سعودی وزیردفاع کا دورہ پاکستان،چین اورجاپان

shahid mehmood

سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا مختصر ترین دورہ کیا ۔سعودی نائب ولی عہد اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔چک لالہ کے نور خان ائیربیس پر وزیردفاع خواجہ محمد آصف اور دوسرے اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔ اس کے بعد وہ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد پہنچے جہاں وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کی کابینہ کے ارکان نے ان کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔اس موقع پرپاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر بات ہوئی۔ سعودی وزیر دفاع نے مسلمان ممالک سمیت دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں وسعت آ رہی ہے۔سعودی وزیردفاع نے میاں نوازشریف سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات ،دفاعی شعبے میں تعاون ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ،سعودی عرب کی قومی سلامتی سے متعلق امور سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔سعودی وزیر دفاع نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی فورم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مزید جاری رکھا جائے گا۔سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے مختصر دورے میں پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے یہ دورہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر کیا۔سعودی ولی عہد نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوگا، پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام وزیراعظم نواز شریف تک پہنچایا۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف اور سعودی وزیر دفاع کے درمیان ملاقات میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ چین کے دوران دونوں ملکوں نے کئی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دسیوں معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے چینی نائب وزیر اعظم ڑانگ جے لی سے بیجنگ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چین۔ سعودی عرب مشترکہ کمیٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے پہلے سیشن کی کارروائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔سعودی ولی عہد اور چینی نائب وزیر اعظم کے درمیان ملاقات کے بعد 15 سمجھوتوں کی منظوری دی گئی۔ بیجنگ اور ریاض مین طے پائی دو طرفہ یاداشتوں توانائی، خوردنی تیل کی اسٹوریج، کانوں کی کھدائی اور تجارت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی وزارت ہاؤسنگ نے چین کے اصفر کے علاقے میں نئے شہر کی تعمیر میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ شاہراہ ریشم انفارمیشن معاہدے کی منظوری دی گئی۔ چین کی وزارت سائنس وٹکنالوجی اور سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز سائنس ٹکنالوجی سٹی کے درمیان سائنسی شعبے میں باہمی تعاون کی متعدد یاد داشتوں کی منظوری دی گئی۔ اس ضمن میں آبی وسائل سے استفادے کے لیے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ محمد بن سلمان کے دورہ چین کے پہلے روز 9 معاہدوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں اقتصادی بیشتر سمجھوتے اقتصادی اور تجارتی شعبے سے متعلق ہیں۔ نمایاں معاہدوں میں سعودی عرب کے ایوان صنعت وتجارت اور چین کے عالمی تجارتی مرکز کے درمیان تجارت کے فروغ کا معاہدہ شامل ہے۔ اس موقع پر عجلان اینڈ برادر گروپ آف کمپنیز چین کے زاورنگ شہر میں ڈیڑھ ارب یوآن کے توسیعی اور تعمیراتی منصوبے کی منظوری دی گئی۔ الجبر ہولڈنگ اور Hair کمپنی کے درمیان گھریلو الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری کا معاہدہ طے پایا۔ الرامز انٹرنیشنل اور ٹاپ ٹرانس گروپ کے درمیان باہمی تعاون کی یاد داشت منظور کی گئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ چین کے دوران الفا انڈسٹریز برائے فیڈ اور Jintan اور الجمیح کمپنی برائے تونائی کا چین کی CGN کمپنی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ ہوا۔ الجریسی گروپ اور ZTE اور الجریسی گروپ کا Huawei کے درمیان بھی معاہدہ ہوا۔ سدا بزنس سینٹر اور Credit International کے درمیان معاہدے کے وقت بھی شہزادہ سلمان اور چین کے نائب وزیر اعظم موجود تھے۔پاکستان اور چین کے کامیاب دورے کے بعدشہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز جاپان گئے۔ سعودی شاہی مہمان نے ٹوکیو میں جاپان کے شہنشاہ اکی ہیتو سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ٹوکیو کے شاہی محل میں ہوئی۔ ان کے دورہ ٹوکیو کے دوران دونوں ملکوں میں باہمی تعاون کے 11 معاہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹوکیو اور ریاض کے دوران دوستانہ تعلقات کے فروغ اور ویڑن 2030ء کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تمام اہم شعبوں میں کئی یاداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ سعودی نائب ولی عہد نے ٹوکیو میں جاپانی فرمانروا شہنشاہ ا کیھیٹو سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شہزادہ محمد نے جاپانی فرمانروا کو سعودی عرب کی اقتصادی ترقی کے لیے مقرر کردہ ویڑن 2030ء کے بارے میں بریفنگ دی۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ اور مشرق وسطیٰ کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے جاپانی وزیراعظم شینزو آبی سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی اقتصادی اور سیاسی شعبوں سمیت کئی دوسرے میدانوں میں ٹوکیو اورریاض کیدرمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے سے اتفاق کیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان اور جاپانی وزیراعظم کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی کئی یاداشتوں کی منظوری دی گئی۔ملاقات کے دوران جاپانی، سعودی فورم میں پانچ سو جاپانی کاروباری شخصیات، وزراء اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔نائب ولی عہد نے جاپانی تجارتی کمپنی Jetro کو سعودی عرب میں اپنا اقتصادی اور تکنیکی دفتر قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ دیگر 10 یادداشتوں میں سے باہمی تعاون کی چھ یادداشتیں سعودی عرب کی ارامکو کمپنی، تین الیکٹرک کمپنی اور تین یاداشتیں جاپان اور سعودی عرب کے بنکوں کے درمیان باہمی تعاون کے حوالے سے منظور کی گئیں۔ان یاداشتوں میں جاپان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت، صنعت، توانائی، ثقافت، اطلاعات، تحفظ ماحولیات سمیت کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروجیکٹ شروع کرنے سے اتفاق کیا گیا۔ جاپان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعلقات سنہ 1955ء میں جاپان کے قیام کیبعد سے قائم ہیں۔ سعودی عرب جاپان کو تیل کی 30 فی صد ضروریات پوری کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 32 ارب ڈالر ہے۔ جاپان نے سعودی عرب میں 87 مشترکہ منصوبوں میں 55 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *