ما د رِملت کی تحریر بھی سنسر

 بشکریہ :عقیل عباس جعفری

aqeel-abbas-jafri

اور یہ اس ادارے نے کی جو قائداعظم کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اس ادارے کا نام ہے قائداعظم اکیڈمی اور محترمہ فاطمہ جناح کی تحریر کو سنسر کرنے کا یہ ”خوش کن“ فریضہ اکیڈمی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جناب شریف المجاہد نے یہ کہتے ہوئے انجام دیا کہ:

۔۔۔”موجودہ کتاب (مائی برادر) میں مذکورہ مسودے کو تسلیم شدہ اصولوں کے تحت مدون کرکے پیش کیا جارہا ہے، سوائے ایک اقتباس کے جو بڑی حد تک ایک جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کتاب میں مکمل مسودے کو صداقت کے ساتھ منتقل کردیا گیا ہے“۔۔

نہیں معلوم کہ قائداعظم اکیڈمی اور واجب الاحترام جناب شریف المجاہد کے قریب صداقت کا معیار کیا ہے اور وہ کون سے ”تسلیم شدہ اصول“ ہیں جن کے تحت کسی مصنف (اور وہ بھی مرحوم مصنف) کی تحریر کو اپنی مرضی کے تحت سنسر کیا جاسکتا ہے۔ جناب شریف المجاہد، مائی برادر کے دو پیراگراف سنسر کرنے میں بظاہر کامیاب ہوگئے مگر کتاب کا اصل مسودہ جو قومی ادارہ برائے تحفظ دستاویزات (نیشنل آرکائیوز آف پاکستان) میں محفوظ تھا وہاں یہ پیراگراف بدستور موجود رہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں یہ دونوں پیراگراف شامل کیے۔ ہم نے بھی نیشنل آرکائیوز آف پاکستان سے اس کتاب کا اصل مسودہ حاصل کیا۔ قدرت اللہ شہاب نے مائی برادر کے جو دو پیراگراف اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں وہ تو بالکل اصل کے مطابق تھے مگر ان کا ترجمہ قدرت اللہ شہاب نے قدر مختلف انداز میں کیا تھا۔ ان دونوں پیراگرافوں کا ترجمہ آپ کے استفادے کے لیے۔۔

”وزیر اعظم نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے پوچھا کہ قائد اعظم کی صحت کے متعلق ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں مس فاطمہ نے یہاں بلایا ہے اس لیے وہ اپنے مریض کے متعلق کوئی بات صرف انہی کو بتاسکتے ہیں۔”لیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے میں یہ جاننے کے لیے بے چین ہوں۔“ ڈاکٹر نے ادب سے جواب دیا ”جی ہاں بے شک۔ لیکن میں اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتاسکتا۔“

millat

میں قائد اعظم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ وزیر اعظم اور سیکرٹری جنرل ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع ان کو دی۔ وہ مسکرائے اور بولے ”فطی تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟“ میں نے کہا کہ مجھے ان کی آمد کے سبب کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ وہ بولے ”وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میری بیماری کتنی شدید ہے۔ میں کتنا عرصہ اور زندہ رہ سکتا ہوں۔“

چند منٹ بعد انہوں نے مجھ سے کہا ”نیچے جاﺅ....وزیر اعظم سے کہو.... میں ان سے ابھی ملوں گا۔“

”جن! بہت دیر ہوچکی ہے۔ وہ کل صبح آپ سے مل لیں گے۔“

”نہیں۔ انہیں ابھی آنے دو۔ وہ خودآکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔“

لیاقت علی خان نے نصف گھنٹہ تک علیحدگی میں قائد اعظم سے ملاقات کی۔ جونہی وہ واپس نیچے آئے تو میں اوپر اپنے بھائی کے پاس گئی۔ وہ بری طرح تھکے ہوئے تھے اور ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پھلوں کا جوس مانگا اور پھر انہوں نے چوہدری محمد علی کو اندر بلالیا۔ وہ پندرہ منٹ تک ان کے پاس رہے۔ پھر جب دوبارہ وہ اکیلے ہوئے تو میں اندر ان کے پاس گئی۔ میں نے پوچھا کہ وہ جوس یا کافی پینا پسند کریں گے۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا‘ ان کا ذہن کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنے میں ڈنر کا وقت ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ ”بہتر ہے کہ تم نیچے چلی جاﺅ اور ان کے ساتھ کھانا کھاﺅ۔“

”نہیں“ میں نے زور دے کر کہا ”میں آپ کے پاس ہی بیٹھوں گی اوریہیں پر کھاناکھالوں گی۔“

”نہیں یہ مناسب نہیں ہے۔ وہ یہاں ہمارے مہمان ہیں‘ جاﺅ اور ان کے ساتھ کھاناکھاﺅ۔“

کھانے کی میز پر میں نے وزیر اعظم کو بہت خوشگوار موڈ میں پایا۔ وہ لطیفے سنا رہے تھے اور ہنسی مذاق کررہے تھے۔ جب کہ میں قائد اعظم کی صحت کی طرف سے خوف کے مارے کانپ رہی تھی جو اوپر کی منزل میں تنہا بستر علالت پر پڑے ہوئے تھے۔ کھانے کے دوران چوہدری محمد علی بھی چپ چاپ کسی سوچ میں گم رہے۔ کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی میں اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو قائد اعظم مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے ”فطی ۔ تمہیں ہمت سے کام لینا چاہیے“ میں نے اپنے آنسوﺅں کو چھپانے کی بڑی کوشش کی جو میری آنکھوں میں ا مڈ آئے تھے۔“

قائداعظم اکیڈمی کی شائع کردہ مائی برادر میں محترمہ فاطمہ جناح کا تحریر کردہ جو دوسرا پیراگراف سنسر کی زد میں آیا ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

” یوم پاکستان کے چند روز بعد وزیر خزانہ مسٹر غلام محمد قائداعظم سے ملنے کوئٹہ آئے۔ لنچ کے وقت جب مس فاطمہ جناح ان کے ساتھ اکیلی بیٹھی تھیں، تو مسٹر غلام محمد نے کہا: ”مس جناح میں ایک بات آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔

یوم پاکستان پر قائداعظم نے قوم کے نام جو پیغام دیا تھا، اسے خاطر خواہ اہمیت اور تشہیر نہیں دی گئی۔ اس کے برعکس وزیراعظم کے پیغام کے پوسٹر چھاپ کر انہیں شہر شہر دیواروں پر چسپاں کیا گیا ہے۔ بلکہ ہوائی جہازوں کے ذریعہ اسے بڑے بڑے شہروں پر پھینک کر منتشر بھی کیا گیا ہے۔

میں نے یہ بات خاموشی سے سن لی کیوں کہ اس وقت مجھے اپنے بھائی کی صحت کی فکر تھی ان کی پبلسٹی کی نہیں۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *