Repeat Value

yasir pirzada

کہیں کہیں بھکاری نظر آتے ہیں مگر بہت کم اور وہ بھی بھلے مانس ، چپ چاپ تکتے ہیں یا کوئی ساز بجاتے ہیں بھیک کے لئے آپ کا دامن نہیں کھینچتے ، مسلمان عورتیں حجاب پہنتی ہیں جبکہ غیر مسلم عورتوں سے حجاب کرنا پڑتا ہے ، مرد باتونی اور خوش اخلاق ہیں ، بڑے شہر وں میں بلند و بالا عمارتیں اور شاپنگ مالز ہیں ، کھانے کے شوقین ہیں مگر سڑک پر کرسیاں لگا کر راستہ روک کے نہیں کھاتے ، صفائی ستھرائی بھی ٹھیک ہے اور ڈسپلن بھی ، امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں آ پ آسانی سے کہیں بھی گھوم پھر سکتے ہیں ، زبان پر ہندی کا اثر ہے اور اکثر بازاروں میں بھارتی گانوں کی دھنیں کانوں میں پڑتی ہیں ، ملک میں مساج پارلز بھی ہیں اور عالیشان مساجد اور مندر بھی ، مسلم بھی ہیں ، ہندو بھی اور بدھ مت کے پیروکار بھی ، کوئی ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتا ۔۔۔۔۔یہ ملائشیا ہے !
جس روز میری لاہور سے کولالمپور کی فلائٹ تھی وہ دس محرم کا دن تھا ، میرا خیال تھا کہ ملائشیا میں عام تعطیل ہوگی مگر یہاں کسی کو عاشورہ کا پتہ ہی نہیں تھا ، جو ڈرائیور مجھے ہوائی اڈے سے لے جانے کے لئے آیا اس نے بتایا کہ یکم محرم کوملائشیا میں تعطیل ہوتی ہے ، غالباً نیا اسلامی سال شروع ہونے کی چھٹی !پہلے تین دن تک میں نے بھرپور کوشش کی کہ اپنے آپ کو ملائشیا کی ترقی سے متاثر نہ ہو نے دوں ، اس کوشش میں کسی قدر کامیاب بھی رہا حالانکہ کولالمپور کا ہوائی اڈہ مجھے متاثر کرنے کے لئے کافی تھا ، یہ ہوائی اڈہ شہر سے کافی باہر ہے مگر ہر بین الاقوامی ائیر پورٹ کی طرح یہاں سے ایک تیز رفتار ٹرین مسافرو ں کے لئے چلائی گئی ہے ، ائیر پورٹ کے اندر بھی ایک چھوٹی ٹرین ہے جو ایک ٹرمینل سے دوسرے ٹرمینل تک جاتی ہے ، پورے ہوائی اڈے کی ’’لُک ‘‘ ایک ترقی یافتہ شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ہے ، اپنے پیٹی بند بھائی جکارتہ سے اگر اس کا موازنہ کریں تو صفائی ستھرائی اور نئے پن میں کولالمپور کے نمبر زیادہ ہوں گے ۔ لیکن میں نے چونکہ متاثر نہ ہونے کا تہیہ کر رکھا تھا اس لئے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اس قسم کا ہوائی اڈہ ہم اسلام آباد میں بنا رہے ہیں سو یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ، دنیا کے تھکے ہوئے ملکوں نے بھی اب ایسے ائیر پورٹ بنا لئے ہیں ۔ کولالمپور کے گرد و نواح دیکھ کر بھی مجھے قدرے اطمینان ہوا کہ دیکھنے لائق کوئی خاص چیز نہیں ، ہاں بلند اپارٹمنٹس کہیں کہیں نظر آتے ہیں جن کا اپنے ہاں رواج نہیں ، سڑکیں اچھی اور کشادہ ہیں جو ہمارے ہاں بھی ہیں ، ٹریفک البتہ یہاں صبح سات بجے بھی جام ہی ملا، وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ جکارتہ اور بنکاک کی طرح کولالمپور کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ ٹریفک ہے ،اگر کسی نے صبح آٹھ بجے کام پر پہنچنا ہے تو اسے چھ بجے گھر سے نکلنا پڑتا ہے جس کا مطلب ہے کے وہ علی الصبح پانچ بجے اٹھے جس کا مزید مطلب یہ ہے کہ وہ رات دس بجے سو جائے اور یہ اسی صورت ممکن ہے اگر وہ ٹریفک سے بچ بچا کر شام سات بجے تک گھر واپس پہنچ جائے ، قصہ مختصر یہ کہ ’’نو لائف ‘‘۔ یہ سب جان کر بہت خوشی ہوئی کہ کسی معاملے میں تو ہم بہتر ہیں ، کم از کم اپنے ملک میں ٹریفک کا اتناسنگین مسئلہ نہیں اور وجہ نہایت سادہ ہے کہ کسی کا کام پر جانے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں ، سکول سات بجے لگتے ہیں ، سرکاری دفاتر نو بجے ، دکانیں گیارہ بجے کھلتی ہیں او ر جس کا جتنے بجے دل کرتا ہے وہ گھر سے نکلتا ہے ۔
تیسرے دن میری منافقت جواب دے گئی۔ گو کہ کولالمپور کی انٹر سٹی ٹرین بھی خاصی متاثر کن ہے مگرمیں نے یہاں بھی تعصب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور سوچا کہ اورنج لائن تو لاہور میں بھی بن رہی ہے سو کولالمپور سے کیوں متاثر ہوا جائے ! لیکن جب اس ٹرین نے مجھے کے ایل سنٹرل پہنچایا تو میں نے سوچا کہ اب مزید منافقت سے کام لینے کا کوئی فائدہ نہیں ، کولالمپور کو میرٹ کے مطابق نمبر دینے چاہئیں ۔ کولا لمپور صحیح معنوں میں ایک کاسموپولیٹن سٹی ہے ، یہاں کئی قومیتیں آباد ہیں ، ملائے (Malaysian) تو ہیں ہی مگر بڑی تعداد چینیوں اور ہندوستانیوں کی بھی ہے ، مسلمان عورت اگر ملائشین ہے تو حجاب کے بغیر نظر نہیں آئے گی ، وہ ہر کام حجاب میں کرتی ہے ، رات کو کھانے کی دکان چلانے سے لے کر سکوٹر ڈرائیو کرنے تک اور سپر سٹورمیں سیلز گرل سے لے کر دفاتر میں کام کرنے تک وہ ہر وقت حجاب میں ہوتی ہے ،دوسری طرف چینی اور دیگر قومیتوں کی خواتین شارٹس اور ٹی شرٹ میں پھرتی ہیں جبکہ بھارتی اپنے روائتی لباس میں ۔ملک میں ہندو کلچر اور زبان کا اثر نظر آتا ہے ، مختلف الفاظ بھی ہندی سے مستعار لئے گئے ہیں ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی بھی ہیں مگر زیادہ اثر و رسوخ ہندوستانیوں کا ہے ۔ کے ایل سنٹرل پہنچ کر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ملائشیا نے وہ بس پکڑ لی ہے جس کے انتظار میں ہم اب تک کھڑے ہیں ، یہ شہر کا مرکزی علاقہ ہے جسے ہم ڈاون ٹاون کہہ سکتے ہیں ، یہاں سے آپ کولالمپور کے ہر حصے میں جانے کے لئے ٹرین لے سکتے ہیں ، روشنیوں سے چکا چوند شاپنگ مالز اور برینڈڈ دکانوں کی بھرمار یہاں ملتی ہے ، یہیں سے آپ کو Bukit Bintangجانے کے لئے مونو ریل لینی پڑتی ہے ، یہ تین ڈبوں کی چھوٹی سی ٹرین ہے جو شہر کے اوپر سے ہوتی ہوئی آپ کو منزل تک پہنچاتی ہے ۔ Bukit Bintangشہر کا وہ علاقہ ہے جہاں زندگی چوبیس گھنٹے رواں دواں رہتی ہے ، اسے آپ کسی حد تک استنبول کے شاہراہ استقلال سے موازنہ کر سکتے ہیں (ویسے استقلال کے نمبر کہیں زیادہ ہیں )، یہاں بھی شاپنگ مالز کی بھرمار ہے ، کیفے بھی ہیں اور مقامی کھانے کی ڈھابے بھی ، ٹائم سکوائر نام کی جگہ بھی یہیں ہے جہاں نئے سال کی آمد پر آتشبازی کی جاتی ہے ۔
کولالمپور میں دیکھنے کی اگر کوئی چیز ہے تو پیٹروناس ٹوئین ٹاور ، یہ واقعی ایک عجوبہ ہے ، تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت سے یہ ٹاور 1996میں مکمل کئے گئے تھے ، یہ ساڑھے چار سو میٹر بلند ہیں اور ان میں اٹھاسی منزلیں ، اس کی دیواروں پر کندہ الفاظ کے مطابق یہ دنیا کے بلند ترین جڑواں ٹاور ہیں، ان دونوں ٹاورز کے درمیان ایک ’’سکائی برج ‘‘ جہاں آپ چہل قدمی کر کے شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں ۔ چھ میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے لفٹ پہلے آپ کو 46ویں فلور تک لاتی ہے جہاں سے آپ سکائی برج تک جاتے ہیں ، اس کے بعد لفٹ آ پ کو 86ویں منزل پر اتارتی ہے جہاں سے

پورا کولا لمپور آپ کے قدموں میں دکھائی دیتا ہے ،کسی کو اگر واقعی ملائشیا کی ترقی کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو وہ ٹوئین ٹاور سے کولالمپور کی سکائی لائن کا نظارہ کرلے ، قرا ر آجائے گا ، قطار اندر قطار بلند و بالا عمارتیں یوں کھڑی نظر آتی ہیں جیسے ہم ایسے ملکوں کا منہ چڑا رہی ہوں ، روشنیوں کا ایک جگمگاتا شہر ہے جس کا نام کولا لمپور ہے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر کولا لمپور کی repeat valueنہیں ہے ،جیسے بعض فلمیں اچھی ہونے کے باوجود ایک سے زیادہ مرتبہ نہیں دیکھی جا سکتیں اسی طر ح کولا لمپور بھی ایک سے زیادہ مرتبہ جانے کی جگہ نہیں ۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *