شغلِ شاعری

ali raza ahmed

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ...آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؛؛؛یقینایہ پہلا شعر ہے جس کی روحانی طاقت نے میرے اندر کے شاعر کو شعر کہنے کی ابتداء کروائی تھی اوراس پہلی پرواز کے بعد آگے آگے دیکھتا گیاتاکہ غزل کی جانب سفرکے لئے رونا دھونا نہ پڑے کیونکہ میر تقی میر نے کام کے آغاز میں رونے دھونے کو اچھا خیال نہیں کیاورنہ دھوبی کپڑے دھونے سے استری مکمل کرنے تک ہلکان ہو جاتا۔میرے خیال میں آج کل کے شاعر کو عشق میں ناکامی کی بجائے پبلشر کی ’’کامیابی ‘‘ کی وجہ سے زیادہ رونا پڑتا ہے۔ اس کامیابی سے گھبراتے ہوئے ،دو سو سے زائد غزلیں اور تقریبا اتنی ہی نعتیں کہنے کے بعد میں نے اپنے کلام کو اُس ایف آئی آر کی طرح سیل کر دیاتھاجس میں کچھ ضمنیاں شامل ہونا ابھی باقی ہوتا ہے چنانچہ شاعری کوابھی تک ’’مجموعی‘‘ لاک لگا کر رکھا ہے۔دریں اثنا دو کتابیں ’’دھجی آں‘‘ اور’’ ایرے غیرے‘‘ چھپ چکی تھیں جس میں فقاہیہ و شگفتہ تحریروں کے مجموعہ جات شامل تھے اور اس بات کو بھی بارہ چودہ سال بیت چکے ہیں ۔اپنی مذکورہ کتابوں میں پیروڈی اشعار شامل کرنا شروع کر دیے تھے جیسے بکرا نہیں تو اِک بوٹی سہی ...بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی...لوگ کار لیتے ہیں ہم ڈکار لیتے ہیں ...سر سے بھوت سیر کا ہم اتار لیتے ہیں...پہلی باقاعدہ غزل جسے میں نے اپنے استاد محترم ڈاکٹر الف ۔د۔نسیم مرحوم و مغفور کی خدمت میں پیش کیاوہ درج ذیل ہے ۔اس میں بھی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں اردو و کے پہلے پی ایچ ڈی تھے اور انہوں نے 1954 میںیہ کارہائے نمایاں انجام دیا اور ان کے بارے میں کبھی ضرور تحریر کروں گا۔اپنی ابتدائی غزلوں کے چند اشعار پیش خدمت کرتا ہوں ؂
تیرا آنا بھی مرے یار بہانہ نکلا
میں حقیقت جسے سمجھا تھا فسانہ نکلا
میری غربت سے نہ گھبرا کہ میں وہ مٹی ہوں
جس کو کھودا جو کسی نے تو خزانہ نکلا
تیر جو اس نے کسی اور کی جانب چھوڑا
جانے کیوں وہ بھی مری سمت روانہ نکلا۔۔۔
دل اس پہ فدا ہے تو کوئی بات تو ہو گی
وہ مجھ سے خفا ہے تو کوئی بات تو ہوگی
جو چاک تھا کل تک وہ گریبانِ غریبی
گر آج سِلا ہے تو کوئی بات تو ہو گی
جس رِند نے مسجد کا کبھی منہ بھی نہ دیکھا
زاہد وہ بنا ہے تو کوئی بات تو ہوگی۔۔۔
گذر گئے کئی سال قریباً
رنگت کھو گئے بال قریباً
نکلی کوئی فال قریباً
وہ جانے مرا حال قریباً
کوّا ہنس کی چال چلا تھا
بھولا اپنی چال قریباً۔۔۔
وہ ہم کو دیکھ کر بڑے حیران ہو گئے
جن کے لئے تھے چاک گر یبان ہو گئے۔۔۔
اپنے اتنے بھی بُرے دوستو حالات نہیں
کعبۂ دل میں کوئی عُزیٰ و منات نہیں
بات بن جاتی، بڑی بات تھی، لوگو! لیکن
بات جو بن نہ سکی ہے تو کوئی بات نہیں۔۔۔
اک رختِ سفر کا میں سامان سا لگتا ہوں
گھر اپنا ہے گو پھر بھی مہمان سا لگتا ہوں
تعمیر کیا جب سے اک تاج محل دل میں
اک شاہِ جہاں کا میں ایوان سا لگتا ہوں
جب سے مرے آقاؐ کا فیضان ہوا مجھ پر
ہر دیکھنے والے کو غِلمان سا لگتا ہوں۔۔۔
ہر چمکتی چیز کی ہم بندگی کرتے نہیں
مر تے تو جاتے ہیں لیکن خودکشی کرتے نہیں
جس میں پوشیدہ ہوں اندھیاروں کے ساماں اے عزیز
ہم کسی کے گھر میں ایسی روشنی کرتے نہیں
خشک آنکھیں تر نہیں کرتے فراق و ہجر میں
ہم محبت میں ریاکاری کبھی کرتے نہیں۔۔۔
چنانچہ اب میرے پاس تقریبا دوسو غزلیں اورقریبا اتنی نعتیں محفوظ ہیں اور خواہش یہ ہے کہ دھرنے کے دوران ساتھ ہی چھپوا لوں تاکہ تبدیلی کے ساتھ ہی غزلیائی تبدیلی بھی لائی جا سکے۔۔۔ !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *