تم آخر چاہتے کیا ہو؟

لوگ انگریزوں اور انگریزی کے بارے میں جو چاہے کہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ مجھے انگریز اور انگریزی دونوں سے بہت رغبت ہے، تاہم براہِ کرم ’’انگریز‘‘ اور ’’انگریزی‘‘ کو ’’مذکر‘‘ اور ’’مونث‘‘ کے معنوں میں نہ لیا جائے کیونکہ انگریز سے میری مراد مروجہ معنوں میں انگریز قوم اور انگریزی سے مراد خطۂ انگلستان و دیگر یورپی ممالک میں بولی جانے والی انگریزی زبان ہے۔ اِس ضمن میں ایک خوش آئندہ بات یہ ہے کہ انگریز اور انگریزی سے محبت کے معاملے میں میں تنہا نہیں ہوں بلکہ اِس انجمن میں میرے رازداں اور بھی ہیں۔ بلکہ انگریز کے زمانے کے خانسامے اور خان بہادر بھی میری ہی طرح انگریزی دور کے قصیدہ خواں ہیں۔ آپ اُن سے بات کر کے دیکھیں وہ انگریز حکومت کی برکات اور اس کے فیوض پر کچھ یوں روشنی ڈالیں گے کہ انگریز حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک پر خواہ مخواہ ندامت سی ہونے لگے گی۔سبحان اللہ! کیا زمانہ تھا، جب انگریز ڈپٹی کمشنر انگلستان سے اپر ڈویژنل کلرک سے پروموٹ ہو کر ہندوستان میں بطور ڈپٹی کمشنر آتے تھے، اور بڑے بڑے زمیندار اور وڈیرے ڈالیاں پیش کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ انگریز کے دربار میں کرسی ملنے پر مہینوں اس پر فخر و انبساط کا اظہار ہوتا تھا، الحمداللہ اپنے ان محسنوں کے احسانات کو یاد رکھنے والی نسل اور پھر ان کی اگلی نسل اس وقت میرے درمیان موجود ہے اور اتنے کروفر سے موجود ہے کہ آج میں ان کی خدمت میں ڈالیاں پیش کرنے کےلئے حاضر ہوتا اور قدم بوسی کی سعادت حاصل ہونے پر شادان وفرحاں گھروں کو لوٹتا ہوں! اور جہاں تک انگریزی زبان سے محبت کا تعلق ہے تو اس زبان کے کشتگان میں تو افسران قوم تک شامل ہیں تبھی تو انگریز کے جانے کے بعد بھی دفتروں سے انگریزی نہیں گئی، دراصل اس زبان میں برکت بہت ہے، آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو میں بات کرتے ہوئے انسان کچھ کچھ فرسودہ سا لگتا ہے، لیکن جونہی وہ انگریزی میں گفتگو کا آغاز کرتا ہے، ایک دم سے ’’اپ گریڈ‘‘ ہو جاتا ہے۔ میں نے تو یہی دیکھا ہے کہ جونہی کوئی شخص انگریزی بولنے والوں کی ’’یونین‘‘ میں شامل ہوا اس کے درجات بلند ہو گئے، تاہم اس کے لیے صرف انگریزی بولنا کافی نہیں بلکہ اندر سے انگریز ہونا بھی ضروری ہے۔

میں نے عرض کیا تھا کہ اگر مجھ سے کوئی اپنی قومی یا مادری زبان میں گفتگو کرے تو اسکے بارے میں پہلا تاثر کچھ ٹھیک نہیں رہتا جبکہ انگریزی بولتے ہی اس کی ٹانگوں کے ساتھ لمبے لمبے بانس لگ جاتے ہیں اور اتنا اونچا نظر آنے لگتا ہے کہ اس کے سامنے جھکنے کو جی چاہتا ہے اور یہ ضروری بھی نہیں کہ بقول مرزا محمود سرحدی؎

جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں

ہم خودی کو بلند کرتے رہے

تاہم اردو پر انگریزی کی ’’فضیلت‘‘ کا پوری طرح اندازہ لگانا ہو تو کبھی انگریزی اخبارات میں دانشوروں کے خوبصورت انگریزی میں لکھے ہوئے مضمون پڑھیں، محسوس ہوگا کہ کوئی شخص بلندی پر کھڑا ہو کر بات کررہا ہے بلکہ بیشتر اوقات تو وہ اتنی بلندی پر کھڑے ہوتے ہیں کہ نیچے تک ان کی آواز ہی نہیں آتی، اس کے برعکس یہی مضمون اردو میں ترجمہ کر کے پڑھیں، تو یہ مضمون دو ٹکے کا نہیں لگے گا، اب ظاہر ہے اس میں ان دانشوروں کا یا ان کی دانشوری کا کوئی قصور نہیں، قصور تو اس نیٹو (NATIVE) زبان کا ہے جسے اردو کہتے ہیں اور جسے لکھتے وقت ہم اس بے دلی سےلکھتے ہیں کہ نہ کہیں کوما اور نہ کہیں فل اسٹاپ ڈالتے ہیں،تاہم یہاں یہ وضاحت ایک دفعہ پھر ضروری ہے کہ انگریزی کے کشتگان میں صرف رہنما یان کرام اور افسران عظام ہی شامل نہیں بلکہ معاملہ؎

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اسی کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

والا ہے۔ چنانچہ میں اور یہ سب لوگ انگریزی سے اپنی محبت اور عقیدت کا عملی ثبوت پیش کرنے کیلئے اگر اور کچھ نہیں تو اپنی گفتگو میں انگریزی کا ایک آدھ فقرہ بولنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں اور جنہیں اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی، وہ اپنی خاموش محبت کا ثبوت کسی نہ کسی طور پیش ضرور کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست ایک دفتر میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ انگریزی سے والہانہ محبت کے باوجود بدقسمتی سے اس زبان سے متعارف ہونے کی سعادت سے محروم رہے۔ مگر مجال ہے اپنی یہ محرومی کسی پر ظاہر ہونے دیں، چنانچہ جب کوئی انگریزی میں درخواست لکھ کر ان کی خدمت میں پیش کرتا ہے تو وہ درخواست ہاتھ میں پکڑتے ہیں، عینک لگاتے ہیں اور پانچ دس منٹ تک پوری توجہ سے اس کے نفس مضمون پر غور کرتے ہیں، بالآخر وہ درخواست میز پر رکھتے ہیں، عینک اتارتے ہیں اور میز پر کہنیاں ٹکا کر درخواست گزار سے کہتے ہیں ’’درخواست میں نے پڑھ لی ہے، اب تم مختصراً مجھے یہ بتائو کہ تم چاہتے کیا ہو؟‘‘اور اب آخر میں فہد حسن فہد کی ایک تازہ خوبصورت غزل !

مزاجِ شہر ستم کو بدل نہیں سکتا

یہ ظلم وجبر کا موسم بھی چل نہیں سکتا

بدل بھی لوں میں اگر یہ مزاحمت کا مزاج

تو اسکے موم کے سانچے میں ڈھل نہیں سکتا

وہ بے مہر تو ہے لیکن وفا شناس بھی ہے

سو پاس آئے نہ آئے، بدل نہیں سکتا

نجات موت سے کیسے کوئی بھلا پائے

وہ ایک لمحہ اٹل ہے جو ٹل نہیں سکتا

وصال و ہجر کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں عمر بھر تو انہی سے بہل نہیں سکتا

مرے نصیب میں لکھا ہے دائروں کا سفر

میں اس حصار سے باہر نکل نہیں سکتا

ہے ایک عمر سے خوشبو سفیر میری حسنؔ

میں پھول پائوں کے نیچے مسل نہیں سکتا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *