پاک فوج کے محلِ نظر فیصلے

اداریہ ڈان مورخہ 2 ستمبر 2014dawn-logo

عمران خاں اور طاہر القادری کی طرف سے پیدا کیے گئے سیاسی بحران کے دوران غیر جانبداری کا وہ بھرم جو فوجی قیادت نے نہایت احتیاط سے قائم کر رکھا تھا اب بڑی حد تک چاک ہو چکا ہے۔ موجودہ سیاسی بحران کے حوالے سے فوج کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات کے سلسلے کا تیسرا بیان اتوار کو سامنے آیا۔ جس میں حیرت انگیز طور پر ایک منتخب شدہ آئینی حکومت کی طرف سے سیاسی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان اور طاہرا لقادری کے پرتشدد احتجاج کے حق اور مطالبات کو جائزمان لیا گیا۔
اب تک کے واقعات کے سلسلے پر غور کیجیے۔ جب سب سے پہلے فوج نے کھلے عام سیاسی بحران میں قدم رکھاتو اس نے تمام فریقین کو صبرو تحمل کا مشورہ دیا جس کا مطلب تھا کہ گویا یہ صرف حکومت ہے جس کی legitimacyپر حرف آگیا ہے اور اس پر سوال اٹھ چکے ہیں کیونکہ عمران خان اور طاہرالقادری ایسے الزام لگا چکے ہیں۔ اس کے بعد فوج نے عمران اور قادری کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے ساتھ مذاکرات کرے۔ ایسا تاثر گیا جیسے عدم معقولیت کا مظاہرہ عمران اور قادری نہیں بلکہ حکومت کررہی ہے۔
اب ایک مرتبہ پھر حیران کن طور پر فوج نے حکومت کو ’’نصیحت ‘‘ کی ہے کہ وہ پرتشدد مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے اور عمران اور قادری کو تمام ضروری رعایات فراہم کی جائیں۔ فکرانگیز بات یہ ہے کہ یہ پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکن ہیں جو ریاستی عمارتوں پر دھاوا بولنے پر تلے ہوئے ہیں ، لیکن سرزنش حکومت کو کی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے فوج بے خبر ہو... یا جان بوجھ کر آئینی صورتِ حال کو نہیں سمجھنا چاہتی کہ فوج حکومت کو احکامات نہیں دیتی بلکہ یہ حکومت ہے جو فوج کو حکم دیتی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی آرٹیکل 245 کا نفاذ کررکھا ہے۔
ہفتے کو جب پارلیمنٹ پر پرتشدد بلوائیوں نے حملہ کیا تو یہ فوج کا فرض تھا کہ اُنہیں روکے، لیکن وہاں تعینات فوجیوں نے کچھ نہ کیا۔ اگلے دن فوجی قیادت نے مظاہرین کے بجائے حکومت کو متنبہ کیا۔ اس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ مظاہرین کو پولیس پر حملے کرنے اور پی ٹی وی پر دھاوا بولنے کی جرات کیوں ہوئی۔ اس پر مستزاد، کل ایک اور دھماکہ ہوگیا، پی ٹی آئی کے صدر جاوید ہاشمی نے تفصیل سے بتایا کہ جو کچھ بھی عمران خان کررہے ہیں، اس کے پیچھے فوجی قیادت کی شہ ہے۔اس کا جواب چند گھنٹو ں کی تاخیر سے آئی ایس پی آر نے دیا اور حسبِ توقع ہاشمی صاحب کے الزامات کی تردیدکردی۔ تاہم محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر محض تردید اب کافی نہیں۔
اس وقت ریاست کا نظام مفلوج ہوچکا ہے کیونکہ چندہزارمظاہرین اور ان کے رہنماوں نے ریاستی اداروں کا گھیراؤ کیا ہواہے۔ اس پر فوج کی طرف سے اظہارِ مذمت کہاں ہے؟ کیوں؟کیافوج ایک مٹھی بھرپرامن احتجاجی مظاہرین کو چند گھنٹو ں کے لیے جی ایچ کیوکا گھیراؤ کرنے کی اجازت دے گی؟اس تمام کھیل میں فوج غیر جانبدار ہرگز نہیں ہے، وہ اپنی چوائس کا انتخاب کر رہی ہے، لیکن صد افسوس، یہ انتخاب آئین اور جمہوریت کا ساتھ دیتے ہوئے نظام کو مضبوط کرنے کا نہیں ہے۔ بشکریہ ڈان

  Click here for English version * ترجمہ نہایت احتیاط کے ساتھ کیا گیا ہے، کسی قسم کے فرق کے نتیجے میں حقیقی انگریزی ورژن پر انحصار کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *