بھارت امریکی دفاعی معاہدہ اور پاکستان

mir afsar aman

بھارت اور امریکا نے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اس کا تجزیہ کرنا ہے کہ سات سمندر پار امریکا کو اس کی کیا ضرورت ہے ، بھارت کس فائدے کے تحت اس فوجی معاہدے میں شامل ہوا ہے اور پاکستان پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟امریکا اُبھرتی ہوئی چینی قوت کو بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے۔ اُسے پاک چین اقتصادی رہداری پسند نہیں۔ اس سے چین کو گرم پانیوں تک رسائی مل جائے گی۔امریکا نے سردجنگ کے بعد اعلان کیا تھا اب دنیا میں اُس ہی کاحکم ( ورلڈ آڈر)چلے گا۔اُسی وقت سے اُس نے ڈاکٹرین بنایا ہوا ہے کہ دنیا میں ہراُبھرتی ہوئی طاقت کو دبا دے، اُسے مفلوج کر دے یا کم از کم اُسے نقصان پہنچائے۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد،مسلمان جہادی تحریکیں اور مسلمان ملکوں میں سیاسی سمجھ بوجھ، ایک اُبھرتی ہوئیں طاقت تھیں اور عین ممکن تھا کی وہ اپنے اپنے ملکوں میں امریکی پٹھو حکومتوں کی جگہ اسلامی حکومتیں قائم کر لیں جو امریکا بہادر کو منظور نہیں۔اس کا توڑ کرنے کے لیے امریکا نے عراق،افغانستان، لیبیا،شام،مصر اور دوسرے اسلامی ملکوں میں، کہیں مسلمان حکومتوں کو آپس میں لڑا کر، کہیں فوجی بغاوت کے ذریعے اور ۹؍۱۱ کا جعلی واقعہ کر کے پورے مسلم دنیا کو تہس نہس کر دیا۔ یہودی عالمی میڈیا کی مدد سے مسلمانوں کوانتہا پسند اور دہشت گرد ثابت کر دیااوراِس اُبھرتی ہوئی طاقت کو دبا دیا گیا۔ مسلم دنیا پر قبضے اور مسلم کش امریکی پالیسیوں کی وجہ سے بننے والی القاعدہ،طالبان اور داعش میں اپنے تنخواہ دار خوانخوار داخل کر کے ان کو عام مسلمانوں میں بدنام کیا اور کہیں ان دہشت گرد تنظیموں کو خود بنایا۔ امریکا کی یہ پالیسی پوری مسلم دنیا کو مفلوج اور قابو رکھنے تک جاری ہے اوررہے گی۔ بھارت کو اس دفاعی معاہدے سے کیا فاہدہ ہو گا یہ پاکستان کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے مشرقی پاکستان پر فوج کشی سے پہلے ایسا ہی معاہدہ اُس وقت کی عالمی طاقت اشتراکی روس سے بھی کیا تھا۔جس کی مدد سے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنایا تھا۔اب کشمیر میں تازہ پاکستان میں شامل ہونے کی کشمیریوں کی تحریک نے بھارت کے کان کھڑے کر دیے ہیں اور اپنے ناپاک عزائم کے لیے اس دفاعی معاہدے میں شریک ہواہے۔بھارت نے پاک چین راہداری میں رخنہ ڈالنے کے لیے اعلانیہ فنڈ مختص کیے ہیں۔ بلکہ اپنے حاضر سروس کلبوشن یادیو جیسے جاسوسی نیٹ ورک بھی جونک دیے ہیں۔ دہشت گرد مودی نے اپنے یوم آزادی کے موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے اعلانیہ اپنے ڈاکٹرین کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت بلوچستان،گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور کراچی کو پہلے ہی سے علیحدہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ افغان طالبان کی وجہ سے پہلی دفعہ افغان پاک حکومتوں میں دوستی قائم ہوئی تھی۔ مگر ہمارے ناعاقبت اندیش اور بزدل فوجی کمانڈو ڈکٹیٹرپرویزمشرف نے ایک ٹیلیفون کال پر طالبان کی جائز پاکستان دوست حکومت کو امریکا کا ساتھ دے کر ختم کر دیا تھا۔ اب امریکا یہ جنگ پاکستان میں لے آیا ہے۔ ہمارے ملک کے جو حالات ہیں وہ پوری پاکستانی قوم کو بخوبی معلوم ہیں۔صاحبو! اس صورت حال سے نکلنے کے لیے، ہمارے مقتدر حلقوں کو کیاکچھ کرنا چاہیے۔ بھارت کی طرف سے جنگ چھیڑنے کے وقت امریکا پاکستان کی مدد نہیں کرے گا۔ بلکہ جیسے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت بھارت نے جب مشرقی پاکستان میں فوجیں داخل کی تھیں تو پاک امریکا دفاعی معاہدہ ہونے کے باوجودساتواں بحری بیڑا نہ اپنے مقام سے چلا نہ امریکا نے ہماری مدد کی تھی۔ اس وقت کے امریکا کے یہودی وزیر خارجہ کی کتاب میںیہ بیان درج ہے کہ امریکا نے پاکستان توڑنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ ابھی بھی امریکا ایسا ہی کرے گا۔ پیٹگان نے تو پاکستان توڑنے اور نئے پاکستان کے نقشے تک بھی جاری کیے ہوئے ہیں۔ کسے نہیں معلوم کہ بھارت پاکستان کو توڑ کر اپنے پہلے سے طے شدہ ڈاکٹرین کے مطاق اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے۔ بھارت میں اس وقت مسلمانوں کی شدید مخالف دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی ممبر دہشت گرد مودی کی حکومت ہے۔ بھارت نے بہترسفارتکاری کر کے افغان، ایران، اور عرب ملکوں کو ایک حد تک پاکستان کا مخالف بنا دیا ہے۔
جب پاکستان مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا تھا تو مسلمان ملکوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ایٹمی قوت ہوتے ہوئے ہم ان مسلمان ملکوں کو یہ باور کراتے کہ مشکل وقت میں پاکستان ان کی مدد کے لیے تیار ہو گا۔ مگر ہمارے نا اہل سیاست دانوں کی وجہ سے معاملہ اس کے الٹ ہو گیا ہے۔ بھارت نے امریکا اور اسرئیل کے ساتھ مل کر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی پشت پناہی کی ہے۔ اس مثلثِ خبیثہ نے ہماری مسلح افواج کو اپنی ہی عوام سے لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی قبیح کو شش کی ہے۔ہمارے ملک کی ہرچیز پر حملے ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے عوام کی حمایت سے پاکستان میں ہتھیار اُٹھانے والے ہر گروہ کے ساتھ ضرب عضب کے تحت صفایا کرنے کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ان حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان سے جنگ چھیڑ سکتا ہے۔ ہمارے سپہ سالار نے گلگت اور راولپنڈی میں پاکستان کے دشمنوں کو للکارتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ ہماری افواج دوستی نبھاناا اور دشمن کو سبق سکھانا بھی جانتی ہے۔ صاحبو! ان حالات میں پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لہٰذا جتنی جلدی ہو پاکستان کے اندرونی دشمنوں اور پاکستان کے خلاف ناقابل برداشت نعرے لگانے والوں اور ناپاک عزائم رکھنے والوں کو پاکستان کے قانون کے مطابق پابند ی لگا کر قرار واقعی سزا دینا چاہیے۔تحریک پاکستان طرز کی اسلام سے آگاہی کی مہم چلا کر پاکستان کی عوام کو ایک قرآن ایک نبیؐ اور ایک قوم کی بنیاد پر اکھٹا کرنا چاہیے۔ مقتدر حلقوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کے شیدائی قائد اعظم ؒ کے دشمن سیکولر عناصر ، جو قائد اعظم ؒ کو سیکولر ثابت کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ جو اس طرح پاکستان کی را کھوٹی کرنے کی مہم میں ملوث ہیں۔ وہ پاکستان کے بہی خواہ نہیں ہیں ۔اصل بہی خواہ اسلام کوسینے سے لگانے والے قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریے کے محافظ ہیں۔ پاکستان کی بقاء نظریہ پاکستان کو زندہ رکھنے میں پنہاں ہے۔کیا پاکستان کو توڑتے وقت اندرا گاندھی، دشمن پاکستان نے، نہیں کہا تھا کہ دو قومی نظریہ میں نے خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اپنی دفاعی صلاحیت یعنی میزائل اور ایٹمی کو قوت کو مذید ترقی دینا چاہیے۔ بھارت سے جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اُسے باور کرانا چاہیے کہ اگر پاکستان نہیں، تو تم بھی نہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان کو بھی دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح پاکستان کی ترقی کی ضامن اقتصادی راہداری اور پاکستان کا تحفظ ممکن ہے۔ اللہ ہمارے پاکستان کا محافظ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *