خوش تو ہیں ہم بھی ‘‘نتائج’’میں ترقی سے مگر!

waqas jafri
سید وقاص جعفری
پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے چند روز قبل میٹرک پارٹ فرسٹ
یعنی نہم کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ اس لحاظ سے نتائج میں کوئی خبریت نہیں کہ ابلاغیات کی زبان میں ‘‘لڑکیوں’’ نے ایک بار پھر میدان مار لیا ہے۔ نتائج کے اعلان کے بعد تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ چھاج تو چھاج، چھلنی بھی بولنے لگی ہے۔ کیا اسکول، کیا اکیڈمی، کیا استاد اور کیا والدین!! محسوس یہی ہوتا ہے کہ ہر اسکول اور ہر اکیڈمی نے ٹاپ کیا ہے۔ بینرز، فلیکس، اشتہارات، مبارکباد، انعامات اور جو رہ گئی کسر وہ بڑے تعلیمی اداروں کی طرف سے ترغیبات نے پوری کردی۔ گذشتہ ماہ یہ منظر ہم نے میٹرک کے نتائج کے موقعہ پر دیکھا۔ ٹاپرز کو انعام میں کار، موٹر سائیکل دینے والے ادارے اِن بچوں اور بچیوں کو اخبارات میں اپنے کریڈٹ اور تعلیمی معیار کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں بھلا کوئی ان سے پوچھے حضور! آپ نے یہ ٹیلنٹ تراشاہے یا خریدا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے!!!
بات ذرا دور نکل جائے گی۔ صوبہ پنجاب میں ہونے والے نہم کے امتحانات میں ایک یا دو طالبات نے 505نمبرز میں 504 نمبر حاصل کیے ہیں گویا ان کے مجموعی نمبروں سے صرف ایک نمبر کاٹا گیا ہے۔ ہم اپنی اس بیٹی کی کامیابی کا مزہ کِرکرا نہیں کرنا چاہتے۔ بلاشبہ ایسے طلبہ و طالبات ادارے، خاندان، شہر اور ڈویژن بھر کے لیے عزت اور فخر کا باعث ہیں۔اِس طرح ہمارے ایک دوست نے اپنے کسی عزیز کے505 میں سے 501 نمبر آنے پر گلہ کیا ہے کہ نہ جانے کس شقاوتِ قلبی سے ‘‘سنگدل’’ ممتحن نے دستِ قابل سے چند نمبر نوچ پھینکے ہیں۔ 490 نمبر لینے والے طلبہ و طالبات تو ہر بورڈ میں شاید ہزاروں سے کم نہ ہوں۔ خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ کے مصداق اس موقع پر ہم کچھ گزارشات والدین، اساتذہ، بورڈ انتظامیہ اور حکومت کے کار پردازان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ہم سمجھ نہیں پا رہے کہ جائزہ، پیمائش کے وہ کون سے اصول اور کلیے ہیں جس کی بنا پر میٹرک کے امتحانات میں اس قدر قریب مارجن سے نمبر آجاتے ہیں۔ ایک زمانہ میں ریاضی وہ واحد مضمون تھا جس میں صد فی صد نمبر آیا کرتے تھے اس کے علاوہ کسی مضمون میں فرسٹ ڈویژن آجانا طالب علم کے لیے کامیابی کا عروج ہوا کرتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ امتحانات اب تحریری (descriptive) کے بجائے ملٹی پل چوائسز، کوئز اور مختصر نویسی پرمنتقل ہوگئے ہیں لیکن اس سب کے باوجود طلبہ کو محض ‘‘نگ گننے’’ (counting) تک محدودنہیں ہونا پڑتا انہیں بیالوجی، کیمسٹری، فزکس، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور انگریزی میں بہرحال کچھ نہ کچھ بیان (describe) کرنا پڑتا ہے ہماری رائے میں بورڈز کے ذمہ داران کو اس پر ضرور غور کرنا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ امتحانات کا یہ پورا عمل ہی مشکوک ہوجائے۔ پنجاب نے ایک حد تک اپنے نتائج اور تعلیمی بورڈز کی لاج رکھی ہوئی ہے۔ اتنے متعین (accurate) نمبرز تو شاید مغرب کی اُن الیکٹرانک مشینوں سے بھی نہیں لگائے جاسکتے جو وہاں کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے امتحانی پرچوں کی آٹو میٹک طریقے سے جانچ پرکھ کرتی ہیں۔
اچھے نمبر لینا، نمایاں پوزیشنز حاصل کرنا اور بورڈ میں قابل اعزاز ٹہرنا بجا طور پر قابل تعریف، مگر ہر قیمت پر نمبر، زیادہ سے زیادہ نمبر اور اچھے نمبرز کے حصول کو قابلیت، لیاقت اور ذہانت کی معراج مان لینا ماہرین کے نزدیک بھی درست روّیہ نہیں۔ نمبرز کی اس نہ ختم ہونے والی دوڑ نے بہت سارے مسائل پیدا کردیے ہیں جو صرف تعلیمی اور مادّی نہیں اخلاقی اور نفسیاتی بھی ہیں۔ میٹرک، ان معنوں میں کیرئیر کے انتخاب کا مرحلہ نہیں ہوتا۔ تاہم اس درجے کے تعلیمی نتائج کو جس hype کے ساتھ مرتب، اعلان اور propagate کیا جاتا ہے وہ کئی طرح کی پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے۔ چونکہ یہاں سائنس کے مضامین کو ہی ترجیح دی جاتی ہے، شور اِسی کا زیادہ ہے۔ اس نمبر گیم نے بچوں کو تو نفسیاتی طور پر دباؤ سے دوچار کیا ہوا ہوتا ہے، والدین اور اساتذہ بھی کم زیرِ بار نہیں ہوتے۔ والدین کی جیب اور اساتذہ کی نوکری یا ترقی ہر آن سُولی پر ٹنگی دکھائی دیتی ہے۔ سالِ رواں کے آغاز میں حکومت پنجاب نے بظاہر والدین کے اصرار پر تعلیمی اداروں کی فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کی (زیادہ) سیاسی اور انتظامی (غیر مخلصانہ) کوششیں کیں تو زیریں متوسط کلاس کے اکثر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بقا کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ بڑے شہروں میں 7,6 گھنٹے کی ریگولر سکولنگ کے مقابلے میں شام کے اوقات میں چند گھنٹوں کے لیے اکیڈمیاں ایک طالب علم سے 7000/- روپے ماہانہ وصول کرتی ہیں۔ بچے صبح کے اوقات میں نام کی حد تک بورڈ کے قواعد کو پورا کرنے کے لیے تو ان اسکولز میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں جبکہ زیادہ نمبر لینے کی دوڑ میں اصل بادشاہ گر یہی اکیڈیمیز ہیں جنہوں نے ایک مخصوص نفسیاتی فضا میں والدین اور طلبہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
بورڈ کے امتحانات اور بعد ازاں اِنٹری ٹیسٹ میں ایک طالب علم اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود خاص مقدار میں نمبر نہ لے پانے پر جس نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اس کا اندازہ شاید ماہرین نفسیات و سماجیات زیادہ بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ ہمارے جاننے والوں کی ایک بچی صرف اس وجہ سے نروس بریک ڈاؤن سے بال بال بچی کہ اس کے نمبر 478کے بجائے 480کیوں نہیں آئے؟
ان امتحانات کاایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے طلبہ اعلیٰ نتائج اور پوزیشن کے حوالے سے ‘‘ہر چند ہیں کہ نہیں ہیں’’ کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اہل علم، سماجی ماہرین اور اربابِ اختیار کے لیے یہ کوئی فکرمندی کا موضوع ہے یا نہیں، مگر اس سے سرسری طور پر عہدہ برآ نہیں ہوا جاسکتا۔ خواتین کے لیے تعلیم، ترقی اور ایک حد تک روزگار کے مواقع و امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر متعدد انتظامی، سماجی، معاشی اور طبعی مصالح کے پیش نظر طلبہ کا تعلیم کے اِن مدارج میں پیچھے رہ جانا یا آگے نہ بڑھ پانا ایسا عمل نہیں جس سے سرسری طور پر گزر جایا جائے۔ ذرا گہرائی میں جاکر اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو چلانے، بالخصوص ایک خاص دائرے میں چلانے کے لیے بہرحال مردوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر سماجی اور انتظامی مسائل بڑھتے جائیں گے۔ یہ بات خود مجموعی طور پر اہل دانش کے سوچنے کی بھی ہے اور ان اہلِ دانش کے لیے بھی فکرمندی کا باعث ہے جو ایسے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خواتین کے بہت سے فضائل اور مسائل کی بنا پر معاشرے کے ہر دائرے اور زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مہارت اور آسودگی سے کام کرنا ممکن نہ ہوگا۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا کہ عضویاتی قوانین (physiological) بھی اُتنے ہی اٹل ہیں جس قدر فلکیاتی قوانین (universal)۔ بالکل قریب میں میڈیکل کے شعبے کے اعداد و شمار ہمارے سامنے ہیں جہاں زیادہ تر داخلے لینے والوں میں طالبات شامل ہیں جب کہ انہی فارغ التحصیل طالبات میں طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میڈیکل پریکٹس کو جاری رکھنے کا تناسب، تعلیم حاصل کرنے کی نسبت بہت کم ہے اس حوالے سے PMDC کے اعداد و شمار سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔
اس ضمن میں ایک اور بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ سالانہ تحریری، امتحانات کبھی بھی کسی طالب علم کی قابلیت کو جانچنے کا پیمانہ نہیں ہوا کرتے۔ ہمارے ہاں یہ صرف یادداشت اور رفتار کی پیمائش کا ذریعہ رہ گئے ہیں۔ دنیا طالب علموں کی جانچ پرکھ کے حوالے سے نہ جانے کہاں پہنچ چکی ہے۔ طالب علموں کو پرائمری تعلیم کے دوران اُن کے مخصوص رجحانات کی بنیاد پر درجنوں نہیں سینکڑوں پیشوں اور مہارتوں کی طرف رہنمائی دی جارہی ہے مگر ہم ابھی تک میڈیکل،انجیئرنگ، میٹرک ایف ایس سی کے گرداب سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں۔
چند اہم پیشوں کی بنیاد پر عزت کو متعین کرنے کا taboo نہ جانے کب ٹوٹے گا تعلیم کے میدان میں صف اوّل کے ممالک نے امتحانات، جائزے، نصابیات اور طریقہ ہائے تدریس کو نئے مفہوم عطا کردیے ہیں جبکہ ہم ابھی تک نصف صدی پرانے نظام کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک انڈین اسکول کی انتظامیہ کا خط پڑھنے کو ملا جو اُن والدین کے نام لکھا تھا جن کے بچے امتحانات میں شریک ہونے جا رہے تھے۔ ذرا نفسِ مضمون ملاحظہ فرمائیے۔
پیارے والدین!
آپ کے بچے کے امتحانات جلد شروع ہو رہے ہیں آپ بجا طور پر اپنے بچے کی کامیابی کے لیے متفکر ہوں گے۔ براہِ کرم یہ ضرور یاد رکھیے کہ امتحان دینے والے بچوں میں ایک آرٹسٹ (فنکار) بھی ہوگا جو شاید ریاضی میں زیادہ دلچسپی نہ لیتا ہو۔ ممکن ہے ان امتحانات میں کوئی اِنٹرپرینئر بھی ہو جسے انگلش لٹریچر اور تاریخ کے مضمون سے رغبت نہ ہو۔ جن بچوں سے آپ اعلیٰ نمبروں کی توقع رکھتے ہوں ان میں کوئی کھلاڑی ہو جس کے لیے فزیکل فٹنس، فزکس کے مضمون سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو۔ کوئی خوش گُلو، خوش آواز ایسا بھی ہوسکتا ہے جس کے لیے کیمسٹری کوئی اہمیت نہ رکھتی ہو۔ اگر آپ کابچہ اچھے نمبر حاصل کرلیتا ہے تو فبھا۔۔۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو براہ کرم اُن سے اُن کی خودی اور اعتماد مت چھینئے۔ انہیں بتائیے کہ یہ کوئی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ صرف ایک امتحان ہے۔ انہیں زندگی میں ابھی اور بڑے کام کرنا ہیں۔ اگر ان کے نمبر کم بھی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی محبت ان کے لیے کم ہوگئی ہے جسے نمبروں سے جانچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہماری معروضات کو پیش نظر رکھیئے اور دیکھیے کس طرح آپ کا بچہ زندگی کو فتح کر رہا ہوگا۔ ایک امتحان یا کم نمبر آپ کے بچے کے خواب اور قابلیت کو ضائع نہیں کرسکتے۔ اور آخری بات یہ کہ مت سمجھیے کہ ڈاکٹرز یا انجینئرز ہی صرف اس دنیا کے خوش نصیب ترین فرد ہیں"
۔
مضمون کی طوالت ہمیں پابند کر رہی ہے ورنہ یہ موضوع سب سے اہم ہے کہ ہر سطح کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا جوہر قابل کیا اپنے تعلیمی اداروں سے وہ تربیت، ہمت اور جذبہ کشید کر رہا ہے جو اُسے معاشرے کے ناسوروں پر مرہم رکھنے کے قابل بناسکے۔ جدید دنیا پرائمری میں پڑھنے والے بچوں کو اِیکٹو سٹیزن بنانے کا عملی پلان وضع کرچکی ہے۔ مغرب اپنے مسائل کی انتہا پر آکر معاشرے اور تعلیمی ادارے کو ہم آہنگ کرنے کے لیے connecting classrooms کی بات کر رہا ہے ہماری اسلامی تاریخ میں تعلیم ہمیشہ تربیت کے پہلو بہ پہلو معاشرے کو سنوارتی رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارےاور ماہرین تعلیم اس موضوع کو 'اچھی تعلیم' 'اعلیٰ تعلیم' اور 'معیار تعلیم' سے زیادہ نہیں تو کم از کم  اس کے برابر اہمیت تو ضرور دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *