نفرت و تفرقہ کی تعلیم سے آراستہ نسل

ata ur rehman saman 

دوسری عالمی جنگ کے بعد اۤزاد ہونے والے ممالک نے ریاست پر کنٹرول اور اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے نظام تعلیم کا استعمال کیا جس میں نو اۤبادیات کے خلاف تحریکوں اور کارکنان کی قربانیوں کے تذکرے کے علاوہ ہمسایہ ممالک کے خلاف نفرت اور کشیدگی کی وکالت کی گئی۔نصابی کتب کے ذریعےانسان دوستی ، روشن خیالی اور باہمی احترام کی بجائے علیحدگی، تعصب اور نفرت کے رویوں کو پروان چڑھایا گیا۔

اس روش کو اپنانے کے باعث پاکستان میں اقتدار پر غیر جمہوری قبضہ برقرار رکھنے کے مقاصد تو پورے ہو گئے تا ہم معاشرے کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ چنانچہ اۤج احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد کا فوراً مشتعل ہو کر قومی املاک ، بسوں ، گاڑیوں اور دکانوں کو نذر اۤتش کرنا ، امتحانات میں نقل کرنے سے منع کرنے پر اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنانا ، قانون کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے وکلا کا پولیس اور ججوں پر تشدد کرنے کے واقعات اب ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکے ہیں۔

انسانوں ، معاشروں ، برادریوں اور قوموں کے درمیان اختلافات، تنازعات اور کشیدگی کے واقعات کا ہونا ایک فطری عمل ہے تا ہم مشاہدہ ہے کہ عصر حاضر کے انسان نے خود کو درپیش ایسے مسائل کے حل اپنے فہم اور تدبر سے نکالے ہیں۔ اُس نے تلخ اور کرواہٹ بھرے ماضی میں مقید ہونے کی بجائے باہمی تعاون کے ذریعےاۤنے والی نسلوں کو تعصب ، بے چینی اور عدم برداشت کے رویوں سے حتی الا امکان نجات دلائی ہے۔چنانچہ متعدد ممالک نے اختلاف رائے اور احتجاج کے اظہار کے نہایت پر امن قرینے اپنائے ہیں۔ ان ممالک نے اپنی درسی کتابوں کے ذریعے ایسی نسل تراشی ہے جو دیگر قوموں اور انسانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی کی بجائے بقائے باہمی کے جذبات رکھتی ہے۔ اۤئیے چند ممالک پر نظر ڈالیں  جہاں پڑوسی ممالک کے ساتھ جنگ اورنفرت کے رشتوں کی تاریخ کے  بد نما دھبوں کو مشترک نصابی کتابوں کے ذریعے امن دوستی کے رویوں کی اۤبیاری سے صاف کر کے  خوشحالی کا راستہ اپنایا گیا ہے۔

جرمنی اور فرانس

جرمنی اور فرانس کی دشمنی صدیوں پر محیط ہے۔ دونوں عالمی جنگوں میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے والے اِن ممالک میں بھی بہت فاصلے تھے۔تا ہم 22جنوری 1966کو کنورڈادنئیوراور چارلس ڈی گائیول نے ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے باعث امن کی راہ ہموار ہوئی۔

2006 میں فرانس کے وزیر تعلیم گلیز ڈی روبن نے فرانس اور جرمنی کے سکولوں کے لئے تیار کی گئی مشترک کتاب کی رونمائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام فرانسیسی صدر جیکیوس کراک اور جرمن چانسلر گرھارڈ شروڈر کا باہمی خیال تھا۔انہوں نے بتایا کہ اِس خیال کی بنیاد دونوں ملکوں کے ہائیسکول کے طلبا کی پیرس میں فرانسیسی صدر سے ملاقات تھی۔جس میں بچوں کی طرف سے یہ تجویز دی گئی تھی۔

جرمنی اور پولینڈ 

1939سے 1945کی مدت کے دوران پولینڈپر پہلے جرمنی اور بعد ازاں سویت یونین نے قبضہ کیا۔1939 میں بنا کسی اعلان جنگ جرمنی کی فوجیں پولینڈ میں داخل ہو گیئں۔ پولینڈ کا ملک تین اطراف سے جرمن سر زمین میں گھرا ہوا ہے۔ اس معرکہ میں پولینڈ کی اۤبادی کا پانچواں حصہ لقمہ اجل بنا (پاک بھارت سے زیادہ تلخ تاریخ)۔ چنانچہ پولینڈ اور جرمن کی تاریخ اختلافات اور الزامات سے بھر پڑی ہے۔اس کے باوجود سرحد کے اۤر پار لوگ امن کے لئے کام کرتے رہے۔ دونوں ملکوں نے سرحد کے اۤر پار اپنے سکولوں کے طلبا کے لئے ایک مشترک بیان پر مبنی درسی کتابوں کی تیاری کے لئے مکالمہ جاری رکھا۔

دونوں ممالک کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے انفرادی باب رقم کئے ۔ جرمنی کے وزیر تعلیم کے خطاب کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم اپنی غلطیوں سے صرف نظر کر کے نہایت احتیاط سے سب چیزوں میں توازن قائم کریں گے۔

جنوری 2008 میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان مشترک درسی کتابوں کی اشاعت پر ایک معاہدہ ہو گیا چنانچہ جرمنی پولینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ 1989 میں مغربی اور مشرقی جرمنی کے اتحاد کے بعد اس اقدام کے لئے راستہ ہموار ہوا جب کہ اس خیال کو جرمنی اور فرانس کے مابین مشترک درسی کتابوں کے معاہدے کے ذریعے مزید تقویت ملی۔

جاپان ، کوریا اور چین

چین کوریا اور جاپان کا ماضی تلخیوں اور بد اعتمادی کی صدیوں پر مبنی داستان ہے۔ ننجنگ میں قتل و غارت ، خواتین کے ساتھ جنسی تشدد ، مجرمانہ طبی تجربات ، غلامانہ مزدوری جےسے واقعات کا سایہ اِن ممالک کے تعلقات پر ہمشہ رہا ہے۔

جاپان کی نصابی کتب میں (پاک بھارت کی مانند) تاریخی سچائیوں کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی فوج کے بارے میں یہ لکھنے کی بجائے کہ جاپان نے چین پر جارحانہ حملہ کیا ، اُسے جاپانی فوجوں کی پیش قدمی کہا گیا، اِسی طرح کوریا کی تحریک اۤزادی کو بغاوت کا نام دیا گیا۔ اِس کے باوجود جاپان ، کوریا اور چین میں امن کے فروغ کے لئے کام کرنے والے کوشاں رہے اور اِس معاملہ پر پیش رفت جاری رہی ۔ 2005میں متعلقہ ممالک کے درمیان ہونے والے مکالمے کی ایک رپورٹ جاری کی گئی ۔

اکتوبر 2009میں جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ کے رکن کنگ یونگ سیوک نے جاپانیوں سے کہا "جرمنی اور فرانس کی مانند ہم کیوں نہ مشترک تاریخی کتب مرتب کریں۔ دوسری طرف جاپان کے وزیر خارجہ کٹسویااوکاڈا کا بیان تھا کہ سہ ملکی درسی کتب تارییخی معاملات کو حل کرنے میں معاون ہوں گی۔اِس کے جواب میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ یومائنگ ۔حوان نے ایک بریفنگ میں جاپانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا "چین، جاپان اور کوریا کی اۤنے والی نسلوں کے لئے یہ نہایت اہم ہو گا کہ انہیں تاریخ کا بہتر شعور ہو۔

   پاکستان اورہندوستان

معروف پاکستانی تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اپنی تصنیف " تاریخ اور نصابی کتب " میں لکھتے ہیں "تقسیم سے پہلے ہندوستان کے مورخ جس قومی تاریخ کی تشکیل کر رہے تھے ، اس قوم میں ہندو اور مسلمان شریک تھے۔ اس تاریخ میں اس بات پر زور تھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں نی مل کر ایک ثقافت پیدا کی ہے جس کے رشتے میں دنوں بندھے ہوئے ہیں۔لیکن 1947 کے بعد صورت حال دل گئی۔ ہندوستان سیکولر اور جمہوری ملک جب کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک قرار پایا۔ دونوں ملکوں کے متضاد نظریات نے تاریخ کو متاثر کیا۔ "ہندوتوا " یا نظریہ پاکستان " کے تحت لکھی گئی کتابوں میں تاریخی واقعات کو مسخ کیا گیا بلکہ نفرت و تعصب کو ابھارا گیا۔

اکتوبر 1999میں ممبئی سے شائع ہونے والے ایک رسالہ (کمیونلزم کمبیٹ) کے ایشو نمبر 52میں گجرات اور مہاشٹرا میں تاریخ کی نصابی کتب کا جائزہ لیتے ہوئے نشان دہی کی گئی کہ تاریخ کے اس فرقہ وارانہ نقطہ نطر کی وجہ سے ہندوستان کی نئی نسل کو تنگ نظر ، انتہا پسند اور فرقہ پرست بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں اس رجحان کے خلاف آواز اٹھانے والے دیگر افراد میں مشہور مورخ بشم بھرناتھ پانڈے (انتقال1998)بھی شامل تھے۔ جنہوں ننے تاریخ کی صداقتوں کی کھوج لگانے کی مسلسل کوشش جاری رکھی مثلاً الاآباد میں اینگلو –بنگالی کالج میں پڑھائی جانے والی کتاب میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ "تین ہزار براہمنوں نے اس وقت خود کشی کر لی جب ٹیپو سلطان نے انہیں زبردستی مسلمان بنانا چاہا۔ " اس حوالہ کو پڑھ کر ڈاکٹر پانڈے کے ذہن میں سوال آیا کہ "آیا کیا یہ سچ ہے"۔ ڈاکٹر پانڈے نے مسلسل تحقیق کے بعد اس دعویٰ کو غلط ثابت کر دیا(حوالہ: تاریخ اور نصابی کتب ، مصنف:ڈاکٹر مبارک علی صفحہ 20،28)۔

پاکستان کی نصابی کتب میں ہندو مسلم تعلقات کو تاریخی ،سماجی اور ثقافتی  حوالوں سے تجزیہ کرنے کی بجائے ہر پہلو کو تعصب اور فرقہ وارانہ فرق کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں بڑی بڑی مذہبی جماعتوں اور علما نے مخالفت کی تھی۔ تا ہم ہماری نصابی کتب میں اس تحریک میں علما کے فعال کردار کو ثابت کر دیا گیا ہےجو وقت کے ساتھ ایک سچائی بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں نصابی کتابوں میں ہندو دشمنی کی جو عمارت کھڑی کی گئی ہے اس میں ہندوؤں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ جب کہ دو قوموں میں اس قدر فرق اور فاصلہ پیدا کر دیا جائے گا تو ان کے ملنے جلنے اور یگانگت کے راستے خود ہی بند ہو جائیں گے۔

حاصل کلام

مندرجہ بالا  جا ئزہ سے جاپان ، چین ،کوریا ، فرانس ، جرمنی اور پولینڈ کی مثالیں ہمارے ثامنے ہیں۔ ان ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات پاکستان و ہندستان سے کم کشیدہ نہیں تھے تا ہم انہوں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آنے والی نسلوں کو ایک پر امن ماحول ، محفوظ اور خوشحال زندگی دینے کے لئے تنگ نظری اور نفرت کے بندھنوں سے خود کو آزاد کر لیا ہے ۔ بین الاقوامی برادری میں رہنے کے آداب ملاحظہ ہوں ، چین اور کوریا کے احتجاج پر جاپان نے اپنی پالیسی بدل ڈالی۔ چنانچہ جاپان نے اپنی نصابی کتب میں تسلیم کر لیا کہ جنگ کے دوران جاپا نیوں کے خلاف مزاحمتی تحریکیں اٹھی تھیں، کوریا کی عورتوں کو فوجیوں کی تسکین کے لئے استعمال کیا گیا اور جنگی قیدیوں پر سائنسی تجربات کئے گئے (حوالہ: تاریخ اور نصابی کتب مصنف  ڈاکٹر مبارک علی صفحہ 89)

ایک طرف دنیا بھر میں اقوام عالم اپنی نسلوں کو پر امن مستقبل دینے کے لئے اپنے کشیدہ ماضی کے حصار سے آزاد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں تو دوسری طرف ہندوستان و پاکستان اور اسراائیل اور فلسطین کے ممالک ایسے ہیں جہاں نصاب کی کتابوں کے ذریعے نفرت ، جنگ اور تعصب کے بیج بونے کا عمل جاری ہے۔ ان ممالک کے باہمی علاقائی مسائل بدستور قائم ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں سول سوسائٹی نے نصاب کی کتابوں میں تاریخ کے امساخ اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کی نشان دہی کئی برسوں سے کی جا رہی ہے۔ ارشد محمود، داکٹر مبارک علی ، کے کے عزیز، احمد سلیم ، داکٹر اے ایچ نئیر اور دیگر دانشوروں نے اس طرف توجہ دلانے کی بارہا کوشش کی ہے تا ہم ہمارے ہاں سیاسی قیادت اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

یہ درست ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں انتہا پسندی ایک دوسرے کے عمل اور رد عمل سے جڑی ہے۔ لیکن انتہا پسندی اور نا رواداری کے ضمن میں جن چیلنجز کا سامنا پاکستان کو ہے بھارت کو نہیں ہے۔21ویں صدی میں دو طرفہ تعلقات اور دفاع وغیرہ کے تقاضے بھی بدل چکے ہیں ۔ نصاب اور درسی کتابوں کی اصلاح ہر ملک کی ضرورت ہو گی لیکن پاکستان میں یہ ضرورت زندگی موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہم اپنے نصاب تعلیم پر نظر ثانی اور اصلاحات کوہندوستان میں تعلیمی اصلاحات کے ساتھ مشروط نہیں کر سکتے۔ پاکستان کو اپنی آنے والی نسلوں کی بقا ، خوشحالی اور داخلی امن کے لئے ایک قدم اٹھانا ہو گا ۔ ہر دو ممالک کی سیاسی قیادت ایک سادہ اصول سمجھ پانے سے عاری ہے کہ نفرت و تفرقہ کی تعلیم سے آراستہ نسل جنگ و قتال کے لئے تو موثر ہو سکتی ہے امن قائم کرنے کے لئے ہر گز نہیں ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *