حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔

inspecter-kay-qalam-say

چند دن قبل میں اپنے دوست کے ساتھ اس کے ایک رشتہ دار کی فوتیدگی پر افسوس کے لئے گیا۔ میرے دوست کا وہ رشتہ دار بائیس سال کا کڑیل جوان تھا جس کا نام باؤ تھا۔ پتا چلا کہ وہ کسی ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گیا تھا جب میں افسوس کے لئے اس کے باپ کے ساتھ کچھ دیر بیٹھا رہا تو اس ایکسیڈنٹ کے بارے میں چند روح فرسا انکشافات سامنے آئے۔دو موٹر سائیکل تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ دونوں موٹر سائیکلوں پر  دو دو سوار تھے اور سبھی نوجوان تھے ۔ وہ دونوں موٹر سائیکل اتنی تیز رفتاری سے آمنے سامنے ٹکرائے تھے کہ حیران کن طور پر چاروں نوجوان شدید زخمی ہوئے اور پھر ایک دو دن سسک سسک کر خدا کو پیارے ہو گئے۔

موٹر سائیکلوں کے حادثوں میں عام طور پر اتنی اموات نہیں ہوا کرتیں۔ اس لئے افسوس کے لئے آئے ہوئے لوگوں سے باؤ کے باپ نے جس افسردہ انداز میں باتیں کی ۔ ان باتوں میں اس کی یہ بات نظر انداز کر دی گئی کہ حادثے کے بعد جو لوگ وہ حادثہ اور زخمیوں کو دیکھ کر آئے اور باؤ کے باپ کو بتایا کہ حادثے میں دو جوان فوت ہو گئے ہیں جبکہ باؤ دوسروں سے کم زخمی ہے تو بقول باؤ کے باپ سے اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں باؤ تگڑا ہے۔ دوسروں کے مرنے کی خبر نے اس پر اتنا اثر نہیں کیا جو شائد اس کے بیٹے کے مرنے کی خبر سن کر اس کے دل پر ہوتا وہ آرام سے گیا۔ ہسپتال میں دو دن بعد جب وہ ایڑیاں رگڑ رہا تھا تو ڈاکٹر باؤ کے باپ کو بتا رہے تھے کہ اگر باؤ کو ہسپتال جلد پہنچا دیا جاتا تو شائد وہ بچ جاتا مہربانی ان لوگوں کی جنہوں نے حادثہ دیکھا۔ زخمیوں کو تڑپتا دیکھ کر ہمدردی کے بول بھی ادا کئے۔ حادثہ کیسے ہوا اس پر غور بھی کرتے رہے۔ پھر اس حادثے کی تفصیل گھر والوں کو بھی دی۔ ظاہر ہے وہ باؤ کو اور اس کے گھر والوں کو جانتے تھے ۔ ہو سکتا ہے اسی گاؤں کے ہوں۔ لیکن اطلاع دینا آسان کام ہے۔ کون زخمی کو ہسپتال پہنچائے کسی گاڑی کی سیٹ خون آلود کرے۔ اتنا وقت دے۔ باقی رہ گئی آئی کیو لیول کی بات ۔ کتنے لوگ ہیں جو کسی دیہاتی جگہ پر کوئی حادثہ دیکھ کر مناسب اداروں کو مطلع کریں۔ اس کے لئے پڑھائی وڑھائی کی ضرورت ہو شائد ۔ یا کسی زخمی کو دیکھ کر کیا احتیاطی تدابیر کرنی چاہئیں اس کی تربیت کے لئے حکومت کی کوئی ذمہ داری ہوگی شائد۔ بہر کیف باؤ کا باپ بیٹے کی جوان موت کو مشیت ایزدی سمجھ کر اگر برداشت کر گیا تھا تو ہمیں زیادہ سوچنے کا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی بھلا۔ آخر باؤ اپنے باپ کا بیٹا ہی تھا نا۔ اور باؤ کے باپ نے بھی دوسروں کے بیٹوں کی موت کا کون سا اثر لیا تھا۔ بھئی اپنے اپنے ہی ہوتے ہیں۔

میں باؤ کی فوتیدگی کے اثر سے ہی نہیں نکل سکا تھا کہ دو دن قبل جس انداز سے رحیم یار خان کے قریب دو بسیں آمنے سامنے ٹکرائی ہیں ۔ ان کے اس طرح ٹکرانے سے پتا نہیں کتنے باؤ سسکے ہوں گے۔ کتنوں نے ایڑھیاں رگڑی ہوں گی۔ تعداد تو اب تک سب جان ہی چکے ہیں۔ کتنے اپنے اپنوں کے پاس پہنچ سکے ہوں گے۔ کیوں کہ بس کا سفر لمبا تھا دور دور سے لوگ ان بسوں میں سوار تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے اپنے جادوگر تو تھے نہیں کہ انہیں اطلاع ملتی تو وہ جادو کے جھاڑو پر سوار ہو کر موقعہ پر پہنچ جاتے۔ اب تو کوئی جذبہ تھا جو حادثے کے نزدیک رہنے والے لوگوں کے دلوں میں خدا نے جگانا تھا۔ ان کو سسکتے ہوئے ہسپتال لے جانے والے کتنے تربیت یافتہ تھے۔ اللہ کرے ہوں۔

میں بھی ایک دفعہ ایک بڑے حادثے کے موقعہ پر بطور پولیس آفیسر جتنی جلدی پہنچ سکا تھا، پہنچا تھا۔ تب بھی دو بسیں آمنے سامنے ٹکرائی تھیں۔ مقام کا چھوڑیں۔ اس کا ذکر تو تب کریں اگر ہر مقام پر مائنڈ سیٹ مختلف ہو۔ مقام تو پھر کوئی بھی ہو بات تو ایک ہی ہے۔ ہم زخمیوں کو اٹھا رہے تھے تو وہ چیخ رہے تھے ۔ زخموں کے درد کی وجہ سے۔ لیکن شائد حادثے کے زخموں کی درد کی وجہ سے نہیں بلکہ مجھے لگتا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ جو لوگ حادثے کی جگہ پر ٹکر کی آواز سن کر پہنچے تھے ان میں سے کسی خبیث شخص نےایک مری ہوئی یا تقریباً مری ہوئی عورت کے کانوں سے بالیاں کھینچ لی تھیں۔ کوئی ایک آدھ گندہ انڈا ہی ایسا ذہن رکھ سکتا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے وہ زخمیوں کی انگلیوں سے طلائی انگوٹھیاں اور کلائیوں سے گھڑیوں اتارنے کی بات کر رہے تھے۔ پھر تو بندے زیادہ ہوئے نا جو مدد کے نام پر آئے تھے اور اپنی مدد آپ کے تحت خدمت میں لگے ہوئے تھے میں محکمے میں نیا نیا آیا تھا۔ محکمے کے بارے میں باتیں سنتے رہتے تھے لیکن اب احساس ہو رہا تھا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی انہیں گناہ کرنے سے بچا لیا جاتا ہوگا یہ بھی تو بہت اچھی بات ہے کہ اس گناہ عظیم میں ہاتھ رنگنے سے پہلے ہی کسی کلائی میں کوئی گھڑی بقایا ہی نہ رہے اور کسی انگلی میں انگوٹھی نہ بچے۔ لیکن کٹی ہوئی انگلیوں کی بات دوسری ہے۔ وہ تو بعد میں بھی مل سکتی ہیں۔

 اب اس حادثے کی تفتیش بھی کیا کرنی ۔ مرے ہوئے ڈرائیوروں نے چرس پی ہوئی تھی یا نہیں۔ ایسی باتوں کی تفتیش اچھی لگے گی بھلا۔ ویسے بھی ڈرائیور مانتے ہیں کہ چرس سے نیند نہیں آتی۔ اگر حادثوں سے بچنے کے لئے ان کے ڈرائیونگ ٹیسٹوں کی سکروٹنی نہیں ہوتی۔ جو لوگ ٹیسٹ لے رہے ہیں انہیں گاڑی چلانی آتی ہے۔ قوانین کی پابندی کرنا انہیں آتی ہے۔ آتی ہے تو نہ بھی کریں تو وہ سرکاری بندے ہیں انہیں کسی نے کیا پوچھنا ہے۔ اور پھر ایسے روٹس جو موٹر وے کی زد میں نہیں آتے ۔ گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مینٹیننس کی کیا ضرورت ہے انہوں نے کونسا موٹر وے پر گاڑی دوڑانی ہے۔

پھر اگر وہ آہستہ گاڑی چلائیں تو مالکان کی پوچھ گچھ لیکن اگر وہ وقت سے پہلے پہنچیں تو پھر کونسا مالکوں نے پوچھنا ہے کہ کیوں اتنی تیز رفتاری سے آئے ہو؟ وہ نیک نیت ہوتے ہیں انہیں پتا ہی ہوتا ہے کہ جس ڈرائیور کی جگہ یہ ڈرائیور ڈبل ڈیوٹی دے رہا ہے ۔ وہ بے چارہ کسی شادی میں شرکت کے لئے گیا ہوا ہے اور ڈبل ڈیوٹی میں نیند تو آ ہی جاتی ہے۔ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے ڈرائیونگ بھی تو سولی جیسے سزا ہے۔ اگر اتنی نیند میں کرنی پڑے۔ باقی سواریوں کا کیا ہے وہ تو آگے ہی سو رہی ہوتی ہیں۔ انہوں نے تیز رفتاری پر کونسا ڈرائیور کی سرزنش کرنی ہوتی ہے۔ اور پھر سب سواریوں کی صلاح بھی تو نہیں ملتی کسی کو جلدی پہنچنے کی طمع ہوسکتی ہے، ہے نا۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میں اس طرح ڈروئیور سے جھگڑ کر ڈرائیور کا بھی موڈ آف کروں اور سواریوں کا بھی۔ اگر میں سفر کے دوران موبائل پر باتیں کر سکتا ہوں تو ڈرائیور کا بھی تو فون آ سکتا ہے نا۔ چلیں آئیں اجتماعی طور پر ان کی مغفرت کی دعا کریں۔ سارا قصور ہی ان کا تھا۔ اور کبھی موقعہ ملے تو اپنے اندر جھانکیں بھی کہیں بے حسی نام کی ڈائن ہمارے اندر تو سرایت نہیں کر گئی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *