آئینی نظام کو خطرہ؟

بابر ستارbabar sattar

ایک بدقسمت فیصلے میں، جو زیادہ توجہ سے محروم رہا، لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو اپنے مارچوں سے منع کر دیا۔ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ عدالت سیاسی جنگل میں کودنے کی بجائے گریز کی حکمت عملی اختیار کرے۔ یہ سیاسی سوالات کا جواب دینے کے اصول کو استعمال کر سکتی تھی اور یہ مؤقف اختیار کر سکتی تھی کہ وہ معاملات جو خالصتاً سیاسی ہیں، ان کا انتظامیہ یا آئین سازوں کی جانب سے حل کیا جانازیادہ بہتر ہے۔یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ درخواست ادھوری تھی، اور اس کی بنیاد پر یہ فرض نہیں کیا جا سکتا تھا کہ پی ٹی آئی اور پیٹ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے غیرقانونی طریقے استعمال کریں گی۔
فیصلے یا نتیجے سے قطع نظر، عدالت کی پیش کردہ وجوہات یا دلائل بھی غیردلکش یا مایوس کن ہیں۔ ایک عدالت کو وزیر اعظم کا استعفیٰ لینے، پارلیمان کو توڑنے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیلِ نواور ٹیکنوکریٹس کی عبوری حکومت بنانے جیسے غیر آئینی مطالبات کو قانونی طور پر ایک کیس دائر کرنے کے قابل ہی کیوں قرار دینا چاہئے؟ کیا ایک عدالت قبل از وقت یہ نشاندہی کر سکتی ہے کہ ایک سیاسی جماعت حکومت کو مشکل میں ڈالنے کے لئے اخلاقی دباؤکواستعمال کرنے کے لئے رائے عامہ کا اظہار کرنے کے برخلاف، اپنے مطالبات پر عملدرآمد کرانے کے لئے طاقت یا تشدد کو استعمال کرے گی؟
ہمارا آئین اور قوانین وہ سیاسی دستاویزات ہیں جو ایک سیاسی عمل کا نتیجہ ہیں۔ وہ کون سے قوانین ہیں جوشہریوں کو کارکردگی میں کمی یا اخلاقی اتھارٹی کھو بیٹھنے والے ایک عوامی عہدیدار سے استعفیٰ مانگنے سے روکتے ہیں؟کیاپارلیمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نوکرنے کیلئے ایک آئینی ترمیم کا اعلان نہیں کر سکتی؟ کیا حکومت اور اپوزیشن ماہرین کی ایک عبوری حکومت نامزد کرنے کیلئے مل کر نہیں بیٹھ سکتے؟
عبوری حکم میں یہ قرار دیا گیا کہ ’’یوم آزادی کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے، غیر آئینی‘‘ مارچ نہیں کئے جانے چاہیں۔کیا عدالتی فیصلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عدالتوں کو سیاسی دلائل پر بھروسہ کرنا چاہئے؟کیا آئین کہتا ہے کہ حرکت کرنے، جمع ہونے، منظم ہونے اور تقریر کرنے کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کو 14اگست جیسے مقدس دنوں پر معطل رہنا ہو گا؟ اور’’ مستقبل‘‘ کے مارچوں میں حقوق کی ’’ممکنہ‘‘ پامالی پر خصوصی توجہ کیوں؟اور حکومت کی جانب سے، اس کے جابرانہ طرزعمل (رکاوٹیں، گرفتاریاں وغیرہ)کے سبب، حقوق کی پامالی پر توجہ کیوں نہیں؟
لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے مقابلے میں، سپریم کورٹ کا جاری کردہ عبوری حکم نہایت نپا تُلا ہے۔ اس نے ریاستی اداروں کو حکم دیا ہے کہ ’’صرف آئین اور قانون کے مطابق عمل کریں‘‘ اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام وفاق کیس میں وضاحت سے بیان کردہ آئین اور قانون کے اصولوں سے رہنمائی لی جائے‘‘۔ یہاں، یوں لگتا ہے کہ سیاسی مخالفین میں سے کسی کا ساتھ دینے کی بجائے، سیاسی بحران کے اس دور میں بنیادی توجہ، آئینی حکم کی حفاظت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
لیکن بات صرف اتنی ہے کہ عدالت عالیہ آئینی حکم کی حفاظت کیلئے کام کر سکتی ہے۔سیاسی اداکاروں (اسلام آبادکے پہاڑوں جتنے پرانے)کا نیا ’’انقلابی‘‘ جوش، اس بات کی یقین دہانی ہے کہ پاکستان میں سیاسی نظام اور تبدیلی کیلئے بنیادی روایت یا اصول،’’ مصلحت ‘‘ہے۔ ایسے زمانوں میں، یہ دعویٰ کہ جمہوریت اب ہمارے معاشرے کے سول اور فوجی حصوں میں بھرپور حمایت حاصل کرکے اپنی جڑیں مضبوط بنا چکی ہے، ایک خوش فہمی معلوم ہوتا ہے۔
وہ خدشات جو ہمیں لاہور ہائی کورٹ کے غلط فہمی کی بنیاد پر جاری کردہ حکم یا عدالت عالیہ کے دانشمندانہ حکم سے لاحق ہو رہے ہیں، وہ کسی خام خیالی کا نتیجہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اور آئینی حکم ناکام ہو جاتے ہیں اورانہیں ابھی پرداخت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست خود اس کو بد حواس کر رہی ہے۔ یہ سیاسی دشمنوں کی پر امن بقائے باہمی کے لئے بہت کم جگہ چھوڑتے ہوئے، نہ صرف پاکستان میں از سر نو 90کی دہائی میں دیکھا جانے والا تقسیم کا ماحول اور سیاسی دشمنیاں تخلیق کر رہی ہے بلکہ پاکستان میں کسی تبدیلی کو وقوع پذیر کرنے کے لئے قائم کردہ عظیم ریاستی اداروں کے کردار کو غیرقانونی قرار دینے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ موجود آئینی نظام کے اندر رہتے ہوئے ایک قابل اطلاق سیاسی حل کے لئے گنجائش نہ ہونے کے برابر بچتی ہے۔یک طرفہ جھکاؤ کی حامل وہ تحریک، جس کی پی ٹی آئی قیادت کر رہی ہے، وہ اس کے ان حامیوں کے سوا کسی بھی دوسرے کو قائل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کہ جومخالف جماعت کی اکثریتی حکومت کو انقلابی تبدیلی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی مجموعی طور پرسیاسی طبقے کے خلاف عوام کے غصے میں شدت پیداکر رہی ہے اور اس شرانگیز تصور کو طاقتور بنا رہی ہے کہ ہم بطور قوم جمہوریت کے لئے نااہل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *