میں ایک پاکستانی امریکن ہوں اور مجھے ٹرمپ کی سیاسی قوت سے ڈر لگتا ہے۔۔

بشکریہ:جنتّ مجید

جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی دفعہ یہ کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دے گا تو مجھے لگا کہ شائد ایسے ہی کہہjannat رہا ہے، ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔ اور مجھے لگتا تھا کہ اگر وہ صدر بن بھی گیا تو اس پالیسی پر عمل نہیں کرے گا۔بلکہ مجھے اپنے پاکستانی والدین کا خیال آیا جو مجھے اور میرے بھائی کو سال2000میں پاکستان سے امریکہ لائے ۔ تب میں آٹھ سال کی تھی لیکن مجھے آج بھی وہ مشکلات یاد ہیں جن کاسامنا میرے امیگرنٹ ماں باپ نے کیا تھا۔
اور مجھے اس کا بھی خیال آتا ہے کہ اب تک ہم نے اس ملک کی ترقی میں کتنا حصّہ لیا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب ایک ستمبر کی صبح میں اُٹھی اور مجھے دھماکوں کا پتہ چلا اور ساتھ ہی عراق اور افغانستان میں ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا۔ ساتھ میں سوچتی ہوں اپنے اُن پاکستانی رشتے داروں کے بارے میں جن کا ستمبر2011کے بعد ہم سے ملنے آنا کتنا مشکل ہو گیا اور اب تو وہ شائد کبھی آہی نا سکیں۔
جتنا میں امریکہ کو اپنا ملک سمجھتی ہوں اُتنا ہی مجھے احساس دلایا جاتا ہے کہ میں باہر کی ہوں، مجھ پہ شک کیا جاتا ہے اور مجھے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔
ڈونلڈٹرمپ کی سیاسی قوت ایک مہاجر کی زندگی پر یا اثر ڈالے گی؟
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں میں پچھلے دنوں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جن کی
وجہ مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات اور ساتھ ساتھ سیاسی مہم کے دوران استعمال ہونیوالی نفرت انگیز زبان ہے۔
جبکہ مسلمانوں کے خلاف پُر تشدد واقعات میں سال 2015میں 78%کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ امریکہ کے کچھ لوگ ایک مذہب کو قربانی کا بکرا بنا کر تمام دہشت گردی اُن کے سر تھوپنا چاہ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے مسلمانوں کو احساس دلایا ہے ہے وہ یہاں محفوظ نہیں اور اُس کی بیان بازی اور سیاسی پالیسیاں پاکستان سے امریکہ آنے والوں کے لیے بھی خطرناک ہیں۔خاص کر کے جب امرکہ آنے والوں کی چھانٹی امریکہ کی آبادی یا اُن کے امریکہ میں success rateکو دیکھ کر کی جائے گی۔
اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ آنے والوں سے غیرت کے نام پر قتل، ہم جنسوں، عورتوں کی عزت، اقلیتوں کے حقوق اور بنیاد پرست اسلام کے بارے میں سوال کیے جائیں گے۔ اب یہ ٹیسٹ دیکھنے میں جتنا بھی معصوم لگے اس کا اصل نشانہ صرف مسلمانوں کی ہی بنایا جائے گا۔
جو بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ زیادہ تر جو لوگ امریکہ آنا چاہتے ہیں وہ یہاں دہشت گردی پھیلانے یا یہاں کے قوانین کو توڑنے نہیں آتے۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات جوکہ پچھلی صدی تک محیط ہیں اُن کے مطابق مہاجر خواہ وہ کسی بھی ملک سے ہوں وہ امریکہ کی ایک معصوم آبادی ہوتے ہیں جو جرائم میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ Immigration Policy Center کے مطابق کسی بھی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے قید مجرموں میں سب سے کم تعداد مہاجروں کی ہے۔
یہ عجیب ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ آنے والوں کے لیے ideological test کی تجویز دی ہے جس سے یہ پتہ لگایا جا سکے گا ایک امریکہ آنیوالے کا مقصد فساد یا نفرت پھیلانا تو نہیں جبکہ اُس کے اپنے کارندے برداشت اور تنوع سے ناواقف ہیں۔
ایک تازہ شو میں تو یہ چیز مزید کھل کے سامنے آئی جب ٹرمپ کی ریلی میں موجود لوگوں سے وہی سوال پوچھے گئے جو اُس ٹیسٹ میں پوچھے جائیں گے اور جن کے جوابات میں کہیں بھی برداشت اور رواداری نظر نہیں آئی بلکہ امریکہ کے آئین کے خلاف بھی باتیں کی گئیں۔
ٹرمپ کی immigration restrictions سے ناصرف مسلمان بلکہ تمام لوگ ہی متاثر ہونگے۔ تحقیق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ٹرمپ کے تجویز کیے گئے طریقے سے امریکہ میں ہونے والی قانونی ہجرت میں نمایاں کمی آئے گی۔تقریباََ ساٹھ لاکھ لوگ 2065تک امریکہ نہیں آسکیں گے۔
جس طرح سے ٹرمپ امرکیوں کے بارے میں Mexican Americans اور Latino Americans کر کے بات کرتا ہے وہی اس قدر تعصبانہ ہے۔
ایک عورت ہونے کے ناتے میں ٹرمپ کی عورتوں کی تذلیل سے ڈرتی ہوں۔
ایک international law کی طالبہ ہونے کے ناتے میں اُس کی فارن پالیسی اور عدم برداشت سے ڈرتی ہوں۔
میں ڈرتی ہوں کہ ایک ایسے وقت میں جب افریقی امریکن پہلے ہی پولیس گردی کا شکار ہیں وہاں ٹرمپ کی پالیسی مزید نفرت اور شر انگیزی پھیلائے گی۔
میں ٹرمپ کی پالیسیوں سے صرف اسلیے پریشان نہیں کہ میں مہاجر مسلمان ہوں بلکہ اسلیے بھی کہ میں ایک امریکن ہوں۔
اور آخر میں یہ میرے اور میرے والدین جیسے امریکیوں کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے خود کے حق میں ایک بہتر فیصلہ کریں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *