ایک طوفان جو ٹل گیا

ایاز امیرAyaz Amir

اٹک کی تحصیل جنڈ میں خطاب کرتے ہوئے صاحبِ مینڈیٹ و جمہور کی زبان یوں گہربار ہوئی ...’’ اب تک ہم بہت تحمل اور نرمی سے سب کچھ برداشت کررہے ہیں ورنہ راستے اور گلیاں صاف کرانا تو چنداں مشکل نہ تھا۔‘‘شائستگی پر قربان مگر سچائی کچھ اور ہے۔ پنجاب حکومت نے اپنی تمام تر طاقت استعمال کرتے ہوئے طاہر القادری کے ماڈل ٹاؤن، لاہور میں گھر کے باہر سے ایک گلی صاف کرانے کی کوشش کی تھی اور اس جوانمردی کا انجام سب جانتے ہیں۔ کیا اُس معرکے کی یاد جناب وزیرِ اعظم کی یاد داشت سے محو ہوچکی ؟
وزیرِ داخلہ کی کھلی ہدایت اور بھرپور نگرانی میں اسلام آباداور پنجاب پولیس نے شاہرائے دستور کو صاف کرانے کے لیے اتنی ر بر کی گولیاں چلائیں جو دارلحکومت کی تاریخ میں کبھی نہیں چلائی گئیں تھیں لیکن پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے سخت جان کارکنوں کے حوصلے پست نہ ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔ اس کے بعد قانون کے آہنی ڈنڈے کوہی شرمسار ہو کر پسپا ہونا پڑا۔ طاقت کے اس استعمال کے ایک یا دو دن بعد مظاہرین پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوگئے۔ اگر ٹرپل ون بریگیڈ کے دستے بروقت نہ پہنچتے تو صورتِ حال مزید بدتر ہوسکتی تھی۔
ملک میں اسلام آباد پولیس سے زیادہ پست حوصلہ فورس کوئی اور نہیں۔ اگلے دن ایک پولیس وین ، جس میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، کو کارکنوں نے گھیر لیا۔ یہ گھیرا ؤختم کرانے اور مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کے لیے آئی جی اسلام آباد پولیس کو خود آنا پڑا۔ اگر انسپکٹر جنرل پولیس کا عہدہ اس حد تک بے توقیر ہوچکا ہے تو ہم دارلحکومت میں امن و امان کی صورتِ حال کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اب حکمرانوں کو کس بات کا انتظار ہے؟ وہ جلدی سے طاقت استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو اٹھا کیوں نہیں دیتے؟نہ صرف یہ منظر دیکھنے کے لائق ہوگا بلکہ اس سے عمران خان اور ڈاکٹر قادری کی گلُ ہوتی ہوئی شعلہ بیانی پر بھی تیل گرے گا ۔ اس وقت ان دونوں اصحاب کو ایسے ہی کسی وٹامن کے انجکشن کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کی اس حماقت سے ڈی چوک کی ’’رونقیں ‘‘ پھر لوٹ آئیں ۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر محترم ارکانِ پارلیمنٹ پچھلے دروازے سے ایوان میں داخل ہوں گے۔ ویسے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک سنگین مذاق ثابت ہوا کیونکہ اس میں حکومت کی ہی سبکی ہوئی۔
وزیرِ اعظم کی حسنِ گفتار کا یہی اک شاہکار نہیں، بلکہ فرمایا کہ جب اٹھارہ کروڑ افراد (پتہ نہیں حکمران یہ بات کیوں کرتے ہیں؟ کیا اٹھارہ کروڑ افراد ووٹ ڈالتے ہیں؟)نے اُنہیں مینڈیٹ دیا ہے تو وہ پانچ ہزارافراد کی خواہش پر استعفا کیوں دیں؟بالکل درست فرمایا۔ بے شک ایسا نہیں ہوسکتا، لیکن پھر ہماری گناہ گار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا ہوا ہے کہ ایک صاحب ، جنھوں نے اتفاق سے وردی پہنی ہوتی تھی،چھڑی لہراتے ہوئے گزرے وقتوں کے وزرائے اعظم سے یہی بات کہتے ، ٹرپل ون بریگیڈ کے دستے دکھائی دیتے اور سرتابی کی جرات نہ ہوتی۔ یہ الف لیلیٰ کے مناظر نہیں ہیں...’’راستے اپنی جگہ ہیں، منزلیں اپنی جگہ‘‘اور کچھ راہرو بھی۔
دباؤ میں قدرے کمی آنے سے اب وزیرِ اعظم نہ صرف پرعزم دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان کوتابِ سخن کا بھی یارا ہورہا ہے۔ ان کا متزلزل ہونے والا اعتماد بھی قدرے بحال ہوچکا لیکن پھر اُنہیں ڈی چوک پر ہونے والے احتجاج کا حوالہ نہیں دینا چاہیے تھا... بشرطیکہ ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہوتا۔ اگر وہ اس گرداب سے نکل چکے ہوتے تو وہ بہت سے دیگر اہم معاملات پر بات کرتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ جنڈ میں اُنھوں نے پارٹی کے وفاداروں اور سرکاری افسران سے خطاب کیا۔ یہی بہتر ہے کیونکہ حالیہ سیلاب کے دوران مختلف مقامات پر اُنہیں سیلاب متاثرین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ ایسی ناروا صورتِ حال بچنے کے لیے بہتر ہے کہ کسی محفوظ مقام پر ہی تقریر کا شغل پور ا کرلیا جائے۔
اس سے پنجاب میں رونما ہونے والی تبدیلی کی ایک جھلک ملتی ہے۔ ایک وقت تھا جب کسی گاؤں کے لوگ حاکمِ وقت کوناراض کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، لیکن اب موجودہ وزیرِ اعظم کو مظفر آباد، موٹر وے پر سیال موڑ کے نزدیک چک خانہ(Chak Khana)، ملتان میں شیر شاہ بند پر عوام کے مشتعل جذبات کا سامنا کرنا پڑا۔ میں سیال موڑ پر خود بھی موجود تھا اور وہاں جو کچھ ہوا، اُسے معمول کی مداخلت نہیں کہا جاسکتا۔ وزیرِ اعظم کو تقریر ادھوری چھوڑ کر جانا پڑا۔ بہت جلد حکمرانوں کی لفاظی کی عادت ختم ہونے کو ہے۔ کیا ہمارے حکمران عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں جوہر مرتبہ ان کے الفاظ پر یقین کرلیں اور مطمئن ہوکر بیٹھ جائیں؟یہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کا فرض ہے کہ وہ حکومتی مشینری کو متحرک کرتے ہوئے ایسے مصائب کا قبل ازوقت تدارک کرنے کے لیے کام کریں، نہ کہ جب مصیبت سر پر آن پڑے اور عوام پانی میں ڈوبے ہوئے ہوں تو وہ فوٹو شوٹ کراتے ہوئے محض دکھاوے کی خاطر توہین آمیز طریقے سے عوام میں امدادی سامان بانٹے دکھائی دیں۔ سیلاب متاثرین کا وہی گھسی پٹی تقریریں سننے سے انکار، ڈی چوک پر احتجاج اور پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا پولیس تشدد کے مقابلے میں استقلال اور پنجاب پولیس، جسے جبر وتشدد کی عادت تھی ، کا ایک نیا سبق سیکھنا، اُس آگاہی کی علامات ہیں جو معاشرے میں سرائیت کررہی ہے۔ حتیٰ کہ حسبِ معمول شہزادوں کی طرح تاخیر سے آنے پر پی آئی اے کے مسافروں کی طرف سے میرے دوست سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو جہاز سے اتار دینا بھی تبدیلی کا ایک خوشگوار اشارہ سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ عوام میں یہ شعور بیدا ر ہورہا ہے اور اب اُنہیں اتھارٹی کے جبر سے نہیں دبایا جاسکتا۔
پنجاب پولیس کو چیلنج کرتے ہوئے علامہ قادری اور بدعنوانی کے خلاف تقریر کرتے ہوئے عمران خان(اگرچہ میری خواہش ہے کہ خاں صاحب تقریر کرنے کا فن بھی سیکھ لیں)نے عوام میں اس تبدیلی کا بیج بودیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ مقصد نہ ہو لیکن بعض اہم تبدیلیاں بغیر کسی پیشگی پلاننگ کے ہی آتی ہیں۔ پی ایم ایل (ن) پانچ دریاؤں کی سرزمین، جو پاکستانی سیاست کا پاور ہاؤس ہے) پر اپنی گرفت رکھتی تھی، لیکن وہ دن اب ہوا ہوئے، آج اس کے سامنے بہت سے خوفناک چیلنج درپیش ہیں اور یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔
اب جبکہ خطرہ ٹل گیا اور طوفان تھم چکا تو یہ بات یاد داشت کا حصہ ہے کہ چند دن پہلے ہجوم پی ٹی وی بلڈنگ میں داخل ہوچکا تھااور سول حکومت کی اتھارٹی تحلیل ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اور دکھائی یہی دے رہا تھا کہ کسی بھی وقت دیگر سرکاری عمارات پر بھی قبضہ ہوجائے گا تو میری نگاہوں کے سامنے انقلابِ فرانس کے دوران بیسٹائل جیل پر حملے کے مناظر تازہ ہورہے تھے۔ سول اتھارٹی مشتِ غبار تھی اور کچھ اہم اداروں کو بس اتنی ہی زحمت کرنا تھی کہ ایک اشارہ کرتے ہوئے انہیں مزید سبکی سے بچالیں... اگر ایسا کرنے کا کوئی ارادہ تھا۔ وزیرِ اعظم اور بسیار گو کابینہ کا کہیں اتاپتہ تک نہ تھا۔ وزراء کے بیانات کی توپیں خاموش لیکن تمام ترخدشات ، جن کا اظہا ر کرنے والوں میں ، میں بھی شامل تھا، کے باوجود فوج نے مداخلت نہ کی۔ جب سہ پہر کو آرمی چیف نے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی تو گرد و غبار کی آندھی چھٹنا اور حکومت کی سانسیں بحال ہونا شروع ہوچکی تھیں۔
فرض کریں اگر ا س کے برعکس صورتِ حال پیش آتی اور سازش کرنے والے جیت جاتے اور فوج بھی معقولیت سے دستبردار ہوتے ہوئے ماضی کی طرح مداخلت کرتی تو حکمرانوں کی تمام تر حماقتیں اور کوتاہیاں بخارات بن کر اُڑ جاتیں اور وہ میدانِ جمہوریت کے شہید بن کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرجاتے۔ اور ایسا پہلی مرتبہ نہ ہوتا، اکتوبر 1999 کی یاد باقی ہے۔ یاد رہے کہ سیلاب بعد میں آیا ہے اور اگر حکومت ختم ہوچکی ہوتی تو کہا جاتا کہ اگر نواز شریف ہوتے تو کس تندہی سے سیلاب متاثرین کی مدد کرتے۔ جتنا زیادہ پانی بلند ہوتا ، فوج کو اتنا ہی برابھلا کہا جاتا، لیکن خدا کا شکر ہے کہ ایسا نہ ہوا۔ پاکستان کو مزید سیاسی شہدا کی نہیں، زندہ اور جاندارسیاسی کردار وں کی ضرورت ہے۔
وکلا کی تحریک نے مشرف کا تختہ نہیں الٹا تھا بلکہ اُسے کمزور کردیا تھا۔ آج پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک بھی وزیرِ اعظم سے استعفا لینے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن وہ بہت کچھ حاصل کرچکے۔ اُنھوں نے کم از کم بھاری مینڈیٹ کو ’’سربازار می رقصم ‘‘ کی تصویر بنا دیا۔ یہ عمل جو ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، اسے جمہوریت پر حملہ قرار نہیں دیا جاسکتا... اس سے زیادہ احمقانہ خیال محال ہے... بلکہ ماضی کی سیاست کے دیوتا، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) عام فانی انسانوں کے سامنے بے نقاب ہورہے ہیں۔ وہ دن قریب ہے جس وعدہ تھا کہ’ ہم دیکھیں گے۔ ‘

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *