عدنان سمیع کے ٹوئیٹ کا اتنا سخت جواب؟

خسروطارق

khusru-tariq

پچھلے ہفتے ایک نوجوان  احسن محمود  نے عدنان سمیع کو ان کے مرحوم باپ کی طرف سے ایک فرضی خط لکھا  جو ہفتہ وار پاکستان میں شائع ہوا۔ یہ خط عدنان سمیع کے ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا گیا جس میں عدنان نے بھارتی  وزیر اعظم  اور فوج کو مبینہ سرجیکل سٹرائیک پر مبارکباد دی تھی۔ خط میں عدنان سمیع کے والد کو ایک پاکستان ائیر فورس ملازم کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس میں والد اپنی حب الوطنی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے بیٹے کو اپنے وطن کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔   خط کے دوسرے حصے میں والد اپنے بیٹے کو وطن کی عزت پر داغ اور بے غیرت جیسے برے الفاظ  سے مخاطب کرتا  ہے۔ چلو مدعے پر آتے ہیں۔ عدنان سمیع کے پیغامات واقعی قابل مذمت ہیں۔ یہ وہی بے ہودہ پروپیگنڈہ ہے جو پاکستان اور بھارت میں ٹی وی  اور سوشل میڈیا پر ہر وقت دیکھنے کو ملتا ہے۔

اب وہ ری ایکشن بھی دیکھیں جو عدنان سمیع کو سوشل میڈیا پر ملا ہے۔ انہیں سانپ، بے غیرت،  اور دوسرے برے اور قابل نفرت القابات سے نوازا گیا ہے۔ یہ رویہ ان کو نہ صرف سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا ہے بلکہ پاکستان میں پبلیکیشن کے ہر فورم پر ان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ زیادہ تر مواقع پر ان کے کریکٹر پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ان کو غدار گردانا گیا اور انہیں حب الوطنی کے جذبات سے عاری قرار دیا گیا۔ جس طرح سے یہ خط لکھا گیا ہے اس طرح  کا رویہ پاکستان میں بہت شاذو ناذر ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اسے مُردوں کواکھاڑنے کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ عدنان سمیع کے ٹویٹ کا اتنا سخت جواب ہمیں بھارت کے میڈیا سے مختلف کسی صورت ثابت نہیں کرتا۔ یہ بلکل وہی رویہ ہے جو بھارتی اینکر پرسن اور دوسرے مہمانوں نے اوم پوری کے ساتھ روا رکھا اور انہیں ملکی فوج کی بے حرمتی کا مرتکب ٹھہرایا۔

اس طرح ہم اس درندے سے بھی مختلف نہیں ہو سکتے جس نے قانونی طور پر اوم پوری کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروایا۔ اگر ہم اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ایک میوزک سنگر کے عام سے ٹویٹ سے ہم اس پر ہلا بول دیتے ہیں تو ہمیں اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر ہمارا رویہ دوسروں کی برائی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بُرا ہے تو لازما کوئی خامی ہے جسے ہمیں فوری طور پر نشاندہی کے بعد درست کرنا چاہیے۔ اگر ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں تو ہم ایسے لوگوں کا سہارا بن رہے ہیں جو ہمارے اس رویے کا فائدہ اٹھا کر ہمیں مزید مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔ اگر صرف عدنان سمیع کا ایک ٹویٹ ہماری پوری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے  توہزارہ میں ہونے والے چار شیعہ عورتوں کے قتل پرہم کیوں خاموش رہے؟

یہاں تک کہ احمدی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز بیانات سے متعلق پیمرا کی میٹنگ  بھی ہماری اس نام نہاد حب الوطنی کی نذر ہو گئی۔ بارڈر پر کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم اور کسانوں کی خود کشیاں ہمارے ہاں پورے زور و شور سے زیر بحث لائی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے حق میں اتنہا پسندی پورے ملک کے عوام میں دیکھی جا رہی ہے۔ خوشحالی کی زندگی گزارنے کے لیے ہمیں کمیونل  سکیزم اور الٹرا نیشنلزم  کے بیانیے کو رد کرنا ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کی سیاست میں پائی جانے والی ناقابل برداشت جنگو ازم  صرف غربت، تفرقہ بازی، کرپشن اور  دوسرے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو ایسی صورتحال سے ہر صورت محفوظ رکھنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *