کوہ مری! تجھ سے اُداسی کا رشتہ کتنا گہرا ہے!!

Bushra Ejaz

سامنے ہولی ٹرینیٹی چرچ کی عمارت مجھے افسردگی سے دیکھ رہی ہے، اس کے درودیوار سے بھی وہی شکوے لپٹے دکھائی دیتے ہیں جو میرے دل کا بوجھ ہیں۔۔۔ میں اسے بجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھ کر لنٹاٹس (Lintots) کی طرف بڑھ جاتی ہوں۔ ملکۂ کوہسار، جسے چاچا اللہ رکھا کو مری کہتا تھا کے مسائل گھمبیر ہو چکے ہیں۔ پرانے وقتوں میں ملک کے طول و عرض سے دیوانوں کی طرح اس حسین اور خوشبودار مقام کی طرف لپکنے والوں نے اس کے زوال کے بعد گرمیاں بیرون ملک گزارنا شروع کر دیں، عام سیاحوں نے نسبتاً کم آباد مگر صاف ستھرے پہاڑی مقامات کا رخ کر لیا، اور جو باقی بچے انہیں مری کے نظاروں سے کوئی نسبت ہے نہ خوشبوؤں، بادلوں اور ہواؤں سے، وہ جگہ جگہ ناجائز تعمیر کئے جانے والے بدشکل ڈبہ نما ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں اور کھڑکیوں کا رُخ کرتے بادلوں کو دیکھ کر، کھڑکیاں بند کر لیتے ہیں، مال روڈ پر مٹرگشت کرتے ہوئے سستی اشیاء سے بھری دکانوں میں بھاؤ تاؤ کرتے ہیں، چربیلے دھوئیں سے بھرے تنگ ہوٹلوں میں تندوری چرغے اڑاتے ہیں اور گھروں کو لوٹتے ہیں۔ انہیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ مال روڈ کی دوسری سمت جہاں اس کا منظری حسن بچانے کے لئے، قانوناً عمارتیں بنانا ممنوع تھا، وہاں کنکریٹ اور لوہے کی بے ڈھب اور بھدی عمارتیں جابجا کھڑی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر مال روڈ کی بدصورتی آنکھوں میں چبھنے لگتی ہے، اور خیال آتا ہے، کس کی اجازت سے یہ ناجائز تجاوزات وجود میں آئیں، مری میونسپل کمیٹی یا محکمۂ تعمیرات کی؟
1932ء میں قائم ہونے والی علامہ اقبال لائبریری کی زبوں حالی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، جہاں مقامی شاعروادیب چائے کی پیالیاں سامنے رکھے، ملکۂ حسن کے زوال پر چپکے چپکے غور کرتے ہیں۔ اس لائبریری میں پچھلے کئی برسوں سے نئی کتابوں کا داخلہ بند ہے۔ لکڑی کی پرانی الماریوں میں، اچھے وقتوں کی یادگار ہزاروں کہنہ کتابیں بٹر بٹر آنے والوں کی طرف دیکھتی ہیں۔ یہاں اخبارات کے لئے بھی فنڈز نہیں، نئے رسائل و جرائد کا تو ذکر ہی کیا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اپنی اصل ڈیوٹی کے بجائے پانی فروخت کرنے کی ’’ذاتی ڈیوٹی‘‘ پر مامور ہیں اور اس خریدوفروخت سے حاصل ہونے والا پیسہ اسی نظام کی جیب میں جا رہا ہے، جس نے اس تاریخی پہاڑی مقام کا حسن غارت کر کے اسے پنڈی کا راجہ بازار بنا دیا ہے۔ صحت کے حالات اس سے بھی ناگفتہ بہ ہیں، سول ہاسپٹل مری کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ جہاں الٹرساؤنڈ کی سہولت بھی شہریوں کو میسر نہیں۔ لیبارٹری بند، ڈاکٹر
ندارد، دوائیاں ناپید، جو لوگ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس چلے جاتے ہیں، اور رہے بے چارے غریب غرباء تو ان کا اللہ ہی وارث ہے۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں تک پہنچ جانے والی گیس سے خدا جانے کس حکمت کے تحت مری کو محروم رکھا گیا ہے؟

murree

یہی وجہ ہے جنگل ختم ہوتے جا رہے ہیں، قیمتی درخت ایندھن کے طور پر استعمال ہو ہو کر نایاب ہو گئے، مگر مری کو گیس نہ مل سکی؟ حالانکہ یہ وہ خوبصورت اور پُرفضا مقام تھا جسے انگریزوں نے نہایت شوق اور لگن سے آباد کیا تھا، سکول، چرچ، بازار، رہائشی عمارتیں، ہاسپٹل، آرٹس کونسل اور کھیل کے میدان، غرضیکہ کیا کچھ نہیں تھا وہاں، جو اب اچھے ماضی کی بری یادگاروں کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ گھڑیال کا کرسچین سکول دہشت گردی نے بند کرا دیا، ہولی ٹرینیٹی چرچ کا گیٹ، جو اس سے قبل سیاحوں کے لئے ہمہ وقت کھلا رہتا تھا اسے بھی دہشت گردی نے مقفل کر دیا، اور رہ گئے مری کے دیوانے انہیں مری کے مسائل نے بددل کر دیا، پینے کا ناقص پانی، کار پارکنگ کا مسئلہ، گداگروں کی یلغار، جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، ان سے اٹھتا تعفن، مری کے روایتی حسن کے تصور کے لئے کتنا غارت گر ہے یہ کوئی ان سے پوچھے جو اس تاریخی پہاڑی مقام سے پرانی محبت کی کسک دل میں محسوس کر کے اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ مری میں سات روزہ قیام کے دوران مجھے مری کے موسموں سے کوئی شکایت نہ ہوئی، موسم اب بھی اچھے ہیں، ہوائیں گزری رتوں کی طرح اب بھی مساموں کو چھوتی ہیں تو اک اپنائیت بھری خنکی پورے وجود میں پھیل جاتی ہے۔ بارش کی ترل رل اب بھی جلترنگ بجاتی ہے، دھواں دھواں نم بادل جھیکا گلی اور کشمیر پوائنٹ پر پرانے دوستوں کی طرح گھیر لیتے ہیں۔ ہواؤں کی چاپ میں اب بھی موسیقیت ہے، پنڈی پوائنٹ کی پہاڑیوں سے اب بھی پیر پنجال اور ہمالیہ کے برف پوش سلسلے دکھائی دیتے ہیں، مری سروسز کلب کے بالکل نشیب میں، فٹ بال گراؤنڈ کے نزدیک سے گزرنے والی شاہراہ کے اوپر بلندی پر، جھاڑیوں میں اب بھی وہ دو پتھریلی چٹانیں ایستادہ ہیں، جن کی پیشانی پر کسی نیک دل گورے نے ’’گاڈ از لو‘‘ کے الفاظ کندہ کرائے تھے۔ یہ الفاظ اب بھی دور سے جگمگاتے ہیں، کلڈنہ کے درختوں اور گھنی جھاڑیوں تلے اب بھی دن پر رات کا گمان گزرتا ہے۔
ملکۂ کوہسار کا حسن، اب بھی اپنے اندر جاذبیت رکھتا ہے، مگر یہ پامال شدہ حسن خود نوحہ ہے اپنے زوال کا۔۔۔ یہی نوحہ مری کے باسیوں کی زبان پر بھی ہے، جس کا مقدر نہ انگریز آقا بدل سکے، نہ دیسی آقا۔ وہی ازلی غربت، فاقہ کشی اور جفاکشی ، پیٹ بھر روٹی حاصل کرنے کی وہی پرانی جدوجہد، اور شدید موسموں میں زندہ رہنے کی کوشش۔ روزگار کی کمی، بیماریاں، پسماندگی اور تعلیمی سہولتوں کا فقدان، سینٹ ڈینینر، جیزز اینڈ میری، کرسچین سکول، مری کانوینٹ اور لارنس کالج کی عظیم الشان دیواروں کے سائے سائے چلتے ہوئے، اس خوبصورت پہاڑ کے باسی، آج بھی ان عظیم درسگاہوں کو اسی حسرت سے دیکھتے ہیں، جس حسرت سے ان کے اسلاف دیکھا کرتے تھے، وہ آج بھی اپنا بچپن اندھیرے گھروں میں گروی رکھ کر ٹوٹی ہوئی چپلوں اور میلے لباسوں کے ساتھ، سامان کی ہاتھ گاڑیاں، اونچے نیچے پہاڑی راستوں پر کھنچتے ہیں، جن میں بعض اوقات میدانوں سے آئی ہوئی فربہ خواتین مزے سے بیٹھی کون، چوس رہی ہوتی ہیں، زمانہ بدلا، آقا بدلے، مگر ان کے نصیب نہ بدلے، نجانے کب بدلیں گے؟ شریف برداران کی مری سے انسیت سب کو معلوم ہے، دو دن کی فرصت بھی پائیں تو کوہ مری لپکتے ہیں، اور نہیں تو ایک آدھ میٹنگ کے بہانے ہی، مری جا پہنچتے ہیں، شاید انہیں بھی کوئی پرانا نوسٹلجیا، آواز دیتا ہے اور وہ نمی سے بھرے بادلوں کی سرگوشیاں سننے، ماضی کے اس تاریخی پہاڑی مقام پر جا پہنچتے ہیں، مگر کیا انہیں مری کی بدصورتی، ناجائز تجاوزارت کے انبار، کوڑے کے ڈھیر، تعفن، مال روڈ کی بد صورتی اور مری کے باسیوں کی پسماندگی دکھائی نہیں دیتی؟ کیا وہ مری کو گیس اور صاف پانی بھی مہیا نہیں کر سکتے؟ مال روڈ کا منظری حسن محفوظ کرنے کے لیے اسے ناجائز تجاوزارت سے پاک نہیں کر سکتے؟
مری کے باسیوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت نہیں دے سکتے؟ مری کا پہاڑ اگر انہیں اپنی طرف کھینچتا ہے تو انہیں اس کی آواز کیوں سنائی نہیں دیتی؟ وہ نوحہ جو ملکۂ کوہسار کے لبوں پر ہے، زوال کا نوحہ، انہیں کیوں زوال کی یہ بولی سمجھ نہیں آتی؟ پھر یہ کیسی محبت ہے؟؟؟
کوہ مری تیرا حسن دل گرفتہ ہے، مگر اب بھی دل پذیر ہے
اور اپنی طرف بے اختیار کھینچتا ہے۔
ہم تجھے دیکھنے جاتے ہیں اور ترے زوال پر افسردہ دلی سے لوٹتے ہیں
تری بوجھل خوشبوؤں کی نمی، ترے آبشاروں کی خاموشی،
ترے باسیوں کا مقدر
دلوں کو بھاری کر دیتا ہے۔۔۔ کوہ مری تجھ سے اداسی کا رشتہ کتنا گہرا ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *