خودشکنی

محمد طاہرM tahir

’’چونکہ لیڈر مصروف ہوتا ہے، چونکہ اُس میں زبردست انا پائی جاتی ہے، چونکہ
وہ کسی دوسرے کی مداخلت اور کج روئیاں ناپسند کرتا ہے، چونکہ وہ اپنے آپ کو
اعلیٰ ترین سمجھتا ہے۔اس لئے وہ اُن لوگوں کے سامنے بے صبری کا مظاہرہ کرتا
ہے جنہیں اپنے سے کم تر جانتا ہے۔‘‘
کیارچرڈ نکسن کے یہ الفاظ ہوبہو عمران خان پر صادق نہیں آتے؟ سابق امریکی صدر نے ایسے رہنماؤں کا انجام بھی لکھ دیا ہے۔عمران خان نے بہت تیزی سے بآلاخر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بے شمار مسائل کے انبار میں گھرے ملک کا ایک اور بڑا مسئلہ تو بن سکتے ہیں، مگر کسی چھوٹے سے مسئلے کا حل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ سیاسی بینائی (وژن) سے محروم ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ اُن میں نظمِ اجتماعی کا بار اُٹھانے کی سرے سے صلاحیت ہی نہیں ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ایک اجتماعی کردار ادا کرنے کے لئے کسی بھی رہنما میں جو انفرادی کردار درکار ہوتا ہے ، وہ یہ بھی نہیں رکھتے۔عمران خان محض سیاسی انارکی پیدا کرکے اقتدار کے دروازے اپنے لئے کھولنا چاہتے ہیں۔ اُن کے پورے سیاسی معروضے میں عوامی مسائل کے ادراک اور اُسے حل کرنے کی سطحی سی جھلک بھی نہیں ملتی۔ وہ صرف ومحض باری چھوڑنے اور باری لینے، استعفیٰ لینے، سیاسی اٹھا پٹخ کے ادنیٰ جملوں سے بروئے کار آتے ہیں۔ اب تو اُنہوں نے خود ترحمی کی تصویر بنتے ہوئے اپنے بیٹھے ہوئے گلے سے مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہنا شروع کردیا ہے کہ میاں صاحب پیار سے کہہ رہا ہو کہ استعفیٰ دے دو۔آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ وہ کیا، کیوں اور کیسے کہہ رہے ہیں۔ نواز شریف کی تمام خرابیاں اپنی جگہہ مگر یہ سب خرابیاں اُس سیاسی انارکی سے کمتر ہے جو عمران خان ایک جمے جڑے سماج میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سوفوکلیز، 406 سال قبلِ از مسیح میں وفات پانے والے اُن تین عظیم المیہ نگاروں میں سے ایک ہیں، جن کے ناول آج تک زندہ ہیں۔اوڈی پس (Oedipus) سوفوکلیز کا تحریرکردہ وہ شاہکار المیہ ہے جسے آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔اُس نے کہا تھا کہ
\"There is no greater evil than anarchy\"
عمران خان اس بدترین طرزِسیاست کے شکار ہوتے جارہے ہیں جس کی نشان دہی عملاً سوفوکلیز نے کی تھی۔اُنہوں نے پچھلے چند روز میں اتنے تواتر سے موقف بدلے ہیں کہ اب یہ طے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں؟ پہلے وہ’’ دھاندلی‘‘ کی چھان بین چاہتے تھے۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات قبول کرنے والے بھی دھاندلی پر عمران خان کے موقف کی اصابت کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ الزامات یکطرفہ اوربے پناہ تعصبات سے لتھرے ہوئے ہیں۔پھر اُنہوں نے دھاندلی کے حوالے سے جو الزامات جن جن لوگوں پر جب جب لگائے وہ اکثر غلط ثابت ہوئے۔ اور اُن میں سے اکثر لوگ عدالتوں کا رخ کر چکے ہیں ۔ قانونی ماہرین اس پر یقین رکھتے ہیں کہ عمران خان اُن الزامات کو ثابت کرنے کی قانونی حالت میں نہیں ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ سوال نہیں اُٹھا کہ اگر دھاندلی میں ملوث متعلقہ حضرات اُن الزامات سے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں تو پھر پہلی چھان بین تو اُن افراد سے متعلق دعوؤں کی ہی ہونی چاہئے۔ جو اگر غلط ثابت ہوئے تو الزامات ہی کو بے وقعت کردیں گے اور اگر درست ثابت ہوئے تو دھاندلی کے الزامات کو طاقتور بنا دیں گے۔عمران خان اگر مارچ سے کچھ لے کر نہیں اُٹھے تو اُنہیں عدالتوں میں اُن الزامات کا دفاع کرنا پڑے گا جو وہ لوگوں پر عائد کرتے رہیں ہیں۔ اس طرح عمران خان کو ملین مارچ کی ناکامی کے بعد مزید کئی بحرانوں کا یکے بعد دیگرے سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ عمران خان کی موجودہ سیاست کی سب سے بڑی خرابی ہی یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنی واپسی کے تمام دروازے یکے بعد دیگرے اپنے آپ پر خود بند کئے ہیں ۔ وہ دھاندلی کے الزامات تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے شریف برادران کے استعفوں کے مطالبے سے چپک گئے۔اور یہ امتیاز مشکل بنا دیا کہ وہ انتخابی دھاندلی کی پڑتال چاہتے ہیں یا شریف برادران کا استعفیٰ؟ ایسے افراد کی کمی نہیں جو دھاندلی کی قابلِ اعتماد پڑتال کے مطالبے سے تو متفق ہیں مگر استعفوں کے مطالبے سے نہیں۔ سیاست میں مطالبوں کی حدود طے کرنا سب سے مشکل ہنر ہوتا ہے ۔ مطالبے ایسے تیار کئے جاتے ہیں جو عوام کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو متاثر کرتے ہو۔ یہ وسیع البنیاد مطالبے درجہ بہ درجہ عوامی پذیرائی کو بھی بڑھاتے ہیں۔ اب عمران خان کا حال دیکھئے ، وہ خود کو ایسے مطالبات کے نرغے میں لے گئے ہیں کہ جس سے اُن کی عوامی پذیرائی دن بہ دن سکڑ رہی ہے۔ اس کی ایک فوری مثال تو اُن کے ملین مارچ اور دھرنے میں شرکاء کی تعداد ہے۔
عمران خان کا ایک دوسرا مسئلہ اب یہ بھی ہے کہ وہ دن بہ دن اپنی محدود ہوتی مقبولیت کے ماحول میں شرکاء کو شریف برادران کے استعفوں کے بغیر مطمئن کیسے کریں گے۔عمران خان نے واپسی کے راستے بند کرکے خود کو خود شکنی کے مرحلے پر خود ہی پہنچا دیا ہے۔ظاہر ہے کہ انہوں نے خود کو اس بند گلی میں اپنی عیاں جذباتیت اور عریاں سطحیت سے پہنچایا ہے۔ وہ یہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کی گفتگو کا مطلب آخر اُن کے حامیوں کے نزدیک ہوتا کیا ہے؟کارلائل نے کہا تھا کہ عظیم چیزیں خاموشی میں جنم لیتی ہیں۔ نکسن نے اس صورتِحال کی سیاست کی دنیا میں اس طرح وضاحت کی تھی کہ
’’لیڈر کو نہ صرف یہ پتا ہونا چاہئے کہ اسے کیا بات کرنی ہے بلکہ یہ اندازا بھی
ہونا چاہئے کہ کب بات کرنی ہے اور اتنی ہی ضروری بات یہ ہے کہ اسے بخوبی
علم ہونا چاہئے کہ کب اپنی بات کو ختم کرنا ہے۔‘‘
عمران خان نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کو تیار کرتے ہوئے کیا اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ اُن کی واپسی کب اور کیسے ہوگی اور اُنہیں اپنی بات کو کب ختم کرناہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *