جنسی حقائق : وہم اور حقیقت کافرق!

 

dr-matloob

ڈاکٹر مطلوب الرسول

حکم ہوتا ہے،" آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور جو جی چاہے کھاؤ پیو مگر " شجر ممنوعہ" کے پاس مت جانا"
آدم ایسا ہی کرتے ہیں مگر ایک روز ابلیس، حوّا  کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانے پر راضی کر لیتا ہے اور حوا، آدم کو قائل کرکے شجر ممنوعہ کا پھل کھانے پر مجبور کر دیتی ہے اور نتیجتاً دونوں پر ان کی شرمگاہیں کھل جاتی ہیں، یعنی دونوں جنسی لذت سے اگاہ ہو جاتے ہیں- یہ عین مشیت خداوندی تھی کیونکہ بقائے نسل انسانی کے لئے یہ ضروری تھا، یہی وہ راستہ تھا  جس پر چلتے ہوئے انسان زمین پر خلیفۃ اللہ کے منصب پر فائز ہو سکتا تھا اور یہی وہ عمل تھا جس کے ذریعے انسان نے تھکن آمیز زندگی میں خود کو پرسکون کرنا تھا ، یہی وہ مزغزار تھا جس کے پر لطف سائے میں اس نے اپنے غم غلط کرنے تھے لہذا اللہ نے اس لذت کو انسان کی فطرت کا حصہ بنا دیا اور یوں یہ ایک زبردست انسانی ضرورت بن گئی جس کے حصول کےلئے انسان نے مختلف طریقے اپنائے اور گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس نےدیگر انسانی مسائل کے ساتھ ساتھ ایک مستقل   مسئلے کی صورت اختیار کر لی جیسے دیگر مسائل میں مختلف آراء سے مسئلہ الجھ جاتا ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی الجھاؤ کا شکار ہے کہ اس لذت سے کیسے مکمل لطف اٹھایا جاسکتا ہے کیا اس سے لطف صرف جوانی ہی کا خاصہ ہے یا بڑھتی عمر کے ساتھ بھی ان لمحات کو پرلطف بنایا جاسکتا ہے کیا اس سے لطف اٹھانا صرف مرد ہی کا حق ہے یا عورت بھی اس کا حق رکھتی ہے دونوں کی لطف انگیزی کا ایک ہی انداز و معیار یے یا الگ الگ ان تمام سوالوں کے جواب اس سلسلے میں دینے کی کوشش کی جائے گی ( جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *