جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

writerغریبِ شہر

سلیم کوثر بھی کیا شاعر ہیں ، واقعے کو شاعری اور شاعری کو واقعہ بنا دیتے ہیں۔ اُن کی ایک غزل نے مقبولیت کے ایسے ریکارڈ قائم کئے کہ کالج کی لڑکیوں سے لے کر محفل کے بزرگوں تک نے اُسے اپنی اپنی ڈھب سے پڑھا اور اپنی اپنی ڈھب سے سمجھا۔ مگر کسی خبر تھی کہ اسلام آباد کے دھرنے سے واپس آنے والے حضرتِ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مریدانِ باصفا کے لئے سلیم کوثر کا یہ شعر وفورِجمال سے بڑھ کر واقعۂ حال تک اس حال کو پہنچے گا کہ جو سنے گا اُسے حال آجائے گاکہ
کبھی لوٹ آئیں تو نہ پوچھنا، نہیں دیکھنا اُنہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستا کوئی اور ہے
سلیم کوثر اپنے شعر کی اس پست سطح پر تفہیم کا ٹھیک اُسی طرح بُرا بھی منا سکتے ہیں جس طرح یہ شعر سن کر علامہ کا کوئی مرید آپے سے باہر ہوسکتا ہے۔ مرید تو مرید ہی ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’یہ پیر نہیں جو ہوا میں اڑتا ہے بلکہ یہ مرید ہوتے ہیں جو پیر کو ہوا میں اڑاتے ہیں۔‘‘ مگر علامہ کے مریدوں نے علامہ پیر کو یا علامہ پیر نے اپنے مرید وں کو ہوا میں اڑایا ہے ،یہ تو معلوم نہیں مگر اس دوران قوم کا مزاق پوری دنیا میں خوب اڑایا گیا۔ مگر مرید بھی پیر کی طرح کامل ہیں ،وہ جواب میں یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی ، مجھے دوستوں کا پتا نہ تھا
تیری داستاں کوئی اور تھی ، میرا واقعہ کوئی اور ہے
اب علامہ نے اپنے مریدوں کو اسلام آباد کے دھرنے سے عیدالاضحی پر گھر جانے کی اجازت دینے کافیصلہ کر لیا ہے تو اس کی وضاحت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی کہ اصل میں ’’قربانی‘‘ کس کی ہوئی ہے؟ دھرنے کے شرکاء اپنے گھروں کو لوٹ کر قربانی کا جانور کوئی بھی خریدیں اور ذبح کریں ۔ مگر انقلاب کی’’ قربانی‘‘کا ’’ثواب‘‘ یا ’’گناہ‘‘ کس کے نام کریں گے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے مگر وہ یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں کو اب لوٹ سکتے ہیں کہ
عاشقوں کو نفع کب ہے، انقلابِ دہر سے
ہم وہی بندے رہیں گے، بت خدا ہو جائیں گے
مریدانِ باصفا اپنے گھروں میں جا کر شوق سے قربانی فرمائیں مگر اُن کے’’ انقلاب‘‘ کی ’’قربانی ‘‘تو اُن کے پیر نے خود ہی کردی ہے۔مذاکرات سے’’ باخبر حلقے‘‘یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ خاصی ’’ثواب بخش‘‘ قسم کی قربانی ہوئی ہے۔مریدانِ باصفا کے حصے میں اس ’’قربانی‘‘ کا’’گوشت‘‘ تو شاید نہ آئے مگر اُنہیں اس کا خون ہونا شاید دکھائی دے سکے۔سنا ہے کہ دھرنوں سے اُٹھ کر گھروں میں لوٹ آنے والے اور دھرنے سے لوٹنے کی تیاری کرنے والے ’’شرکاء‘‘ انقلاب کی قربانی دیکھ تو رہے ہیں مگر وہ اس ’’انقلاب‘‘ کا گوشت پاس پڑوس اور مستحقین میں بانٹنے کو تیار نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *