پاک بھارت تناؤ اورحقائق

hussain-javed

پاکستان اور بھارت کے تعلقات بن موسم برسات کی طرح ہیں کبھی تو یہاں’’ امن کی آشا ‘‘کی بازگشت دکھائی دیتی ہے امیتابھ بچن بھی جھوم جھوم کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’’نظر میں رہتے ہو مگر نظر نہیں آتے ‘‘جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے جس کو آج کل ہم اڑی حملے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں امن کی فاختائیں جس مشکل سے دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کی فضا تراشتی ہیں وہ فضا دہشتگردی کے محض ایک واقعے کی بنیاد پر تحلیل ہوجاتی ہے اور سرحدوں پر سپاہی آنکھوں میں آنکھ ڈالے انگلی ٹریگر پر دبائے کھڑے رہتے ہیں۔اڑی میں ہزاروں بھارتی فوجی ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں کیونکہ یہاں سے آگے چکوٹھی بارڈر شروع ہوجاتا ہے ایسے میں یہ الزام تراشی کرنا کہ گھس بیٹھئے پاکستان کی حمایت سے بھیجے گئے جن کی وجہ سے بیس بھارتی فوجی مارے گئے محض بے وقت کی راگنی لگتا ہے کیونکہ ابھی تک بھارت اس حملے میں پاکستانی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا ہے ۔یہی کچھ ہم نے جنوری میں پٹھان کوٹ حملے کے وقت بھی دیکھا کہ شور تو خوب مچایا گیا مگر ثبوت کا خانہ خالی ہی رہا ۔بھارتی فوج کے سابق جنرل عطا حسنین نے ببانگ دہل کہا کہ’’ ان کے پاس ستمبر کے اوائل سے ہی اطلاعات تھیں کہ اڑی ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردانہ حملہ وقوع پذید ہوسکتا ہے ‘‘۔بھارتی حکومت اور میڈیاکا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی الزام پاکستان پر عائد کردو جامع تفتیش اور ثبوت کی فراہمی بعد میں ہوتی رہے گی ۔پاک بھارت تعلقات میں وجہ تنازعہ ہمیشہ سے کشمیر رہا ہے یہ بات ہم سب جانتے ہیں لیکن آج ہم کشمیر پر نہیں بلکہ اس موضوع پر بات کریں گے کہ پاکستان اور بھارت کو کب کب مسئلہ کشمیر اپنی منشاء کے مطابق حل کرنے کے حالات ملے اور یہ مواقع کیسے ضائع ہوگئے گویا لمحوں کی خطائیں صدیوں کے آزار پر محیط ہوگئیں اور اب جانے کتنی برساتوں کے بعد خون کے یہ دھبے دھلیں گے بے داغ سبزے کی بہار میں نہ جانے کتنے موسم حائل رہے گے ؟سب سے پہلے بھارت کی بات کرتے ہیں 1947,48 کی کشمیر جنگ میں بھارت کو کافی گہرے گھاؤ لگے جن پر آج بھی افسوس کیا جاتا ہے جیسے گورنر گلگت ’’جنرل گھنسارا سنگھ‘‘ گلگت سکاؤٹس کے ہاتھوں سرنڈر ہوگئے اور سکاؤٹس نے محدود وسائل اور نفری کے باوجودناموافق موسم میں گلگت ،استور ،سکردو اور کارگل کی پہاڑیاں ڈوگرا استبداد سے آزاد کرا لیں جبکہ بھارتی فوج اپنے افسروں کی مدد کیلئے سکردو نہ پہنچ سکی اور موجودہ لداخ تک محدود ہوگئی ۔اسی طرح کشمیر کے مجاہدین نے قبائل سے مل کر مظفر آباد ،نیلم ،پونچھ میرپور کے علاقے ڈوگروں کو شکست فاش دے کر آزاد کرائے اور 24 اکتوبر کو آزاد کشمیر حکومت قائم کر دی ۔بھارتی فوج نے جوابی کاروائی شروع کی مگر وہ اڑی تک ہی مجاہدین کو پیچھے دھکیل سکے یوں موجودہ آزاد کشمیر بھی کھو دیا ۔ پنڈت نہرو نے بھی ہمالیائی غلطیاں کیں جیسے کشمیر ایشوکو اقوام متحدہ لے جانا ،ہری سنگھ کو کشمیری منظر نامے سے ہٹا دینا شامل ہے۔ اسی طرح 1965 میں بھارتی فوج دعویٰ کرتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں فاتح رہی اگر ایسا ہی ہے تو کیوں لاہور ،سیالکوٹ پر ٹینکوں سے بڑے حملے کرنے کے باوجود بھارتی سپوت ایک بھی اہم پاکستانی شہر پر قابض نہ ہوسکے ۔اور جنرل چوہدری کو لال بہادر شاستری سے کہنا پڑا کہ جنگ کی طوالت ہمارے لئے نقصان دہ ہے اسلحہ کافی کم ہوچکا ہے یوں سیز فائر ہوگیا۔اسی طرح 1971 کی جنگ میں مشرقی محاذ پر کامیابی کے باوجود بھارت کے پاس نادر موقع تھا کہ وہ مغربی پاکستان پر بھی چڑھائی کر دیتا اور کم از کم کشمیر پر پاکستان کو سرپرائز دے دیتا مگر امریکی صدر نکسن کی دھمکی پر اندرا گاندھی کے اعصاب جواب دے گئے اس پر ستم یہ کہ شملہ معاہدے کے دوران بھٹو نے اپنی سفارتی فہم فراست سے نہ صرف 5000 مربع کلومیٹر کے علاقے بھارت سے چھڑا لئے بلکہ فوجی قیدی بھی آزاد کرا لئے اور کشمیر کا مسئلہ بھی زندہ رہا یہ واضح طور پر بھارتی سفارت کاری کی شکست تھی ۔اس کے بعد 1987 میں بھارتی آرمی چیف جنرل سندر جی نے’’ براس ٹیکس‘‘ کے عنوان سے جنگی مشقیں شروع کیں جس کے تحت پاکستان کو پنجاب اور سندھ پر ایک تیز رفتار حملے کے نتیجے میں کاٹ کر شدید سرپرائز دینا مقصود تھا مگر جنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی نے جنرل سندر جی اور راجیو گاندھی کے ارادوں پر پانی پھیر دیا ۔اس طرح 1988 سے 2000 تک کشمیر میں جاری عسکریت پسندی نے جس طرح بھارتی فوج اور انٹیلی جنس کو بے نقاب کیا وہ سب کے سامنے عیاں ہے ۔ مئی 98 میں بھارتی دھماکوں نے پاکستان کو موقع دیا کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت کا مظاہرہ کرے اور یوں برصغیر میں توازن طاقت بحال ہوا اور ایک بڑی جنگ کے امکانات ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئے ۔1999 میں کارگل جنگ نے ایک بار بھارتی انٹیلی جنس کی ناکامی کو اجاگر کیا جس کی وجہ سے بھارت کو بہت بڑے جانی نقصان دوچار ہونا پڑا ۔اس وقت کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد’’ ایک نیا انتفاضہ‘‘ شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 107 کشمیری جاں بحق ہوچکے ہیں ۔یہ بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کے اپنے اغلاط ہیں جن سے کشمیر ایشوکو ایک بار پھر بھرپور طریقے سے کوریج حاصل ہوئی۔غلطیاں پاکستان سے بھی ہوئیں جس کا آغاز 1947 کی کشمیر جنگ سے ہوتا ہے جب مجاہدین اور قبائلیوں نے مظفر آباد ،میرپور ،باغ نیلم اور پونچھ تو فتح کئے اور اڑی کراس کر کے بارہ مولا پر قابض ہوگئے ۔ڈوگرا فوج پسپا ہوچکی تھی اور ہری سنگھ بھارتی فوج کی مدد کا طلبگار تھا ۔مجاہدین اور قبائلیوں نے تین دن بارہ مولا میں ضائع کئے اور سری نگر کا رخ نہیں کیا یہ وادی کشمیر کو حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا جو گنوا دیا گیا ۔ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر سائن کئے بھارتی فوج سری نگر ہوائی اڈے پر اتر گئی جس کا مقابلہ منتشر ،تھکے قبائلی نہ کر سکے اور بھارتی فوج نے اڑی تک کا علاقہ ہتھیا لیا ۔اگر سری نگر کی ہوائی پٹی مجاہدین وقت پر تباہ کردیتے تو آج تاریخ مختلف ہوتی ۔اسی طرح بلتستان کی فتح کے بعد کارگل شہر کا قبضہ مجاہدین برقرار نہ رکھ سکے اور نااتفاقی کی وجہ سے کارگل خالی کرگئے ۔سری نگر کی کہانی لہہ میں دہرائی گئی اور اسکی فضائی پٹی پر بھی بھارت نے اپنے فوجی اتار لئے یوں لہہ پر مجاہدین کی پیش قدمی میں تاخیر نے لداخ بھی بھارت کی گود میں ڈال دیا۔1962 میں چین بھارت جنگ میں بھارت نے ہزاروں میل کا علاقہ کھو دیا اور بھاری جانی نقصان بھی اٹھایا۔ایوب خان کیلئے یہ ایک نادر موقع تھا کہ کشمیر پر ہلہ بول دیتا مگر امریکی دباؤ پر یہ فیصلہ نہ ہوسکا ۔بھارت کی تمام تر توجہ چین پر مرکوز تھی ایسے کشمیر ایک پکے ہوئے کشمیری سیب کی طرح پاکستان کی جھولی میں گر سکتا تھا لیکن یہ سنہری موقع بھی گنوا دیاگیا۔بعد ازاں 1965 کی لڑائی سے پہلے آپریشن جبرالٹر کیا گیا عجلت میں کی گئی یہ کاروائی وسائل کی کمیابی،رابطے کے فقدان کی بدولت ناکامی سے دوچار ہوئی ۔حالانکہ صفحے پر یہ ایک عمدہ جنگی پلان تھا ،دوران جنگ اکھنور پر پاکستانی قبضہ گیم چینجر ثابت ہوتا مگر اچانک کمانڈ کی تبدیلی نے حالات تبدیل کر دئیے۔اسی طرح 1999 کی کارگل جنگ میں ابتدائی کامیابیوں کے بعد جس طرح رسد کی کمی ،فضائی قوت کی عدم فراہمی جیسی وجوہات سامنے آئیں اس سے تسلسل ٹوٹ گیا۔ موجودہ تناظر یہ ہے کہ مودی سرکار پاکستان پر’’ سرجیکل سٹرائک ‘‘کے خواب دیکھ رہی ہے ۔بھارتی فوج کے دماغ میں’’ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کا خبط سمایا ہوا ہے ۔اجیت ڈوول پاکستان کو سفارتی تنہائی اور بلوچستان کے نان ایشو کو مدعا بنا کر زچ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ بھارت سی پیک منصوبے سے سخت بیزار ہے اسے پاک روس بڑھتے دفاع تعاون پر بھی تشویش ہے ۔بھارتی عوام کی توجہ مودی سرکار کے ’’اچھے دن آئیں گے ‘‘کے کھوکھلے وعدوں سے بھی ہٹانی ہے لہذا ایک جنگی جنون سا پیدا کیا گیا ہے اور سرحدوں پر تناؤ کی کیفیت بنائی گئی ۔جبکہ زمینی حقائق یہ ہے کہ پاکستان کوئی برما نہیں جہاں سرجیکل سٹرائک کرنا آسان ہوگا یوں بھی اڑی حملہ 2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملے اور 2008 کے ممبئی حملے سے شدت میں بہت چھوٹا ہے۔ اس وقت ہندوستانی فوج میں روسی اسلحہ کو امریکن اور فرانسیسی اسلحے سے بدلا جارہا ہے بھارتی چیف جنرل سہاگ کہہ چکے ہیں کہ ابھی بھارتی فوج کسی ایڈونچر کی متعمل نہیں ہوسکتی ۔مودی جی کو چاہیے نواز شریف کو دلی بلائیں کشمیر مسلئے پر کشمیر یوں کو عزت دیں بیٹھ کر حل تلاش کیا جائے۔کارگل سکردو،مظفر آباد سری نگر ،پونچھ راولا کوٹ ،جموں سیالکوٹ روٹ کھولئے،زائرین کو اجمیر ،دلی ،کٹاس راج ،کرتار پور آنے جانے کی آزادی دیں ، 65,71 99 کی جنگوں کے قیدی رہا کئے جائیں ، سندھ طاس معاہدے پر ازسر نو غور کیا جائے ۔مودی جی، اجیت ڈوول کی خرافات پر دھیان دینے کے بجائے اپنے مدبر رہنماء اٹل بہاری واجپائی کی اس تاریخی بیان کو ہی یاد کر لیں ’’کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں مگر ہمسائے بدلے نہیں جاسکتے پاکستان ایک حقیقت ہے اسے تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں‘‘۔وقت آ گیا ہے کہ اب مودی جی 56 انچ کی چھاتی کو خطے میں امن اور عام آدمی کی فلاح کے لئے استعمال کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *