سی سی پی او لاہور نے ’لفظی تکرار‘ کے بعد سی آئی اے ایس پی کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے

محکمہ پولیس میں ایک اور تنازع پیدا کرتے ہوئے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ نے سیف سٹی اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس کے دوران ’لفظی تکرار‘ کے بعد تفتیشی ایجنسی (سی آئی اے) کے ایس پی عاصم افتخار کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے تاہم بعدازاں انہوں نے اپنے سینئرز کی مداخلت پر گرفتاری کے احکامات کو واپس لے لیا۔

 رپورٹ کے مطابق ذرائع کے مطابق صورت حال اس وقت خراب ہوئی جب مبینہ طور پر سی سی پی او اجلاس کے دوران آپے سے باہر ہوگئے تھے اور سول لائنز کے ایس پی کو اپنے ساتھی عاصم افتخار کے خلاف پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155 (سی) کے تحت مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔

صورتحال خراب ہونے سے قبل اجلاس میں موجود اعلیٰ پولیس افسران نے مداخلت کی اور دونوں سینئر افسران کے درمیان ثالثی کی۔

تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ عمر شیخ نے سی آئی اے ایس پی کو اجلاس کے مقام سے ہٹ جانے پر مجبور کیا اور کہا کہ لاہور پولیس کو ان کی خدمات کی ضرورت نہیں۔‎

چند غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سی سی پی او نے ’ایس پی کو ان کے گریبان سے پکڑا‘ تو دونوں افسران کے دوران ہلکی پھلکی ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

قبل ازیں لاہور کے سی سی پی او نے اجلاس میں موجود اعلیٰ پولیس افسر پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے مبینہ طور پر ’نرم گوشہ' رکھنے کا الزام لگایا تھا۔

معلومات رکھنے والے ایک اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ صبح 3:30 بجے اجلاس کے اختتام تک صورتحال کشیدہ رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے سی سی پی او کی سربراہی میں کام کرنے والے دوسرے ڈویژنل ایس پیز اور افسران کو ان کے ’جارحانہ رویوں‘ کی وجہ سے خوف زدہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسران کی اصل تشویش یہ ہے کہ عمر شیخ نے اپنے سینئر پولیس افسران کے ساتھ جونیئر ماتحت افسران کی طرح سلوک کرنا شروع کردیا ہے جن کے خلاف وہ 'غیر ضروری' سزا دینے والے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور جب سے عہدہ سنبھالا ہے ان میں سے 10 کے خلاف مقدمہ درج یا ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تازہ ترین واقعے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اجلاس کو جمعہ (آج) گوجرانوالہ میں منعقدہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے عوامی جلسے اور لاہور میں ہونے والی سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے سلسلے میں طلب کیا گیا تھا۔

اجلاس میں آپریٹنگ ونگ کے تمام ڈویژنل ایس پیز کو طلب کیا گیا، تاہم تفتیشی اور آپریشن ونگز کے ڈی آئی جیز - شہزادہ سلطان اور اشفاق احمد خان کو نہیں بلایا گیا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عاصم افتخار ملاقات میں ’صحت کے مسئلے‘ کی وجہ سے دیر سے پہنچے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس شروع ہوتے ہی سی سی پی او نے عاصم افتخار کی عدم موجودگی کو نوٹ کیا اور استفسار پر انہیں بتایا گیا کہ سی آئی اے ایس پی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ بخار میں مبتلا ہیں۔

سی سی پی او نے اپنے عملے سے موبائل فون پر ایس پی سے رابطہ کرنے کو کہا۔

رابطہ کرنے پر ایس پی نے عمر شیخ کو بتایا کہ انہوں نے درخواست کی ہے کہ وہ بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

عہدیدار نے بتایا کہ سی سی پی او نے ان کی درخواست مسترد کردی اور ایجنڈے کی حساسیت کی وجہ سے کسی بھی قیمت پر اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی۔

تاہم سی آئی اے ایس پی تھوڑی دیر سے اس اجلاس میں شامل ہوئے جس نے سی سی پی او کو ناراض کردیا اور مبینہ طور پر اپنے دوسرے ساتھیوں اور سینئر افسران کی موجودگی میں ان کے بارے میں توہین آمیز جملے کہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ایس پی نے اپنے باس سے درخواست کی کہ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک نہ کریں جس کے بعد سی سی پی او مزید بھڑک اٹھے اور مبینہ طور پر اس پر چیخنے لگے کہ ’میں تمہیں گرفتار کرادوں گا‘۔

اس پر ایس پی نے جواب دیا کہ سی سی پی او اس کے ساتھ کانسٹیبل کی طرح برتاؤ نہ کرے۔

عہدیدار نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں سی سی پی او نے سول لائنز کے ایس پی صفدر رضا کاظمی کو عاصم افتخار کی گرفتاری اور ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی سی پی او نے وہاں موجود عہدیداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ’نافرمانی‘ کے الزام میں سی آئی اے ایس پی کے اختیار میں گن مین اور دیگر عملے کو واپس لے۔

تاہم اجلاس میں موجود اعلیٰ پولیس افسران نے فوراً مداخلت کی اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس پی پھر اجلاس کے مقام سے روانہ ہوگئے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عمر شیخ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عاصم افتخار نے ’نظم و ضبط‘ کی خلاف ورزی کی ہے اور انہوں نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی کو فوری طور پر سی آئی اے ایس پی کی معطلی کے لیے اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں۔

سی سی پی او نے کہا کہ ’جب (عاصم افتخار) سے میری ہدایت پر رابطہ کیا گیا تو اس نے بخار کا بہانہ بنایا‘۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی میری واضح ہدایات کے باوجود اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور جان بوجھ کر اپنا موبائل فون بند کردیا جس کی وجہ سے انہوں نے سخت کارروائی کی۔

انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اجلاس میں موجود ڈی آئی جیز کی مداخلت پر ان (ایس پی) کے خلاف گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے‘ تاہم سی سی پی او نے بتایا کہ عملے اور پولیس وین کو سی آئی اے ایس پی سے واپس لے لیا گیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سی سی پی او نے واضح کیا کہ عاصم افتخار کے خلاف ان کے اقدامات کا موٹروے گینگ ریپ کیس کے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم اس سلسلے میں مؤقف کے لیے رابطہ کرنے پر سی آئی اے کے ایس پی نے معاملے پر اپنی رائے دینے سے انکار کردیا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ عمر شیخ نے اپنے ماتحت افسران کے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی کرکے تنازع کھڑا کیا ہو۔

اس سے قبل تھانہ گوجر پورہ کے ایک سابق اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نے لاہور کے سی سی پی او پر ایک سرکاری معاملے پر ان سے گالم گلوچ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

سی سی پی او نے ایس ایچ او کو نہ صرف ملازمت سے معطل کردیا تھا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا تھا۔

تاہم بعدازاں انہیں ایک عدالت نے ضمانت دے دی جس کے بعد انہوں نے سیشن عدالت سے رجوع کیا جس نے آئی جی پی سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت تھی جس کا فیصلہ زیر التوا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *