میانداد نے کلہاڑی خود تلاش کی ہے ؟

syed arif mustafa

شاہد آفریدی نے جاوید میانداد کو قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا ہے اور یوں سمجھیئے کہ پرسکون ریٹائرڈ زندگی اور کمائی ہوئی عزت کو انجوائے کرتے اس لیجنڈ کرکٹر کی اپنے ہی ہاتھوں کمبختی آگئی اور وہ جذبات کی رو میں بہ کے ایک ایسے تننازع میں الجھ بیٹھے کہ اگر تلافی کی فوری اور تیز تر کوششیں نہ کی گئیں اور نہایت احتیاط اور ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا تو اس قضیئے کا انجام انکی بے عزتی و پسپائی پہ ہونا یقینی ہے ۔۔۔ واضح رہے کہ میں میانداد کا بہت قدردان رہا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ان جیسا زیرک اور کرکٹنگ سینس رکھنے والا کھلاڑی پاکستانی کرکٹ میں کوئی دوسرا نہیں آیا ،،، وہ ایک دو نہین متعدد بار مرد بحران ثابت ہوئے اور کئی مرتبہ اپنے بلے کی ہنرمندی سے انہوں نے نتائج پاکستان کے حق میں بدل ڈالے- میں ایک بار1987 میں ریڈیو پاکستان کے ایک گرینڈ کرکٹ کوئز مقابلے میں فاتح بنکے ان سے انعام بھی پا چکا ہوں کے جہاں وہ بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔۔۔ لیکن کیا کیا جائے کہ مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات ۔۔۔ جہانتک افریدی کا معاملہ ہے میں نے دو برس قبل ہی 3 کالموں میں انہیں مشورہ دیدیا تھا کہ وہ اب ٹیم پہ مزید بوجھ نہ بنیں اورعزت و آبرو سے رخصتی کا فیصلہ کرلیں بصورت دیگر بہت برے دنوں کا سامنا کرنے کے لیئے تیار ہوجائیں ۔۔۔ کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے اس معمول کو اپنائے ہوئے تھے کہ اوسطاً 14 میچوں میں اپنی نہایت بری پرفارمنس کے بعد کسی ایک میچ میں کچھ اچھا کردکھاتے تھے اور ٹیم میں کئی میچز تک موجود رہنے کو یقینی بنالیتے تھے یوں اس ایک میچ کا بھگتان اس قوم Image result for miandad and afridiکو اگلے متعدد میچوں تک بھگتنا پڑجاتا تھا ۔۔۔
کوئی بھی تجزیہ نگار اگر شاہد آفریدی کے کرکٹنگ کیریئر کا جائزہ لے تو وہ دانتوں میں اپنی انگلیاں داب لے گا کے اس قدر پست پرفارمنس کے بعد بھی یہ صاحب ٹیم میں شامل ہی کیسے رہ پائے ۔۔۔ اس سبب میں نے انہیں بروقت ریٹائرمنٹ کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن میرے اس مشورے پہ تو انہوں نے کان کیا دھرنا تھا البتہ انکے چند جذباتی مداح مجھ سے ناراض ضرور ہوگئے اور بالائے ستم یہ ہوا کہ اس دوران آفریدی نے لال مسجد کے قاتل اور امریکہ کے ہاتھوں پاکستانی ناموس کی فروخت کے مجرم پرویز مشرف سےایک نہایت خوشامدانہ و نیاز مندانہ ملاقات کرڈالی اور یوں اپنی دانست میں اپنے ڈوبتے کیریئر کو 'عسکری حمایت' کی طاقت کا تڑکا لگانے کی بھی کوشش کی لیکن انکی اس ڈیڑھ ہوشیاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ وطن عزیزکی تباہی کے اس سب سے بڑے ذمہ دار سے شدید نیازمندی دکھا کر وہ اپنے ایسے بہت سے حامیوں کی محبت کھو بیٹھے جو پرویز مشرف سے شدید نفرت کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے پہ مجبور ہوگئے کہ لالہ ایک نہایت مفاد پرست شخص ہے جو اپنی غرض کی تکمیل کے لیئے کسی حد تک بھی گر سکتا ہے-
میانداد کیلئیے قدردانی رکھنے کے باوجود ایسا نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی تنقید سے مبرا ہیں کیونکہ لوگوں کی یادداشت اتنی کمزور نہیں کہ وہ یہ بھول جائیں کے خود انہوں نے کرکٹ اس وقت ہی چھوڑی تھی کہ جب انکا بیڈ پیچ بہت ہی طویل ہوگیا تھا اور وہ بہت عرصے سے اسکور کرنے سے قاصر چلے آرہے تھے اور ایسے میں جیسے تیسے زبردستی کرکے انہوں نے 1996 والا ورلڈ کپ بھی کھیل لیا تھا کہ جس میں انکی کوئی جگہ نہ بنتی تھی ، اور مجھ جیسے انکے بہتیرے مداح یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اب انہیں عزت سے یہ میدان چھوڑ دینا چاہیئے ۔۔ میں یہ بی سمجھتا ہوں کہ آفریدی نے پیسے کی محبت کے حوالے سے جو کچھ انکے بارے میں کہا ہے وہ اگر مکمل صحیح نہیں تو مکمل غلط بھی نہیں ۔۔۔ میانداد ایک طویل عرصے تک پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پہ متمکن رہے ہیں اور ساڑھے سات لاکھ روپے کی خطیر تنخواہ سے انہوں نے اس منصب کو جوائن کیا تھا لیکن اس تمام عرصے میں انہوں نے قومی کرکٹ کی نشوونماء اور بہبود کے لیئے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی اور کرکٹ کے قومی ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور آگے لانے میں بھی یکسر ناکام رہے ۔۔۔ اس دوران پی سی بی کے کتنے ہی سربراہ آئے اور ناکام گئے لیکن انکی سیٹ پکی رہی اور کوئی انکا احتساب نہ کرسکا اور اس عرصے میں پاکستانی کرکٹ زوال کی بدترین حالت کو جاپہنچی تھی یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ موصوف نہایت عمدہ کھلاڑی ہونے کے باوجود پاکستانی کرکٹ کے ناکام ترین کپتانوں اور غیر موثر کوچز میں شمار کیئے گئے ہیں اور ان شعبوں میں انکی جادوگری ملک و قوم کے کبھی مطلق کام نہ آسکی-
میانداد وہ خوش نصیب کھلاڑی ہیں کہ جو قطعی طور پہ یہ گلہ نہیں کرسکتے کہ قوم نے انہیں انکی خدمات کا مناسب صلہ نہیں دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ 18 اپریل 1986 کو آسٹریلشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف لگائے گئے انکے چھکے سے انہیں قوم کی طرف سے جو ستائش ملی اور ان پہ جس قدر خطیر انعامات کی برسات کی گئی ، دنیا بھر میں اس وقت کرکٹ کی دنیا میں ایسی شاندار پزیرائی کا یہ واحد واقعہ تھا ۔۔۔ وہ اب پرسکون انداز میں اچھے بھلی ریٹائرڈ زندگی کو اینجوائے کرتے چلے آرہے تھے اور انہیں قطعیطور پہ کسی ایسے تنازعے کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیئےتھا اور اس بار اگر وہ آفریدی کو اگر یہ کہ کر مشتعل نہ کرتے کہ " آفریدی پیسے کی وجہ سے فیئرویل میچ مانگ رہا ہے " تو جواباً آفریدی بھی ان پہ یہ وار نہ کرتا کہ " میانداد کے ساتھ ہمیشہ پیسوں کا مسئلہ رہا ہے اور اب بھی ہے" اور آفریدی تو پھر بھی یہاں تک آکے آکے نہ بڑھا مگر میانداد نے تو حد ہی کردی اور پاکستانی کرکٹ کے سب سے بڑے لیجینڈ ہونے کے باوجود آفریدی پہ میچ فکسنگ کا الزام لگاکے خود اپنے لیئے ہی بہت بڑا سا گڑھا کھود بیٹھے ،،،
میری دانست میں انہوں نے شاہد آفریدی پہ میچ فکسنگ کا سنگین الزام لگا کے بہت بڑی حماقت بلکہ سنگین غلطی کی ہے کیونکہ اس سے دو اہم سوالات نے جنم لے لیا ہے ۔۔ ایک تو یہ کہ ان میچوں کی فکسنگ کے ثبوت کہاں ہیں ،،؟؟ گویا انہیں اب لازمی اس الزام کے حق میں ثبوت فراہم کرنے پڑینگے اور وہ ایسے آسانی سے بچ نہیں سکیں گے تو دوسری طرف ان کو اس سوال کا جواب بھی دینا پڑے گا کہ اگر آفریدی کے میچ فکسنگ کی بابت انہیں علم تھا تو انہوں نے اسے کیوں چھپایا۔۔! اور وہ ابتک کیوں خاموش رہے۔۔؟؟ کیونکہ ملک و قوم کے مفاد کے برعکس ایسی پردہ پوشی کرنا تو خود اعانت جرم کے مترادف ہے ۔۔۔ مجھے اس بابت کوئی شبہ نہیں کہ انہیں میچ فکسنگ والے سوال کا جواب دینا تو یقینناً بہت مشکل ہوگا ہی لیکن اس مبینہ میچ فکسنگ کو چھپائے رکھنے سے متعلق دوسرے سوال کا جواب دینا تو ان کے لیئے قطعی ناممکن ہوگا اور یوں انہیں جلد ہی اندازہ ہوجائیگا کہ نہ صرف انہوں نے اپنے پیروں پہ خود ہی کلہاڑی مارلی ہے بلکہ اسکے لیئے کلہاڑی تلاش بھی خود ہی کی ہے
arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *