امریکی کتا اور پاکستانی عوام

saqib

یہ خبر شاید آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ، امریکہ میں پولیس کے کتے کو قتل کرنے کے جرم میں ایک امریکی نوجوان کو 45 برس کی قید سنا دی گئی ہے. نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے پاکستان سے موازانہ کریں تو دل چاہتا ہے کپڑے پھاڑ کہیں مجذوب بن کر ویرانوں میں نکل جائیں. جس ملک میں سڑکوں پر بچے مارے جاتے ہوں، بے گناہوں کا خون غلیظ پانی سے بھی سستا ہو اور اسی ملک میں عامر لیاقت جیسا دوغلا بیک وقت مذہبی عالم، فنکار، کالم نگار اور سیاست دان ہو اور سب میں اسٹار اور سپر سٹار ہو تو وہاں ماتم کدہ ہمالیہ کی بلندیوں پر ہونا چاہیے جہاں سے مظلوموں کی چیخیں جلد سے جلد ساتویں آسمان تک پہنچ سکیں.جہاں جنید جمشید بیک وقت میزبان و مبلغ ہو سادگی کے درس ہزاروں لاکھوں کے برینڈڈ اشیاء کے جھرمٹ میں دیتا ہو اور اپنی دکان پر ناجائز منافع خوری کی حدیں پھاڑتا ہو وہاں انصاف کا تقاضا نہیں کرنا چاہیے وہاں انصاف کے لئے لڑنا چاہئے، وہاں انصاف کے لئے مرنا چاہئے، وہاں انصاف کے لئے کٹنا چاہئے.جہاں نسلوں کی نسلیں زمینوں کے کیس بھگتتے بھگتتے جوتیاں چٹخاتی پھرتی ہیں نہ فیصلہ ملتا اور نہ انھیں عقل. وہاں عدل و انصاف کی مثالیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دینا، نعوذ باللہ حضرت عمر کو روحانی اذیت دینے کے برابر ہے. انصاف چاہتے ہیں تو ایک دوسرے کو انصاف دینا سیکھیں اور پھر انصاف دلوانا سیکھیں پھر انصاف کروانا سیکھیں، پھر انصاف پر عمل کروانا سیکھیں ورنہ اگلی کئی صدیاں بھی کسی شریف فیملی کسی بھٹو فیملی اور کسی مسیحا جرنیل یا کسی پاگل خان کی حماقتوں اور صالحین کی جاہلیت کی نذر ہوجائیں گی.ابھی کچھ لوگ عافیہ صدیقی کا کیس لیکر آجائیں گے. پھر کچھ لوگ انکے جیلوں کے حالات لیکر آجائیں گے. کچھ امریکہ کے جاپان پر ایٹم بم کا رونا لیکر پہنچ جائیں گے، افغانستان اور عراق میں بے گناہوں کی شہادت کا ماتم شروع کر دینگے مقصد اپنی غلاظت کو چھپا کر دوسروں کا گند نمایاں کرنا ہوتا ہے. ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ مسلمان ہم ہیں یا امریکہ والے؟ قرآن انکے پاس ہے یا ہمارے پاس؟ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہمارے پاس بطور نمونہ ہیں یا انکے پاس؟

گریبان ہمارا ہے یا انکا؟

Saqib Malik

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *