مودی اپنی ذات کے اسیر ہوچکے ہیں

سنجے کمار(انڈیا)

sanjay-kumar

بھارت میں ایک جنگی جنون پیدا ہو گیا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ امن کے دعویداروں کو بھارت میں مکمل طور پر خاموش ہی کر دیا جائے۔ سخت اور جنونی بڑھکیں جو بھارتی سیاستدانوں ، ماہرین اور صحافیوں سے سننے کو مل رہی ہیں وہ ہندو انتہا پسندوں کی سوچ کی عکاس ہیں ۔ ایسے لوگوں کی جو علاقے میں امن و امان کو پنپتا دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ اڑی کا حملہ جس میں 19 بھارتی فوجیوں کی جانیں گئیں قابل مذمت ہے اس میں شک نہیں۔ لیکن اس حملے کے جواب میں بھارتی سیاستدانوں اور صحافیوں کا رویہ بہت غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ دہلی کی سیاست کو خطرناک اور رسکی قرار دیا جا رہا ہے اور اسے ایسا بنانے میں بھارتی میڈیا کا اہم کردار ہے۔

کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی مظالم سے آنکھ پھیر کر ہر کوئی پاکستان کے ساتھ جنگ کے مختلف پہلووں پر غور میں لگا ہے۔ مودی کا جارحانہ رویہ جو صرف پاکستان کے خلاف مقید نہیں ، ملک بھر میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ بھارت کو معلوم ہے کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا نہیں کر سکتا جس کی وجہ پاکستان کا جغرافیہ  ہے جس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ دنیا مکمل طور پر اسے تنہا نہیں ہونے دے گی۔ چین اور روس کھلے عام پاکستان کی حمایت کرتے ہیں۔ بھارت کے اتحادی ایران نے بھی سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر  دی ہے۔ بھارت کے پاکستان کو تنہا کرنے کے مطالبے پر امریکہ کا جواب بھی زیادہ گرمجوش نظر نہیں آتا۔

پاکستان کو تنہا کرنے کے مطالبہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مودی گورنمنٹ میں ہی عوامی جذبات کی وجہ سے آئے ہیں۔ اوڑی جیسے حملوں کے بعد، مودی نے اپنے حلقے میں اعلان کر دیا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں گے اور پرانی حکومتوں کی طرح نرم رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ انہوں نے پچھلی حکومتوں پر پاکستان کے ساتھ نرمی برتے رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ چونکہ بلدیاتی انتخابات بہت قریب ہیں اس لیے حکومتی پارٹی اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ پاکستان کی کشمیر کے معاملے میں مداخلت کا جواب دینے میں سرد مہری دکھائے۔ اسی وجہ سے مودی اپنے ہی ذات کے اسیر بن چکے ہیں۔ چونکہ جیو پولیٹیکل حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت دنیا سے تنہا نہیں کر سکتا اس لیے بھارت نے مزید ایگریشن دکھا کر اپنی جنتا کو مطمئن کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔

 سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کا وعدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی طرف سے کروایا گیا معاہدہ بھارت توڑنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے اسے دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا ہو گا۔ انڈیا نے اپنے ہمسایہ ممالک کو سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ لیکن اس کامیابی کو پرسپیکٹو میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کتنے ممالک نے اپنی مرضی سے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور کتنوں کو مجبور کیا گیا۔ اسلام آباد کے مطابق نئی دہلی یہ ساری حرکات کشمیر پر سے توجہ ہٹانے کے لیے کر رہا ہے۔

لیکن آخر کب تک بھارت کشمیر کو نظر انداز کر پائے گا۔کشمیریوں کی بھارت سے نفرت ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کی کشمیر میں مداخلت کے باوجود بھارت کشمیر کے مسئلہ کو دہشت گردی کے سائے میں زیادہ دیر نہیں چھپا سکتا۔لیکن مودی حکومت اس مسئلے کو ہینڈل نہیں کر پا رہی۔ جب سے نئی حکومت آئی ہے کشمیر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومتی پارٹی کشمیر کو ہندو نیشنلسٹ کے نظریے سے دیکھتی ہے جو کہ مسلم اکثریت والے علاقے کے لوگوں کو پسند نہیں ہے۔

 پی ڈی پی جو کشمیر میں بی جے پی کے اتحاد کے ساتھ حکومت کر رہی ہے  بھی کشمیر کے مسئلہ کو ہینڈل کرنے میں نا اہل ثابت ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہی بی جے پی سے اتحاد ہے۔ چونکہ لوگو اور مرکزی دونوں حکومتیں کشمیریوں کا بھروسہ کھو چکی ہیں اس لیے مسئلہ مزید گمبھیر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ پاکستان کے لوگ  حکومت کی سٹریٹجک غلطیوں کی وجہ سے بہت مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ بھارت کو یقین دلائے کو وہ دہشت گردی کو سنجیدگی سے ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ دوسری طرف  بھارت کو اب زیادہ میچورٹی دکھانی ہو گی۔ پاکستان کو بلا وجہ اور کھوکھلی  دھمکیاں دینے سے باز رہنا ہو گا۔ اگر ذرا سی بھی غلطی سر زد ہو گئی تو ہمارا کمزور علاقہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *