مولوی صاحب کی چندا کا" چندہ "بھی ہو سکتا ہے

Seemi Kiran

اور دراصل یہ ایک وضاحتی کالم ہے اور حفظ ماتقدم کے تحت تحریر کیا گیا ہے! قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کچھ قارئین کو غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے کہ ہم مغرب پسند ہیں اور مولویوں سے خار کھاتے ہیں اور مولوی بے زار ہیں! اس لئے ہم پہ لازم ہو گیا تھا کہ ہم اس غلط فہمی کا ازالہ کریں جس طرح مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ گدھے ہمارے بھائی ہیں۔۔۔۔۔۔ الو ہمارے بھائی ہیں۔۔۔۔۔ تو میں کہتی ہوں کہ مولوی میرے بھائی ہیں۔۔۔۔۔ یقین نہیں آیا ؟! سچ مچ میری فیملی تو مولوی شدہ ہو چکی ہے ! مولوی سچ مچ میں میرے بھائی ہیں اور جو بھائی بغیر داڑھی کے ہیں اُن کے پیٹ میں بھی داڑھی ضرور موجود ہے! یہ اور بات ہے کہ اک ادبی گروپ میں جب ہم نے یہ اعتراف جرم کیا کہ میں تو مولویوں کے حصار میں رہتی ہوں تو اک محترم دوست نے پوچھا " سیمیں بھلا کیسے؟" تو میں نے ترنت جواب دیا " زبان رہتی ہے جیسے بتیس دانتوں کے درمیان"

اس سے پہلے کہ میں مزید آگے بڑھوں، لازم ہے کہ کچھ تعارف میں ان بتیس دنتوں کا بھی کروا ہی دوں ، میرا خاندان بھان متی کا کنبہ ہے ۔۔۔۔۔ بس اس سے اگلا جملہ آپ خود مکمل کر لیجیے، والدین کی وفات کے بعد جو اینٹ روڑا جہاں مناسب لگا ہم نے فٹ کر دیا ! سو ہم پٹھان بھی ہیں !

اعوان بھی ہیں!

ہم شیخ بھی ہیں!

ہم راجپوت بھی ہیں!

ہم باجوے بھی ہیں اور گوندل بھی

اور اس تمام تر تنوع کے حسن کے ساتھ ہم مولوی بھی ہیں!

کیونکہ مولوی میرے بھائی ہیں!

اور یہ زبان گو لاکھ سنبھل کر رہتی ہے کبھی کبھی دانتوں تلے آ ہی جاتی ہے !

اب اگلا قصہ وضاحت و سراحت کے ساتھ آپ پر ثابت کر دے گا کہ مولوی بالآخر میرے بھائی ہیں!

ہوا کچھ یوں کہ اپنے بہن بھائیوں کے گروپ میں ہم نے ازراہ مذاق و شرارت ایک لطیفہ پوسٹ کر دیا !

لطیفہ کچھ یوں تھا کہ مولوی صاحب کی اک "چندا" تھی دل کی ملکہ مان چکے تھے دل ہی دل میں اسے مگر کہنے کی جرات منصب نہیں دیتا تھا۔ اک روز ہمت جٹا کر اس کے دروازے پہ پہنچ کر دستک دی اور لب و لہجے میں تمام تر شیرینی سمو کر بولے " چندا" چندا نے ان کو دیکھا ، سر پہ دوپٹہ اوڑھ واپس مڑ گئی مولوی صاحب سمجھے کہ چندا شرما گئی، ابھی تذبذب میں کھڑے تھے کہ چندا لوٹی اور ہاتھ میں کچھ نوٹ تھما کر بولی، مولوی صاحب " چندہ" ۔۔۔۔۔۔

بس یہ لطیفہ بھیجنا تھا کہ ہمارے گروپ میں زلزلہ آ گیا ۔ بڑے مولانا جلال میں آ گئے، خوب گرجے برسے ، ہمیں احادیث و آیات کے عرق مقدس سے شرمندگی کے بحر میں غوطہ زن کرنا چاہا! اسی پہ بس نہیں کیا بلکہ فتوی جاری کر دیا کہ ہم سب لکھاری پاگل ہوتے ہیں! بھلا مولانا اس فتوے کی کیا ضرورت تھی ؟! ہم تو سب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سب کچھ "کھسکے" ہوتے ہیں! وہ اینار میلٹی جسے حسن ظن "سپر نار میلٹی" کہتا ہے! ہم قبیلہ عاشقاں کے فرد مولانا صاحب واقعی عرف عام میں تھوڑے سے پاگل ہی کہلاتے ہیں! لیکن قارئین آپ ذرا ملاحظہ کیجئے ، آخر ایسا کیا قصور ہم سے سر زد ہوا تھا بھلا ۔ فقط چندا اور چندا کے خوبصورت مغالطے "چندہ" ہی کی تو بات تھی!  آپ مولوی بھائی صاحب آپ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ لاکھ دستار ہو ، فضیلت کا جبہ بھی ہو ، مولوی بھبی تو آخر انسان ہی ہوتا ہے ! ابن آدم ؟! ابن آدم ہو اور اس کی کوئی چندا نہ ہو ؟! آخر سب کی ایک چندا تو ہوتی ہی ہے نہ! اور جو اگر چندا آپ کی دستار اور ریش مبارک کے جلال و جلوے کے رعب میں آ کر آپ کا دھڑ دھڑ کرتا دل نہ دیکھ پائے اور چندہ تھا دے ہاتھ میں تو بتائیے ذرا، رونے کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آئے گی یا نہیں؟!

اب جو مجھے ہنسی آ گئی تو کیا خطا ہو گئی جو آپ اس قدر خفا ہو گئے ! بھلا اتنا جلال میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟! اب تو آپ کو یقین آیا کہ میں مولویوں کے بارے میں گر کچھ کہتی ہوں تو دراصل وہ گھر کی ہی بات ہوتی ہے! اور کوئی اپنے گھر کی ریتی رواج سے لاکھ باغی ہو پھر بھی گھر تو آخر اپنا ہے! سو آپ کو مجھ سے یہ بدگمانی دور کر لینی چاہئیے کہ میں خدانخواستہ مولویوں سے کوئی عناد رکھتی ہوں! کیونکہ مولوی تو آخر میرے بھائی ہیں! ویسے تو بھائیوں کی بھی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں، اک برادران یوسف بھی ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ خیر بھائیوں کی مزید اقسام پہ کسی اگلے کالم میں بات ہوگی۔ یہ نہ ہو کہ یہ زبان کم بخت پھر پٹٹری سے پھسل جائے اور کسی دانت تلے آکر کچلی جائے!

مولانا بھائی صاحب آپ جب یہ کالم پڑھیں گے تو حاجی ہو چکے ہوں گے خیر سے ! یعنی مولانا بھی اور حاجی بھی یک نہ شد دو شد ! اپنی حاجیانہ مبارک نظر سے غور فرمائیے گا بھلا کیا غلط کہا تھا میں نے ! گر یہ سب پڑھتے ہوئے آپ مسکرا دیں، مسکراتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس پڑیں تو میں سمجھ جاؤں گی کہ آپ یونہی مولویانہ جلال میں مبتلا ہو گئے تھے ! اور عید ار حج کے مبارک موقع کی برکت میں دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ہر دل میں اک چندا بسی تو ہوتی ہے تو پھر بھلا آپ کو غصہ کس بات پہ آ گیا تھا ! آخر میں نے "چندا" کا ہی ذکر کیا تھا، کوئی چندہ تھوڑی آپ سے مانگا تھا! اسی گروپ میں چھوٹے مولوی بھائی بھی تو تھے ، وگر غصہ صرف بڑے مولانا کو آیا ، شاید۔۔۔۔۔ مگر چلئے چھوڑئیے شاید کو، عید سعید قریب ہے، غصے و جاہ جلال کو قربان کر کے خوشیاں بانٹتے ہیں اور بہن بھائیوں میں یہ نوک جھونک تو چلتی رہتی ہے کہ آخر مولوی تو میرے بھائی ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *