امریکہ کا قومی قرض 12 ماہ میں 1ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا!

امریکہ کی مالی حالت مسلسل اور بری طرح روبہ زوال ہے اور گزشتہ 12ماہ میں اس کے قرض میں 1ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔graph

شیئرلنکس کے نک لیئرڈ نے ایک دلکش اور بروقت چارٹ پیش کیا ہے جو امریکہ کی قرض کی حد، امریکہ کا حقیقی قرض اور سونے کی قیمت کو واضح کرتا ہے۔ 2000ء سے لے کر 2013ء کی پہلی سہ ماہی تک امریکہ کے قومی قرض میں اضافے اور سونے کی امریکی ڈالروں میں قیمت کے درمیان ایک بہت مضبوط اور قریبی تعلق تھا۔
اس چارٹ کے مطابق، 2013ء کی پہلی سہ ماہی کے بعد،یہ تعلق ٹوٹ گیا، اسی دوران امریکہ کا قومی قرض نہایت برق رفتاری سے بڑھنے لگا اور سونے کی امریکی ڈالر میں قیمت نمایاں طور پر نیچے گر گئی۔ 2013ء کی پہلی سہ ماہی کا اختتام، اپریل 2013ء میں سونے کی قیمت کے تیزی سے نیچے گر نے سے مل جاتا ہے۔اس نے فی الواقعی ساری دنیا میں سونے کی مانگ کو بہت زیادہ بڑھا دیا۔
اس ساری صورتحال سے ہم آسانی سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اب کی بار سونے کو، کسی نہ کسی طرح سے،اس کے گزشتہ کردار، یعنی امریکہ کے قومی قرض کی بھیانک تصویر کو پیش کرنے سے روکا گیا ہے۔
17ستمبر2014ء کو صبح 9بج کر 53منٹ تک امریکہ کا غیر معمولی قومی قرض یہ تھا:17764283324567.73ڈالراور امریکہ کی آبادی تقریباً319031951افراد پر مبنی ہے۔ گویا ہر امریکی 55681.83ڈالر کا مقروض ہے۔قومی قرض2.37بلین ڈالر روزانہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *