عجائب گھر

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

امریکہ میں یہ میرا چوتھا دن ہے اور ان چار دنوں میں اپنی بھرپور کوشش کے باوجود میں کوئی ایسی تھیوری ایجاد کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کی بنیاد پر میں یہ پیشین گوئی کر سکوں کہ وہ دن دور نہیں جب امریکہ بھی سوویت یونین کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ،واشنگٹن اور ورجینیا کی چکا چوند سے بھی خاصا متاثر ہواہوں حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان شہروں کی رنگینی کے پیچھے چھپا ہوا زمین دوز کرب میں کہیں سے ڈھونڈ کر لاتا اور عوام کے سامنے چھاتی پھلا کر کہتا کہ بظاہر یہ شہر رنگا رنگ نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان رنگوں کے پیچھے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی تصویر یں ہیں جو صرف دیدہ بینا رکھنے والوں کو ہی دکھائی دیتی ہیں،امریکہ کے کرّو فر پر بھی مجھے پھبتیاں کسنی چاہئیں تھیںاور کوئی ایسا فلسفہ گھڑ کے لوگوں کو بتانا چاہئے تھا جس کے بل بوتے پر یہ ثابت کیا جا سکتا کہ بارک اوباما کو وائٹ ہائوس میں ساری رات’’ داعش‘‘ کے خوف کی وجہ سے نیند نہیں آتی اور پھر مجھے ان چند کھر ب پتی امریکی خاندانوں کی روداد بھی سنانی چاہئے تھی جن کی دولت ساری دنیا کی دولت سے زیادہ ہے اور جو ہر سال امریکہ کے کسی دور افتادہ پراسرار مقام پر واقع ایک عمارت میں اپنا خفیہ اجلاس منعقدکرتے ہیں جس میں پوری دنیا کی معیشت کو قابومیں رکھنے کی سالانہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے مگر اپنی تمام تر چالاکیو ں کے باوجود ان ’’خفیہ‘‘ اجلاسو ں کی کارروائی پنجاب یونیورسٹی کے وی سی کی عقابی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی …مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے قارئین کو یہ مصالحے دار سودا نہیں بیچ پائوں گا حالانکہ اس مال کے گاہک پاکستا ن میں اگر کروڑوں میں نہیں تولاکھوںکی تعداد میں ضرور ہیں ۔
ابو ظہبی سے امریکہ جانے والی پرواز پر سوار ہونے سے پہلے آپ کو ابوظہبی کے ہوائی اڈے پر ہی امریکی امیگریشن اور ہوم لینڈ سیکورٹی اور کسٹمزکے محکمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،امریکیوں کے لئے یہ خصوصی ٹرمینل ابو ظہبی میں چند ماہ پہلے ہی قائم کیا گیا ہے ،جونہی آپ اس ٹرمینل کی حدود میں داخل ہوں تو سمجھئے کہ آپ امریکہ کی سرحد پر کھڑے ہیں،امیگریشن کے افسران یہیں آپ کے کاغذات کی پڑتا ل کرتے ہیں اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو لازماًآپ کو علیحدگی میں لے جا کر کچھ اضافی سوالات کا جواب دینا پڑے گا ،عام حالات میں یہ سوالات عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اگر آپ کے کاغذات درست ہیں تو پاسپورٹ پر ہوم لینڈ سیکورٹی کی کلیئرنس کی مہر لگا کر آپ کو پرواز کے لئے بھیج دیا جائے گا ،بے پناہ رش کی وجہ سے اس سارے عمل میں ڈھائی تین گھنٹے لگ سکتے ہیں تاہم اس کا فائدہ یہ ہے کہ امریکہ میں اترنے کے بعد کوئی مزید چیکنگ نہیں کی جاتی اور آپ ایک عام مقامی مسافر کی طرح اپنا سامان لے کر ہوائی اڈے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ابو ظہبی سے واشنگٹن کی پندر ہ گھنٹے کی پروازکے بعد کسی بھی شریف آدمی میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی، تاہم میں چونکہ زیادہ شریف نہیں ہوں اس لئے ہوائی اڈے پر اپنا سامان حاصل کرنے کے بعد میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ امریکہ میں اپنے قیام کے دوران مجھے کن شخصیات کو شرف ملاقات بخشنا ہے ،لا محالہ صدر اوباما کا نام اس ضمن میں سرفہرست تھا تاہم یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ موصوف چھٹیاں منانے کی غرض سے نیو انگلینڈ تشریف لے گئے ہیں ،اب یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ امریکی صدر نے ان چھٹیوں کی ’’منظوری‘‘ امریکی میڈیا سے لی یا نہیں، اپنے ہاں تو وزیر اعظم کی چھٹی کی اپروول میڈیا ہی دیتا ہے یا کم از کم میڈیاکی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم صاحب ان سے پوچھ کر اپنا شیڈول مرتب کیا کریں!
امریکہ میں پہلی منزل واشنگٹن ہے ،اس شہر میں رہ کر آپ کو امریکی سسٹم کا اچھا خاصا اندازہ ہو جاتا ہے اور یہ سسٹم کافی دلچسپ ہے ۔صدارتی الیکشن مہم کے دوران امیدوار بالکل اسی طرح عوام سے وعدے کرتے ہیں جیسے اپنے ہاں کئے جاتے ہیں ،بارک اوباما نے بھی اپنی الیکشن مہم کے دوران ایسے ہی کچھ وعدے کئے تھے جن میں سے ایک وعدہ امریکیوں کے لئے صحت کی بہتر سہولتوںکا قانون منظور کرنا تھا، لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر از خود کانگریس سے کوئی بل منظور نہیں کر وا سکتا صرف لابی کر سکتا ہے، اس ضمن میں اسے اپنی پارٹی کے ممبران کوبھی باقاعدہ قائل کرنا پڑتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ صدر کی پارٹی کے لوگ فقط اس کے کہنے پر ہاتھ اٹھا کر ووٹ دے دے ڈالیں۔بجٹ بنانے کے ضمن میں بھی صدر کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ،کانگریس نے 1916سے صدر کویہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ڈرافٹ بجٹ بنا کر کانگریس کو بھیجے جس کے بعد یہ کلیتاً کانگریس کی صوابدید ہے کہ وہ کیا منظور کرتی ہے اور کیا رد کرتی ہے ،گویا صدر کا کام بجٹ بنانے میں ایک ڈرافٹسمین کا ہے ۔سیاسی پارٹیوں کا قصہ مزید دلچسپ ہے ، یہاں پارٹی ممبر شپ کا کوئی تصور نہیں، ایک شخص اگر ری پبلکن پارٹی کا حمایتی ہے تو اگلے دن وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت بھی کر سکتا ہے اور اسے پارٹی ’’چھوڑنے ‘‘ کا کوئی طعنہ نہیں دیا جاتا ‘کیونکہ یہ دونوں جماعتیں انتخابات میں ایک برینڈ کا کام کرتی ہیں ،بالکل ایسے جیسے کسی روز آپ کو ایک مشہور کمپنی کی سافٹ ڈرنک پسند ہے اور اگلے روز کوئی دوسرا برینڈ آزمانا ہے ۔امریکہ کی پچاس ریاستوں اور واشنگٹن کو ملا کر یوں سمجھیں کہ اکیاون سیاسی جماعتیں ہیں کیونکہ ہر ریاست میں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی کی علیحدہ شناخت ہے ،البتہ قومی سطح پر ان جماعتوں کی ایک کمیٹی ضرور قائم ہے مگر یہ کمیٹی کسی امیدوار کو ’’نامزد‘‘ نہیں کرتی ،کوئی بھی شخص انتخاب لڑنا چاہے وہ آزاد ہےاور یہی اوباما نے کیا ‘سینیٹر منتخب ہونے کے صرف دو سال بعد اس نے پارٹی میں لابنگ شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ لیڈر شپ کا کردار ادا کرسکتا ہے ،لوگ قائل ہو گئے اور یوںامریکی تاریخ کا پہلا سیاہ فام صدر منتخب ہوگیا۔
امریکی ریاستیں آزادی کی حد تک خود مختار ہیں ،اوسطاً بجٹ کا اکیانوے فیصد حصہ ریاستیں خود اپنے ذرائع سے حاصل کرتی ہیں جبکہ بقیہ نو فیصد وفاق کی طرف سے آتا ہے ‘نجی ملکیت کا تصور یہ ہے کہ قریباً دو تہائی امریکی زمین نجی ملکیت میں ہے اور اگر آپ کی زمین کے نیچے سے تیل یا سونا نکل آیا ہے تو وہ ریاست کا نہیں آپ کا تصور کیا جائے گا،یہی وجہ ہے کہ جن ریاستوں میں یہ قدرتی وسائل دستیاب ہیں ضروری نہیں کہ وہ ریاستیں امیر بھی ہوں کیونکہ جس شخص کی زمین سے تیل نکل آئے وہ اس کی دولت کسی دوسری ریاست میں سرمایہ کاری کی شکل میں لگا سکتا ہے ۔
واشنگٹن کا مزاج دیگر امریکی شہروں خصوصاً نیویارک وغیرہ سے بالکل مختلف ہے ،نیو یارک کے مقابلے میں یہ خاصا پر سکون ہے اور یہاں ایک مخصوص قسم کی سرکار ی چاشنی ہے، تاہم واشنگٹن کا سکون سرکاری ہیلی کاپٹرز نے برباد کر رکھا ہے جو وقفے وقفے سے پوری گھن گرج کے ساتھ گزرتے ہیں ۔چونکہ وائٹ ہائوس ، پینٹا گون اور کیپٹل ہل یہیں واقع ہیں لہٰذا ان ہیلی کاپٹرز میں وی آئی پی موومنٹ کافی رہتی ہے۔ شہر کے بیچ میں پوٹو میک دریا بہتا ہے ، دریا کے قریب کا علاقہ جارج ٹائون کہلاتا ہے، آپ دریا کے کنارے بیٹھ کر کافی پی سکتے ہیں ،دریا کے پار واقع پہاڑی پر نظر آنے والی روشنیوں کا منظر دل موہ لینے والا ہے ،دریا کے دوسری جانب نگاہ دوڑائیں تو کینیڈی سنٹر آتا ہے جو مشہور زمانہ واٹر گیٹ کمپلکس کے بالکل ساتھ واقع ہے۔واشنگٹن میں دنیا کے بہترین عجائب گھر موجود ہیں اور یہ دنیا کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جہاں عجائب گھروں میں داخلے کی کوئی فیس نہیں ۔ویسے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں کیونکہ اپنا تو سارا ملک ہی عجائب گھر ہے جہاں داخلے کی کوئی فیس ہے اور نہ پابندی ، خاص طور پر اگر کسی کے پاس دس بیس ہزارمرید ہیں تو وہ بلا روک ٹوک پارلیمنٹ پر بھی دھاوا بول سکتا ہے یا کم از کم دھاوا بولنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *