’’وہ وقت قریب آ پہنچا ہے‘‘!

Photo Nusrat Javed sb

جب سے یہ کالم لکھنا شروع کیا،علی الصبح اُٹھنا ضروری ہوگیا۔ عمر کے اس حصے میں اگرچہ رات کو جلد سو جانے کی عادت اختیار کرنے میں بہت وقت لگا۔ب اقاعدہ ریاضت اور مشقت کے مراحل سے گزرکر جلد سو جانے کی عادت پختہ کرنے کے بعد ہفتے کی رات ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول لئے دیر تک جاگنے کو لہٰذا بہت مشکل پیش آئی۔ جمائیاں لیتا اور منہ پر پانی کے چھینٹے پھینکتا رہا۔
راولپنڈی اور لاہور میں ہوئی ریلیوں کی Beepersکے ذریعے رپورٹنگ کرنے والے نوجوان اور متحرک ساتھی، اسٹوڈیوز میں بیٹھے اپنے سینئرز کو یہ طے کرنے پر مجبور کررہے تھے کہ معاملات’’کاکڑ فارمولے‘‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
آج سے تقریباََ دو دہائیاں قبل میں نے اس فارمولے کے ہر مرحلے کا دیوانہ وار تعاقب کیا تھا۔ ان دنوں 24/7خبرفروشی متعارف نہیں ہوئی تھی۔ اخبار کے پریس میں جانے سے قبل تفصیلات کو خبر کی صورت سمیٹنا ہوتا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے یہ خدشہ لاحق رہتا کہ تفصیلات کے بیان کی وجہ سے ’’پیش گوئی‘‘ نظر آتی خبر کہیں غلط ثابت نہ ہوجائے۔
ربّ کریم کو رپورٹروں کی اس مجبوری پر بالآخر رحم آگیا۔ 24/7نے ’’حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ‘‘ والا ماحول بنادیا ہے۔ ناظرین کے Attention Spanہیجانی کیفیات میں مبتلا ہوکر محدود تر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کسی کو یاد ہی نہیںرہتا کہ کس رپورٹر نے اپنے Beeperمیں کیا کہا تھا اور اسٹوڈیوز میں بیٹھے تجزیہ کاروں نے رپورٹروں کے فراہم کردہ مصالحوں کی بدولت کیا کھچڑی پکائی تھی۔رات گئی بات گئی والی سہولت میسر ہوگئی ہے۔
1960ء کی دہائی میں ہفت روزہ ’’اخبارِ خواتین‘‘ متعارف ہوا تھا۔ اس کی پیشانی پر البتہ لکھا ہوتا کہ اسے ’’مرد بھی پڑھ سکتے ہیں‘‘۔میں اس ہفت روزہ کے اجراء کے دنوں میں لڑکے سے مرد بن رہا تھا۔اس کا باقاعدہ قاری بن گیا۔ اس میں ہر ہفتے شائع ہونے والی ’’تین عورتیں،تین کہانیاں‘‘مجھے سب سے زیادہ پسند آئیں۔
ہفتے کی دوپہر ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے ہوئے مجھے ’’تین انقلابی،تین کہانیاں‘‘Developہوتی نظر آئیں۔ شہباز شریف جو حبیب جالب کے کچھ اشعار دہراتے ہوئے اکثر’’انقلابی‘‘ ہونے کی دعوے دار ی کرتے نظر آتے ہیں،راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے ’’انقلابی عصر‘‘ سے کافی خوفزدہ نظر آئے۔ کنٹینرلگاکر لال حویلی کی جانب بڑھتے سپاہِ انقلاب کو روکنے کی کوشش ہوئی۔ ’’انقلابی عصر‘‘ نے انتظامیہ کویقین دلایا کہ اگر ان کے ساتھ پنگانہ لیا جائے تو وہ اسلام آباد کی طرف روانہ نہیں ہوں گے۔ ان کی ’’ورنہ…‘‘ کام آگئی۔ رونق لگ گئی۔
لال حویلی سے ’’تحریکِ نجات‘‘ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی تو ’’قصاص تحریک‘‘ کو فیصلہ کن مرحلے تک دھکیلنے کے لئے کینیڈا سے آئے انقلابی لاہور سے راولپنڈی آگئے۔ سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے انہوں نے راولپنڈی کے ایک پنج ستاری ہوٹل میں چند گھنٹے بھی گزارے۔ سلاد کھایا۔ سوپ پیا۔ غالباََ کوئی فون بھی آنا تھا۔ پتہ نہیں وہ آیا یا نہیں۔ اگرچہ ٹیلی فون پر بات کرنا انقلابیوں کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو والے ایسی گفتگو کو Tapکرسکتے ہیں۔ زیادہ خطرناک مگرامریکہ کی NSAہے۔ وہ دُنیا بھر کے انقلابیوں کے مابین ہوئی گفتگو کو ریکارڈ کر کے ’’ضرورتِ وقت‘‘ کے لئے محفوظ کر لیتی ہے۔ اب تو ان کم بختوں نے ایسے Bugsبھی ڈھونڈ لئے ہیں جنہیں ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق کمپیوٹرز میں گھسا کر انہیں ناکارہ بنادیا گیا تھا۔ قادری صاحب کا iPhoneتو ویسے ہی کینیڈا سے خریدا گیا ہوگا۔ اس ملک سے BBMکی سہولت بھی میسر ہوا کرتی تھی۔ اس کے کوڈ کو بھی لیکن بالآخر Crackکردیا گیا۔
راولپنڈی کے ساتھ ہی ساتھ لاہور میں شاہدرہ سے اپنے دیوہیکل کنٹینر پر سوار عمران خان بھی ’’تحریکِ احتساب‘‘کی قیادت کرتے ہوئے مال روڈ کے چیئرنگ کراس کی طرف رواں دواں تھے۔ اپنے آئندہ کے ’’لائحہ عمل‘‘ کا اعلان انہوں نے اس چوک تک پہنچنے کے بعد کرنا تھا۔ رپورٹرز یہ سوچنے میں حق بجانب تھے کہ Surprise،جوہر انقلاب کا حتمی ہتھیار ہوا کرتی ہے، کا استعمال کرتے ہوئے کپتان اپنی سپاہِ انقلاب کو چیئرنگ کراس پہنچ کر رائے ونڈ کے ’’جاتی عمرہ‘‘ کی جانب روانہ نہ کردیں۔
انقلابی قافلہ اگر شریف خاندان کے محلات کی جانب چل پڑتا تو ’’روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں‘‘ والی رعونت میں مبتلا شاہی خاندان کو گلوٹین سے بچانے کے لئے کسی غیر جانبدار مگر طاقت ور ریاستی ادارے کو مداخلت کرنا پڑتی۔ ’’کاکڑفارمولا‘‘ بھی اسی لئے متعارف ہوا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلا م آباد تک پہنچنے کے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس وقت ایک چھوٹی مگر انتہائی انقلابی جماعت ’’پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے میاں منظور وٹو نے اس مارچ کو فیصلہ کن بنانے کی پوری تیاری کررکھی تھی۔ نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم ان تیاریوں کی وجہ سے بہت شاداں تھے۔ محترمہ کو لیکن اس وقت کے آرمی چیف-وحید کاکڑ-نے فون کردیا اور اپنا ہیلی کاپٹر بھیج کر راولپنڈی بلوالیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔
ہفتے کی رات تاریخ نے اپنے آپ کو دہرانا تھا۔ تین انقلابی تین کہانیاں برسرِزمین بناتے ہوئے ’’کاکڑ فارمولے‘‘ کے Enablersبنے ہوئے تھے۔میں مگر جلد ہی Beeprsکی تکرار سے اُکتاگیا۔’’ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟‘‘ سوچتا ہوا اپنا ٹی وی بند کرکے بستر پر لیٹ گیا۔
عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ میرے سرہانے مولانا غلام رسول مہر کے بڑی لگن سے جمع اور مرتب کئے ’’خطوطِ غالب‘‘ والی کتاب پڑی تھی۔اسے اُٹھالیا۔1857ء یاد آگیا۔ اس دور کی دلی ّاور بے چارہ بہادر شاہ ظفر۔ سمجھ آگئی کہ غدریا جنگِ آزادی کے ہیجان انگیز ماحول میں غالبؔ جیسا حساس اور دور بین شخص کوچہ بلی ماراں میں موجود اپنے گھر میں خود کو محصور کئے کیوں بیٹھارہا۔ نجف خان کی سپاہ موصوف کی نظر میں پورب سے آئے’’تلنگے‘‘ تھے۔انگریز نے کوئلے سے بھاپ بناکر اس سے ریل کا انجن چلادیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر نے مگر اس شاعر کو خاندانِ تیموریہ کی تاریخ لکھنے میں مشغول کررکھا تھا۔ شاہ کا مصاحب بننے کے بعد موصوف کچھ دنوں تک اتراتے بھی رہے۔
طاقت کے اصل مرکز کی مگر غالبؔ کو پہچان ہوچکی تھی۔ گھبراکر بالآخر گھر بیٹھ گئے۔2016ء میں پاکستان کی ریاستی قوت وطاقت کے اصل منبع کی پہچان کے لئے آپ کو غالبؔ جیسی ذہانت درکار نہیں۔ نواز شریف کی بے بسی بھی اب خوب عیاں ہوچکی ہے۔ ہمارے تین انقلابیوں کو اس بے بسی سے بھرپور لطف اٹھانا چاہیے۔ وہ ہرگز اٹھاتے رہیں مگر خلقِ خدا کے دلوں میں یہ امید کیوں پیدا کرتے ہیں کہ ’’وہ وقت قریب آپہنچا ہے‘‘۔ شیر کو بھوک ستاتی ہے تو وہ شکار کو پنجہ مارنے میں دیر نہیں لگاتا۔ اسے اپنی قوت کو استعمال کرنے کے لئے نہ تو کسی کے اُکسانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی Enablersکی۔ ہانکا کرتے غول کی بدولت ’’صاحبان‘‘ کو شکار کی سہولت پہنچانے کے زمانے ختم ہوئے۔
بہرحال مجھے ’’کاکڑ فارمولے‘‘کا یقین دلادیا گیا تو میں ٹی وی بند کر کے سو گیا۔ صبح اُٹھا تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ بہت مایوسی ہوئی۔ سوچا تھا اس کالم کو ’’صبح نو‘‘ کے قصیدے کی مانند لکھوں گا۔ قصیدہ گوئی کے ہنر سے قطعاََ محروم ہوں۔ انقلاب مگر تخلیق کے کئی سوتے اپنی گھن گرج سے رواں کر دیتا ہے۔ کئی برس سے میرے اپنے سوتے خشک ہو چکے ہیں۔ جمائیاں لیتے ہوئے قلم گھسیٹ کر اپنا فرض نبھا دیا ہے۔ تھکن دور کرنے کو اب چائے درکار ہے۔ ’’کونسی جناب؟‘‘ والا سوال کرنے والا کوئی شخص اگرچہ میرے اِردگرد موجود نہیں۔ خود ہی پانی کو گرم کرنے رکھنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *