بتانا بھی جنہیں مشکل، چھپانا بھی جنہیں مشکل

کچھ گیت ایسے ہوتے ہیں جو سیدھے دل میں اُتر جاتے ہیں، اُتر کر دل میں ہی رہتے ہیں ، کچھ ایسا سوز، کچھ ایسا سحر اُajmal-sirن میں فرداں ہوتا ہے کہ دل ہمیشہ اُن کی اسیری میں رہتا ہے، چلتے قدم سن کر رُک جاتے ہیں۔ جسم کا رُواں رُواں اُن میں شامل ہو جاتا ہے۔ صرف کان ہی اُنہیں نہیں سنتے ، جسم و روح کا ہر خلیہ اُنہیں سنتا ہے اور اُن سے محفوظ ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک گیت بہت پہلے میں نے اپنے بچپن میں سنا تھا۔ یہ گیت فلم ’’دو بدن ‘‘ میں شامل تھا۔ رومانوی فلم تھی، اس فلم کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں لڑائی جھگڑے کا ذّرہ برابر بھی سین نہیں تھا۔ خیر بات گیت کی ہو رہی تھی تو اس فلم میں شامل گیت ’’ بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں‘‘ میرے دل میں اُتر گیا تھا اور آج بھی اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ آپ کا سب سے پسندیدہ گانا کونسا ہے تو میں بلا تامل اسی گیت کا نام لوں گا۔ یہ گیت فلم میں ہیرو ایسی صورتحال میں گاتا ہے کہ اس کی محبوبہ کی منگنی کی تقریب ہو رہی ہوتی ہے اور اُسے اس موقع پر گیت گانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اب نا تو وہ اپنی محبت کا اعلانیہ اظہار کر سکتا ہے اور نا ہی وہ اس اظہار سے رُک سکتا ہے۔ لہٰذا اس گیت کی شاعری واقعی بہت حسبِ حال اور عمدہ ہے۔
اس گیت کی ایک لائن ’’ بتانا بھی جنہیں مشکل، چھپانا بھی جنہیں مشکل‘‘ اُن لوگوں پر صادق آتی ہے جو زندگی بھر ’’ اظہار کروں کہ ناکروں‘‘ کی گومگو کیفیت میں رہتے ہیں۔ مواقع بعض اوقات اُن کے پاس سے گزرتے ہیں۔ کبھی کبھار اُن کے سامنے سے گزرتے ہیں، کبھی کبھار ’’موڈھامار‘‘کے گزرتے ہیں، مگر یہ اللہ کے بندے اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کر پاتے۔اُنہیں نا جانے کون کون سی بندشوں کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ منہ سے کچھ بول کے نہیں دیتے۔ایسے لوگوں میں کمیونیکیشن سکلز کی بہت کمی ہوتی ہے اور بعض اوقات یہی اُن کی زندگی بھر کی ناکامی کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔
بعض اوقات بہت سے ادیب، بہت سے لکھاری محض اسلیے پس منظر میں رہ جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اُسے صحیح انداز میں بیان نہیں کر پاتے۔ بعض لوگ ملازمت کے دوران بہترین کیرئیر سے اسی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ہمارے کامران صاحب بھی اِن لوگوں میں سے ایک ہیں۔ جب کبھی مدعا موقع آتا ہے تو یہ مہر بہ لب ہو جاتے ہیں۔اعلیٰ دربار میں پیشی ہو تو ، ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، دل کی بات کہہ نہیں پاتے اور بعد میں پچھتاتے رہتے ہیں۔ راشد صاحب حیران ہیں کہ آخر کامران صاحب نے یہ کون سے کمیونیکیشن سکلز اپنا کر تین شادیاں کر رکھی ہیں۔
بعض لوگوں پر قسمت مہربان رہتی ہے مگر قسمت سے وہ گفتگو نہیں کر پاتے۔ یوں لگتا ہے کہ اُن کے پاس الہٰ دین کا جن ہے جو حکم سننے اور پھر اُسے پورا کرنے کے لیے بے تاب کھڑا ہے مگر یہ اسے حکم ہی نہیں دے پاتے۔ پھر ایسے لوگ صدیوں شکوہ کناں رہتے ہیں۔ ’’ شکوہ ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ کا مطالعہ فرماتے رہتے ہیں۔
یاد رکھیے کہ اس کا تعلق کم گوئی سے نہیں۔ کم گوئی تو ایک لاجواب خوبی ہے جو خدا کسی کسی کو دیتا ہے مگر کاش خدا خواتین کو بھی دیتا۔ میری معلومات کے مطابق آج تک یہ خوبی خواتین کو عطا نہیں ہوئی ا گر ہوتی تو زندگی اور یہ دنیا کب کی حسین ہو چکی ہوتیں۔کم گوئی بھی وہی اچھی ہے جس میں آدمی جب بھی بات بولے سونے کی بات بولے ۔ اتنا سوچ کر، ماتھے پر اتنے وٹ ڈال کر ، کوئی انٹ شنٹ بکواس ہی کرنی ہے تو بندہ اپنی تھوتھنی بند ہی رکھے ۔ سنا ہے کہ فیض صاحب بہت کم گو تھے مگر جب بھی بولتے تھے کمال کی بات کرتے تھے۔ایک بار جب اِن کی 72ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی تو ہمارے دوست طارق کامران اُنہیں ملے اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ میں اتنے بڑے شاعر سے مل رہاہوں ۔ فیض صاحب انکساری سے بولے ’’ کہاں صاحب اب تو ہم بھی سترے بہترے ہو گئے ہیں۔‘‘
کچھ لوگ جب صحیح طور پر اظہار نہیں کر پاتے تو وہ جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک بار میں ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں اِن کے چھوٹے بھائی نے آ کر بتایا کہ باہر فلاں صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں، کچھ سوچ کر کہنے لگے ’’ اُنہیں کہہ دو میں گھر پر نہیں ہوں‘‘ میں نے کہا یہ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟ کہنے لگے ایسے ہی ایک فضول سا آدمی ہے ، روز میرا وقت خراب کرنے آجاتا ہے ، میں اس سے بالکل بھی ملنا نہیں چاہتا ۔ میں نے کہا یہ بات آپ اُس پر کسی طرح واضح کیوں نہیں کر دیتے ۔۔ کہنے لگے یہی تو مشکل ہے۔
یہی مشکل ہم سے اکثر لوگوں کو رہتی ہے ، ہم کسی سے کچھ کہہ نہیں پاتے اور اپنی زندگی اجیرن کر لیتے ہیں۔ جگجیت سنگھ کا گیت سنتے رہتے ہیں ’’ہم تم سے نا کچھ کہہ پائے تم ہم سے نا کچھ کہہ پائے‘‘۔ اب آپ ہی بتائیے محض اس معمولی تذبذب کے ساتھ اپنی زندگی کو اجیرن کر لینے کا یہ طریقہ کس قدر اچھا ہے؟
زندگی کو اجیرن کرنا ہے تو اس کے سو طریقے ہیں، آمدنی کم رکھیے خرچ زیادہ کیجیے، زندگی ہمیشہ آپ کی اجیرن ہی رہے گی۔ باقی نناوے طریقے آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ جنہیں معلوم نہ ہوں ور اُن کی زندگی خوشگوار گزر رہی ہو تو وہ ’’ زندگی اجیرن کرنے کے سو طریقے‘‘ نامی کتابچہ ہم سے نا منگوائیں بلکہ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُن کی زندگی خوشگوار ہے اور نہ تو اُنہیں بتانے میں کوئی مشکل ہے اور نہ چھپانے میں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *