مکہ کے شہری ہچکچاہٹ کے شکارکیوں؟

رایا جالابی

makka-2

لاکھوں حجاج واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے شیطان کو کنکریاں مار لی ہیں اور زمزم کا پانی بھی پی لیا ہے۔ کعبہ کا طواف کرتےوقت حاجیوں کی نظر دنیا کی سب سے بڑی مسجد کے مینار پر پڑنے کے ساتھ ساتھ ابرج البیت ہوٹل پر بھی ضرور پڑی ہوگی جودنیا کی دوسری اونچی عمارت ہے۔ اگلے سال وہ ابرج کدائی بھی دیکھ پائینگے جو دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل کہلائے گا۔ حاجیوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے اور مکہ کے شہر بھر میں ہر جگہ کرین اور دوسری مشینیں، اور نت نئے مینار اور دوسری عمارات یہ ثابت کرتی ہیں کہ مکہ شہر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔  حاجیوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مکہ ایک گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی لوگ یہاں آتے ہیں وہ پورے شہر کو دیکھنے کا اشتیاق رکھتے ہیں ۔ حاجیوں کی رخصتی کے بعد یہاں کے 2 ملین لوگ مکہ میں پھر بھی موجود رہتے ہیں جنہیں شہر میں کی جانے والی تبدیلیاں اچھی نہیں لگتیں۔ 1960 کی دہائی میں حج کے لیے آنے والوں کی تعداد محض 2 لاکھ ہوا کرتی تھی۔ مکہ کے مئیر کے مطابق اب 20 لاکھ حاجی سعودیہ آتے ہیں۔ اور 12 لاکھ افراد عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد سیاحوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر سعودی معیشت کا انحصار بڑھ گیا ہے۔ پلان کے مطابق 2020 تک حاجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ مکہ میں قدیم عمارات کی تعداد بہت کم ہو کر رہ گئی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے دور کے قلعے اور پہاڑیاں ہٹا کر رائل کلاک ٹاور تعمیر کر دیا گیا ہے۔ حضرت خدیجہ کے مقبرہ کی جگہ اب لفٹس لگا دی گئی ہیں۔ لیکن لوگوں کے گرائے گئے گھروں کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مکہ کے پڑوس میں 15 میں سے 13 جگہیں حاجیوں کے لیے مختص کر دی گئی ہیں۔ سمیع انگوی سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔

جدہ منتقل ہونے سے پہلے سمیع اپنے خاندان کے ساتھ مکہ میں رہتا تھا۔ سمیع کے والد عمرہ اور حج کے لیے آنے والوں کے گائیڈ ہوا کرتے تھے۔ سمیع کا بھی مقصد اپنے والد کے ساتھ حاجیوں کی  مدد کرنا تھا۔ سمیع کا کہنا ہے کہ پورے شہر کو ایک مشین میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انگوی قبیلہ شعب علی میں رہائش پذیر تھا جو محمد ﷺ کی جائے پیدائیش ہے۔ ان کا گھر 1950 کی دہائی میں مسجد حرام کی توسیع کے لیے گرا دیا گیا۔ پچھلے سال الجزیرہ اخبار سے بار کرتے ہوئے انگوی نے بتایا کہ  اس کے بعد بھی ان کے خاندان کو دو بار منتقل ہونا پڑا۔ 65 سالہ انگوی حج ریسیرچ سنٹر کے بانی بھی ہیں۔ انہوں نے پچھلے 30 سال مکہ اور مدینہ کی تاریخی جگہوں پر ریسرچ اور تحقیق میں گزارے ہیں۔ ان کہ کہنا ہے کہ مکہ کو ایک مشین میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسا شہر بن گیا ہے جس کی اپنی کوئی شناخت ، کلچر یا ثقافت نہیں ہے۔ ان کی کہانی بہت سے دوسرے مکی خاندانوں کی کہانی سے مماثلت رکھتی ہے۔ ایسے لوگ جن کی زندگی کا دارومدار حاجیوں کی خدمت پر تھا  لیکن اب مکہ میں حاجیوں کے لیے کی جانے والی توسیع کے بعد اب بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔

جواہر السدیری جو ہارورڈ کینڈی سکول کے ایک معلم ہیں نے بتایا کہ مکہ کے شہریوں کو اپنے مالی، اور دوسرے معاملات کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔  شہر کو تبدیل کرنے کی یہ روش لوگوں میں  برے خیالات کو پروان چڑھا رہی ہے۔ ہر پیشے کے لوگوں کو زندگی کی مختلف طرح کی مشکلات میں دھکیل دیا گیا ہے۔ بہت سے مکہ کے رہائیشی حج اکانومی سے فائدہ اٹھانے سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ پراپرٹی کے مالک حضرات کی آمدنی کا واحد مضبوط ذریعے ان کے گھر ہیں جو انہوں نے کرائے پر دے رکھے ہیں۔ جب وہ حج کے موقع پر لوگوں کو کرائے پر اپنا گھر دیتے ہیں تو اس کرائے سے پورا سال گزار لیتے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ مسحد حرام کے گرد ایک سکوئیر میٹر زمین کی قیمت ایک لاکھ پاونڈ سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور بہت سے لوگوں نے اپنی زمین حکومت یا رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کو بیچ دی ہے اس طرح اس شہر سے ان کا ناطہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ چکا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ شہر کا زیادہ تر حصہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپر حضرات کے پاس چلا گیا ہے ۔

makka

ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے پیش نظر یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب حاجیوں سے آنے والی آمدن سے ہی معیشت کو بہتر کیا جا سکتا ہے چاہے اس کے لیے اپنے ملک کے شہریوں کو ہی ان کی جائیداد سے بے دخل کیوں نہ کرنا پڑے۔ شاید حکومت کی نظر میں امیگرینٹ لوگ ہی ملک کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ مکہ تاریخی لحاظ سے مسلمان مہاجرین کا سب سے اہم مسکن رہا ہے۔ سدیری کے مطابق مکہ کی آبادی کا 45 فیصد حصہ غیر ملکیوں کے قبضہ میں ہے۔ کچھ لوگ وہاں پرانے اور مضبوط کمیونٹیز میں ڈھل چکے ہیں مثال کے طور پر برما سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد 3 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ نائجیریا اور جنوبی ایشیا سے آنے والے مہاجرین بھی یہاں آباد ہو کر کنسٹرکشن اور سروس سیکٹرز میں نوکریاں حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ معاملات میں برمی شہری مکہ میں زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ مکہ کے رہنے والے برمی شہری زیادہ منظم ہیں۔ برمی شہری 1948 سے گروپوں میں سعودیہ آتے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کو 2015 میں مکہ کی مستقل رہائش دے دی گئی ہے۔ لیکن دوسرے ممالک کے شہری اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔

بہت سے مہاجرین ایسے ہیں جو حج کے لیے آ کر واپسی کا نام نہیں لیتے۔ کچھ لوگ مکہ کے تقدس کی وجہ سے یہاں آباد رہنا پسند کرتے ہیں اور کچھ نوکریوں کی تلاش میں آ کر آباد ہو جاتے ہیں۔ کچھ مسلمان ایسے بھی ہیں جو اسلیے مکہ آتے ہیں کہ وہ اس مقدس شہر میں اپنی آخری سانسیں لے سکیں۔ حکومت عام طور پر ایسے لوگوں کو ٹھہرنے کی اجازت دے دیتی ہے اور اپنے شہریوں سے منہ پھیر لیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر ان مہاجرین کو زبردستی مکہ سے نکالنا اچھا نہیں لگتا۔ ہر مسلمان مکہ کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ رہتی ہے۔ 2011 کے سٹی ماسٹر پلان کے مطابق شہریوں کو شہر کے پاس ایک علاقہ جسے مکہ گیٹ کا نام دیا گیا ہے وہاں آباد کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت میں جب ان کے گھر مسمار کر دیے جاتے ہیں تو انہیں اپنی زمین کا بہت کم معاوضہ ملتا ہے ۔ مکہ کے زیادہ تر لوگوں کو شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت تک کے فاصلے پر دھکیل دیا گیا ہے جہاں اب وہ اپنی نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کی کوشش میں لگے ہیں۔

source:www.theguardian.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *