ہم وہ نہیں جانتے جو ہم نہیں جانتے۔۔۔

Afshan Huma

تین سال قبل میں نے اپنی ریسرچ میں ایک بات پر بہت کم لکھا تھا کیونکہ میری ریسرچ کا مقصد کچھ اور تھا اور یہ ایک ذیلی بات تھی جومیری ریسرچ کے دوران سامنے آئی۔ وہ بات تھی ہمارے ہاں علم و تدریس کے شعبہ میں بولے اور لکھے جانے والے  شبد جال یعنی جارگنز اور ان کا ضرورت سے زیادہ اور غلط استعمال۔ جارگنز وہ  الفاظ اور فقرے ہوتے ہیں جن کا استعمال خاص شعبوں میں خاص معنی میں کیا جاتا ہے اور عام آدمی کے لئے انہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ کسی بھی شعبہ کے ایسے الفاظ  اور فقروں کا ذخیرہ اس کی ٹیکنیکل، ووکیشنل اور پروفیشنل ٹریننگ لینے والے افراد جان جاتے ہیں۔ وہ ان الفاظ کو ان کے اسلوب کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور ایسی جگہوں پر ان کے استعمال سے پرہیز کرتے ہیں جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہوں تا کہ ان کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔

ہمارے ہاں پرائمری سکول ٹیچرز کی بھرتیاں ماضی میں جس طرح سے ہوا کرتی تھی اس سے ہم سب واقف ہیں اور پھر وہی ٹیچرز اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھاتے ہوئے سینئر ٹیچر بن جاتے۔ مزید کچھ سالوں میں انہیں یا تو پرنسپل تک پہنچ جانا ہوتا یا وہ ٹیچر ایجوکیشن کالجز میں لیکچرار بن جاتے۔ دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو علم و تعلیم کا گرو مان لیا جاتا۔ ان کی اپنی تعلیمی استعداد ایک خاص لیول سے آگے زیادہ تر فاصلاتی نظام سے ہوتی۔ فاصلاتی نظام تعلیم جس سے میں خود بھی منسلک ہوں اپنے اندر ایک خاصیت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ پڑھنے والوں کی کامیابی، ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ خدا را اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ جو امتحانی مرکز خریدنے کی سکت رکھتا ہے وہ کامیاب ہے۔ کامیابی سے میری مراد ہے کہ سیکھنے کے عمل میں کون کس حد تک کامیابی پائے گا اس کا انحصار خالصتا" طلبہ پر ہوتا ہےکیونکہ فاصلاتی نظام تعلیم میں وہ بغیر کسی ٹیچر کی براہ راست امداد کے سیکھتے ہیں۔ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں نہ صرف فاصلاتی نظام تعلیم بلکہ فارمل یونیورسٹیز نے بھی دھڑا دھڑ علم التعلیم کے گریجوِیٹ پروگرام آفر کیے۔ ان کو پڑھنے والے زیادہ تر افراد یہی ٹیچرز تھے اور بہت کم تعداد میں فریش گریجویٹ بھی ان میں شامل رہے۔ اعلی تعلیمی سطح پر اساتزہ کا کام ایک ایک لفظ کی وضاحت نہیں ہوتا۔ لہذا یہ طلبہ پر منحصر ہے کہ وہ ان الفاظ کا ذخیرہ اکٹھا کر لیں یا ان کے معنی سمجھنے کے لئے ایک سے زائد ذرائع کی مدد سے ان تصورات کی وضاحت تک پہنچیں۔

تا حال مجھے پاکستانی یونیورسٹیز سے پڑھے ہوئے علم التعلیم کے گریجوئیٹ کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہی نظر آتا ہے کہ وہ جو کچھ جانتا ہے اس سے بہت زیادہ کا دعویدار ہوتا ہے۔  اس کے پاس الفاظ کا زخیرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے سامنے جیسے ہی کسی جارگن کا استعمال کیا جائے اس کے چہرے سے لگتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ بولنے والا بہت دیر تک نہیں جان پاتا کہ سامنے والا شخص اس کی بات نہیں سمجھ پا رہا۔ یہ تو تب پتہ چلتا ہے جب اس جارگن کو دوسرا شخص کسی ایسی جگہ استعمال کرتا ہے جہاں اس کا سرے سے کوئی جواز ہی نہ ہو۔ میں نے اپنی ریسرچ میں جن لوگوں کو انٹرویو کیا ان میں وہ ٹیچرز موجود تھے جنہیں ماضی قریب میں پروفیشنل ٹریننگ دی گئی تھی۔ امریکہ سے آنے والے محققین اور ٹیچر ٹرینرز اس غلط فہمی کا شکار ہوتے رہے ہوں گے کہ ان کے بیان کیے ہوئے تمام تصورات لوگوں کی سمجھ میں آ رہے ہیں۔ کیونکہ ہما رے اساتذہ جارگنز کے استعمال سے تو یہی ثابت کرتے ہیں۔ لیکن جب ان کے کلاس رومز کا جائزہ لیا جائے تب علم ہوتا ہے کہ وہ صرف الفاظ کا زخیرہ ہے جو وہ سنتے یاد کرتے اور آگے بیان کر دیتے ہیں لیکن ان کی تدریس میں وہ تصورات کہیں کارگر نظر نہیں آتے۔ ان سے اگر ان تصورات پر بات کی جائے تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر مشکل سے مشکل تصور کو بھی اپنے تئیں نہیایت آسان کیے بیٹھے ہیں۔ اس غلط فہمی کا شکار رہنا نہایت خطرناک ہوتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ اور اس معا ملے میں اگر انا کی تسکین بھی شامل ہو تو پھر تو اور بھی مشکل ہے۔ پروفیشنلزم کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ لہذا جو علم مجھے نہیں اے اس کا دعویدار ہونا صرف میرے لیے نہیں مجھ سے علم حاصل کرنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصان دہ ہو گا۔ جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن اکثر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کچھ ہم نہیں جانتے۔۔۔ اساتذہ کے لئے نا معلوم علم کی دعویداری سے پرہیز ایسے ہی ضروری ہے جسے نیم حکیم سے دوا لینا۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *