلی ایسے ہوئی ہے جیسے ہم خواہش کرتے ہیں ۔چوتھی ،تاریخ میں قوموں نے نام نہاد انقلابات کی کیا قیمت ادا کی ہے اور پانچویں، ہمارے پاس کیا آپشن موجود ہے ؟
ہر چند سال بعد ملک میں نظام کی تبدیلی کا نعرہ اس لئے دل لبھاتا ہے کیونکہ حکومتیں عوام کے مسائل دور کرنے میں ناکام رہتی ہیں ،سرکاری اداروں میںکوئی ڈھنگ کا کام نہیں ہوتا ، بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات میں بھی صداقت ہے ، ایک شریف آدمی جس کے پاس کوئی سفارش ہے نہ پیسہ، وہ اس نظام میں پس کر رہ جاتا ہے ،الٹا یہ نظام طاقتور اور با اثر شخص کی مدد کرتا ہے ،یہاںقانون کی پاسداری کرنے والا نقصان اٹھاتا ہے جبکہ آئین توڑنے والا پورے طمطراق کے ساتھ پروٹوکول میں گھومتا ہے۔ نظام کی ناکامی کی بھی تین وجوہات ہیں پہلی ،آمریت جو آدھی تاریخ اور آدھا ملک کھا گئی ‘دوسری منتخب حکومتوں کو غیر آئینی طریقے سے ہٹانا۔مثلا ً جب بھی کسی منتخب حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ہٹایا جاتا ہے تو عوام کو دس پندرہ برس بعد ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے،اس وقت عوام حکومت کی کارکردگی کی بنا پر ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے لیڈر کی مظلومیت کو ووٹ دیتے ہیں کیونکہ اس دوران ان کا لیڈر پھانسی ، جلا وطنی یا جیل کاٹ چکا ہوتا ہے ۔پاکستان میں پہلی مرتبہ کارکردگی کی بنا پر گزشتہ برس کے انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے وگرنہ ہمیشہ انتخابات میں مظلومیت کا ووٹ کلیدی کردار ادا کرتا تھا،یہی وجہ ہے کہ جب انتخابات مظلومیت پر لڑے جاتے ہیں تو اس بنیاد پر قائم ہونے والی حکومتیں کارکردگی نہیں دکھا پاتیں ۔جس دن ہم نے چار پانچ حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر چلتا کیا ، اس دن جعلی جمہوریت کا یہ نعرہ اپنے آپ دم توڑ جائے گا ، مگر ہنوز دلی دور است!
ا س نعرے میں کشش کی تیسری وجہ پروپیگنڈہ ہے۔ دن رات ہم اپنے ملک کے نظام کو ڈس کریڈٹ کرنے میں مصروف رہتے ہیں، میڈیا پر دہشت گردی کی براہ راست کوریج تو کی جاتی ہے مگر جب کبھی دہشت پکڑے جاتے ہیںتو اس کی خبر ’’پولیس نے دعویٰ کیا ہے‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور ڈیڑھ منٹ میں ختم ہو جاتی ہے ۔یہاں لاکھوں نہیں تو ہزاروں ہنر مند نوجوان ایسے ہیں جنہیں کسی قسم کی سفارش اور پیسے کے بغیر نوکری ملی اور وہ اسی فرسودہ نظام میں ایک کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں مگر ہمارا دھیان اس شہ سرخی کی طرف جاتا ہے جس میں عدالت کسی حکومتی تقرری کو کالعدم قرار دیتی ہے ،یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ عدالت کا یہ حکم بھی نظام کے کام کرنے کا ایک عملی نمونہ ہے ۔اسی نظام میں صوبیدار کا بیٹا آرمی چیف بنتا ہے، سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے والے گریڈ بائیس تک پہنچتے ہیں ،دس ہزار روپوں سے کاروبار شروع کرنے والے کروڑ پتی بنتے ہیں اور پانچ مرلے کے گھروں میں رہنے والے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے ہیں‘اسی نظام میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کارروائی کی سفارش کرتی ہے ‘اسی نظام میں سپریم کورٹ کا سترہ رکنی بنچ 31جولائی 2009کو پی سی او ججوں سے متعلق ایک تاریخ ساز فیصلہ سناتا ہے ‘اسی نظام میں دنیا کے بہترین بینک پاکستان میں کام کر رہے ہیں ‘اسی نظام میں وفاقی اور صوبائی سطح پر محتسب کے ادارے قائم ہیں جہاں سے لاکھوں سائل اپنے مسائل حل کرواتے ہیں۔ جی ہاں‘ وہ تمام خرابیاں جن کا میڈیا میں ذکر کیا جاتا ہے ‘جن کا رونا ہم دن رات روتے ہیں اور جس کی وجہ سے ہمیں نظام میں تبدیلی کا نعرہ دلفریب لگتا ہے، چپّے چپّے پر موجود ہیں، کم سن بچیوں کے ریپ ہوتے ہیں، دن دیہاڑے ڈکیتیاں ہوتی ہیں، ٹارگٹ کلنگ میں لوگ مارے جاتے ہیں ، عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، سیٹھ کمپنیوں میں ملازمت کے نام پر بیگار لی جاتی ہے …یہ فہرست جتنی چاہیں طویل کر لیں مگر ان میں سے کچھ کم اور کچھ زیادہ باتیں ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک میں ہی مل جائیں گی مگر وہاں ان کو بنیاد بنا کر کوئی خونی انقلاب کی بات نہیں کرتا۔کیونکہ ان ممالک نے یہ طے کر لیا ہے کہ انہیں اسی نظام میں رہ کر مسائل کے اس انبار سے نمٹنا ہے جس نظام کو دنیا سینکڑوں سال قبل اپنا چکی ہے جبکہ ہم ابھی تک اس نظام کی الف ب پ ہی پڑھ رہے ہیں۔
ایک منٹ کے لئے فرض کر لیں کہ نظام کے خلاف ہماری یہ چارج شیٹ درست ہے اور اب تبدیلی کسی نام نہاد انقلاب کے ذریعے ہی لائی جا سکتی ہے تو دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس انقلاب کے داعی ہیں ان کے اپنے کردارو اعمال کیسے ہیں، آیا وہ اس چھلنی میں سے خود گزرسکتے ہیں جس سے وہ دوسروں کو گزارنا چاہتے ہیں۔یہ فیصلہ کرنے کے لئے آپ کو ان لیڈران کے رخ زیبا کا معائنہ کسی خورد بین سے کرنے کی ضرورت نہیں ‘روز روشن کی طرح ان کا کردار سب پر عیاں ہے ‘سچ بات تو یہ ہے کہ اگر اس ملک میں کسی قسم کا انقلا ب آنا ضروری ہے تو وہ خود ان لوگوں کے خلاف آنا چاہئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انقلاب اور تبدیلی کے داعی اس نظام کے خلاف سب سے بڑا الزام یہ لگاتے ہیں کہ یہاں چند خاندانوں کی حکومت ہے ، عہدوں کی بندر بانٹ ہے ، موروثی سیاست ہے وغیرہ وغیرہ۔جبکہ اس کے مقابلے میں ان کی اپنی تاریخ آمر کی حمایت کرنے کی ہے ، لولی لنگڑی جمہوریت میں تو عہدوں کی بندر بانٹ پر عدالت سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے اور عدالت اسے ختم کرنے کے احکامات بھی جار ی کرتی ہے مگر انقلاب کے یہ چیمپئن جب آمریت کی گود میں بیٹھے تھے اس وقت عہدے نوازنے کا ٹھیکہ کیا کسی بین الاقوامی فرم کے حوالے تھا؟موروثی سیاست پر لعنت مگر انقلاب کے یہ شیدائی بتائیں کہ چند خاندانوں کے مقابلے میں انہیں ایک شخص کی حکمرانی کس کلیے کے تحت قبول ہوتی ہے؟یقیناًیہ اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔(جاری ہے)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *