شاعری کے جواب میں شاعری

انتظار حسینIntizar

نذیر قیصر شاعری کے میدان میں اچھا خاصا لمبا سفر کر چکے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ اس سے پہلے ان کی شاعری کے دس مجموعے شایع ہو چکے ہیں اور انھیں شاعر کی حیثیت سے داد بھی بہت مل چکی ہے۔ اس کے بعد ان کے یہاں اپنے بارے میں اعتماد پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔

سو اپنا نیا مجموعہ ’محبت میرا موسم ہے‘ پیش کرتے ہوئے انھیں اتنے بہت سے سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی جو انھوں نے پیش کیے ہیں۔ ان سرٹیفکیٹوں کی وجہ سے عجب صورت حال پیدا ہو گئی کہ یہ مجموعہ شاعری کے دو مجموعوں کا تاثر پیش کرتا نظر آتا ہے۔ ایک تو خود نذیر قیصر کی شاعری ہے۔ مگر ان کی شاعری سے پہلے ہمیں شاعری کے ایک اور دریا سے گزرنا پڑتا ہے جو خود ان کی شاعری کے بارے میں کی گئی ہے۔

یہ شاعری جو ان کی شاعری کے بارے میں کی گئی ہے دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک تو وہ باقاعدہ نظمیں ہیں جو ان کی شاعری کو خراج تحسین پیش کرتی نظر آتی ہیں پھر وہ شاعری ہے جو نثری بیانات کی صورت میں ان کے ہم عصروں اور بزرگوں نے ان کو نذر کی ہے۔ لیجیے ان میں سے چند بیانات ہم نقل کیے دیتے ہیں۔

پہلا بیان امرتا پریتم کا۔ کہتی ہیں ’’مان لیا کہ پہلا حرف خدا کا نام ہے اور دوسرا موت کی پرچھائیں کا۔ مگر میری مبارکباد تیسرے حرف کو ہے یعنی نذیر قیصر کو جس کی ذات کا چراغ ہر جگہ روشن ہو گیا ہے۔‘‘

دوسرا بیان جیلانی کامران کا۔ کہتے ہیں ’’نذیر قیصر کی شاعری میں انسان کائنات کی بارگاہ میں خود کو پہلی بار جاگتا ہوا محسوس کرتا ہے۔‘‘

تیسرا بیان منیر نیازی کا ’’نذیر قیصر کی شاعری کسی چمکتے ہوئے چاند کی طرح طلوع ہوئی ہے۔ اس شہر ظلمات کو شہر طلسمات بنانے کے لیے!!

چوتھا بیان شہریار کا جو یوں ہے ’’نذیر قیصر نے جو شعری جہان آباد کیا ہے اس سے سرسری نہیں گزرا جا سکتا۔ اس شعری جہان سے سانس روک کر ٹھہر ٹھہر کر گزرنا پڑتا ہے کہ این جہانِ دیگر است‘‘

احمد ندیم قاسمی کا بیان ’’نذیر قیصر غیر معمولی شدت احساس کا شاعر ہے۔ اس کا کلام پڑھتے ہوئے کبھی کبھی تو یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں اس ذہین شاعر کے دماغ کی نسیں نہ پھٹ جائیں۔‘‘

بانو قدسیہ ’’نذیر قیصر شہر سخن کا وہ بنجارہ ہے جس کے پاس ہمیشہ نئی نئی سوغاتیں ہوتی ہیں۔‘‘

ایک نظم کا ٹکڑا بھی سن لیجیے۔ نظم کہنے والے ہیں۔ حنان شیخ ’’تم نے قدیم شام کو ہم سخن کیا

اور اولیں ہوا کو موذن ہونے کی خوشخبری دی۔

یہ ہے مشتے نمونہ از خروارے۔

یہ بیانات کیا کہتے نظر آتے ہیں۔ شاعرانہ بیانات سے تو شاعری کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ کم از کم قاسمی صاحب کے بیان میں نذیر قیصر کی شاعری کے ایک وصف کی طرف اشارہ ہے۔ شدت احساس کا وصف بیان مبالغہ آمیز ہی سہی مگر شاعری کی طرف کوئی اشارہ تو ہے۔ باقی بیانات میں تو شاعری ہی شاعری ہے جس سے اس شاعر یا اس کی شاعری کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا۔

اب ہم چکنم میں ہیں۔ اتنی شاعری کے بعد ہم کیا کریں۔ شاعری کے بارے میں شاعری بگھارنی ہم سے آتی نہیں۔ نثر میں اس شاعری کے بارے میں جو کچھ لکھیں گے اس سے شاعر کی تشفی نہیں ہو گی۔ نامی گرامی شاعروں نے اس عزیز کو اس انتہا پر جا کر خراج تحسین پیش کیا ہے کہ ہم مبالغہ کے ساتھ بھی اس شاعری کی توصیف کریں تو اس کی قیمت کتنی ہو گی۔ وہ جو جیلانی کامران نے ارشاد کیا ہے کہ ’’نذیر قیصر کی شاعری میں انسان کائنات کی بارگاہ میں خود کو پہلی بار جاگتا ہوا محسوس کرتا ہے۔‘‘ اس کے بعد کچھ بھی کہنے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔ بس اب ہم اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ خود نذیر قیصر کی شاعری کو پڑھ کر دیکھیں کہ وہ خود کیا کہتی ہے۔

سروسامان تو سب جا چکا ہے

بس اک نقل مکانی رہ گئی ہے

یہ روز و شب کھنڈر ہوتی حویلی

بزرگوں کی نشانی رہ گئی ہے

نکالے جا چکے ہیں گھر سے گملے

مگر خوشبو پرانی رہ گئی ہے

لیجیے چند شعر اور سنئے؎

جب تو پہلی بار ملا تھا

طاق میں پہلی شمع جلی تھی

شاخ میں پہلا پھول کھلا تھا

شام کے پیچھے شام کھڑی تھی

پیڑ کے پیچھے پیڑ کھڑا تھا

خوب شعر ہیں اور جب ناصر کاظمی کی ’پہلی بارش‘ کی طرف ہمارا دھیان گیا؎

تو جب میرے گھر آیا تھا

میں ایک سپنا دیکھ رہا تھا

تو پھر یہ شعر اور بھی اچھے لگے اور چند ایک شعر نئے؎

آدھا بستر خالی ہے

لگتا ہے گھر خالی ہے

پائوں میں دریا بہتا ہے

سر پر گاگر خالی ہے

بارشوں اور پرندوں کے لیے

ہم دریچوں کو کھلا رکھتے ہیں

کسی سائے کو بلانے کے لیے

خالی کمرے میں دیا رکھتے ہیں

کتنی سیدھی سچی شاعری ہے۔ بیان سادہ مگر کتنا مؤثر ہے۔ ایک نئے پن کا احساس۔ شاعرانہ بیان دینے والے ہمیں ورغلا کر کدھر کدھر لے گئے ہیں۔ اسی لیے بھلے لوگوں نے کہا ہے کہ شاعری کا مجموعہ اس طرح پڑھو کہ فلیپ پر نظر نہ جائے۔ آگے پیچھے جو سرٹیفکیٹ چپکائے گئے ہیں ان پر نظریں نہ ٹھٹھکیں۔ شاعری پڑھو اور بس۔ ہاں کسی نے سنجیدگی سے شاعری کے بارے میں کچھ کہا ہے تو اسے پڑھ لیجیے۔ یہاں بس ایک فیضؔ صاحب ایسے نظر آ رہے ہیں جنہوں نے کلام پڑھ کر شاعر کے بارے میں رائے دی ہے۔ بیشک آپ اس رائے سے اتفاق نہ کریں مگر کسی نے شاعر کو پڑھ کر کچھ کہا ہے۔ یہ بات کتنی غنیمت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *