ٹریسا مے کا بر طانیہ

rana-sajid-sohail

برطانیوی حکومت کو ملک میں ہونے والے یورپی یونین ریفرنڈم کے بعد اب تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اسکی دو تین خاص وجوہات ہیں جس میں پہلی اور سب سے پڑی وجہ ڈیویڈ کیمرون کے بعد نئی برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے ہے کیونکہ ڈیوڈ کیمرون کی ذاتی شخصیت ، ترجیحات ، سیاسی قابلیت اور بحث و مباحثے میں حاضر دماغی کہیں زیادہ تھی جب ڈیوڈ کیمرون بات چیت کرتا تھا تو اسکے الفاظ بولتے تھے کہ وہ دنیا پر ایک لمبے عرصے تک راج کرنے والے ملک کا وزیر اعظم ہے جسے وہ عظیم برطانیہ کے نام سے پکارتے ہیں برطانیہ دنیا کا بین الاقوامی ملک ہے اور ڈیوڈ کیمرون کی شخصیت بھی اسکے ملک سے مماثلت رکھتے ہوئے بین الاقوامی لیڈر کی تھی لیکن اس کے بر عکس ٹریسا مے کی شخصیت اور سیاسی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو وہ کسی نسل پرست خطے کی وزیر اعظم محسوس ہوتی ہیں نا کہ کسی بین الاقوامی ملک کی ،
اس پر آپ کو زیادہ غور فکر یا تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ ٹریسا مے کے پچھلے چند ہفتوں کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو یہ بات واضح نظر آئی گی کہ ٹریسا مے کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر جرمن چانسلر کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا تھا کہ کون با اثر اور طاقت ور کہلائے گا لیکن جرمن چانسلر انجیلا مارکل بین الاقوامی شہریت کی حامل ہیں اور ٹریسا مے نہ صرف اپنی ذات کو بلکہ کنزویٹیو پارٹی اور ملک کو نسل پرستی کی طرف دھکیل رہی ہے اب بر طانیہ چاہتا ہے کہ یورپی یونین میں موجود سنگل مارکیٹ کا درجہ بر قرار رکھا جائے تاکہ بر طانیہ کو دنیا سے تجارت کرنے میں آسانی رہے اور مہنگائی سے بھی بچا جا سکے جبکہ یو رپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر بر طانیہ سنگل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے یورپی یونین ممالک سے لوگوں کی آمد و رفت کو پہلے کی طرح جاری رکھنا پڑے گا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ یورپی یونین کو پتہ ہے کہ سنگل مارکیٹ تک رسائی ہی برطانیہ کی واحد کمزوری ہے اور وہ اس پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ہوں گے کیونکہ مذاکرات کی میز پر برطانیہ کافی کمزور ہے دوسری طرف برطانوی پارلیمنٹ کے بہت سے ممبران بضد ہیں کہ ہمیں یورپی یونین سے باہر نہیں آنا چاہئے ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افراد کی آمد و رفت کو روکا نہیں جاتا یا حکومت یورپی یونین سے باہر نہ جانے کا فیصلہ کرے تو عوام نے پہلے ہی اسکے خلاف فیصلہ دیا ہے اور حکومت جانتی ہے کہ یہ اسکی سیاسی موت کے مترادف ہو گا ۔
ٹریسا مے کی مشکلات میں لیبر پارٹی کے نئے لیڈر جیرمی کوربن بھی ہے ، لیبر پارٹی کا نیا لیڈر منتخب ہونے کے بعد نہ صرف انکی ذاتی شخصیت کا گراف اوپر گیا ہے بلکہ لیبر پارٹی کا گراف بھی بڑی تیزی سے اوپر جا رہا ہے ماضی میں صورت حال اسکے بر عکس تھی ڈیوڈ کیمرون کے مقابلے میں لیبر کے سابق لیڈر ایڈ ملی بینڈ کافی کمزور تھے اور اب جیرمی کوربن کو مستقبل کا وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اگر ٹریسا مے یورپی ممالک سے لوگوں کی آمدو رفت کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوتی ہیں جو کہ بظاہر ایسا ہی نظر آرہا ہے تو لیبر پارٹی کو آ ئندہ انتخابات میں بہت بڑا خلا مل جائے گا جسے وہ لوگوں کے سامنے حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کرے گے اور یہ ایک ایسا نقطہ ہے جسکی کامیابی کے آثار آپ کو ابھی سے واضح نطر آ رہے ہیں۔
لندن ایک عالمی تجارتی منڈی کی حثیت رکھتا ہے کسی بھی تجارتی منڈی میں کوئی بھی کمپنی پیسہ لگائے گی تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے تجربہ کار اور اس پیشہ کے مہارت رکھنے والے لوگ وہاں لے جائے گی جو نئے لوگوں کو بھی ٹرین کر سکیں اور کاروبار بھی چلائے گے ، ٹریسا مے برطانیہ کو ۰۷۹۱ کی دہائی میں واپس لے جارہی ہے جس وقت قوم پرست جماعت نیشنل فرنٹ یو کے کا نعرہ تھا برطانوی ملازمت برطانوی شہری کے لئے اور اب یہ نعرہ ایک بار پھر سننے کو مل رہا ہے مے کو لگتا ہے کہ غیر ملکی افراد کے آنے سے برطانوی شہری بے روزگار اور تنخواہوں میں کمی ہو رہی ہے اور مختلف کمپنیوں کو کہا جا رہا ہے کہ آپ حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے صرف برطانوی شہریوں کو ملازمت دے یہاں تک کہ غیر ملکی ڈاکٹرز جو لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں انکا رستہ بھی بند کیا جا رہا ہے ، اس کے علاوہ ہوم سیکریٹری ایمبر روڈ نے کمپنیوں سے انکے غیر ملکی ملازموں کی لسٹ طلب کی ہے تاکہ انکو لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے یہ یہ کمپنیاں برطانیہ میں غیر ملکیوں کو زیادہ ملازمت دے رہی ہیں ، ٹریسا مے کی یہ قوم پرستی کی پالیسی انکی اپنی جماعت کنزویٹو کی ماضی کی پالیسیوں سے بالکل مختلف ہے جو کہ زیادہ دیر تک برطانیہ کے لئے قابل برداشت نہیں ہو سکتی اس کے نقصانات بہت سنگین ہو سکتے ہیں گلوبل ویلج میں بر طانیہ تنہائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *