جرمنی میں نسلی منافرت کی لہر

اسد مفتی asad mufti

 گزشتہ دنوں انٹرنیشنل یونین آف جرنلٹس کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے جب میں برلن میں تھا تو جرمن اخبارات و رسائل کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ نسلی تشدد کی ایک شدید لہر نے ان دنوں جرمنی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وہاںنسلی منافرت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اقلیتوں کو نسلی طور پر ہراساں کیا جارہا ہےاور حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کا نشانہ وہاں کی سب سے بڑی(مسلم ) اقلیت بن رہی ہے۔
ایک خبر کے مطابق جرمن پولیس حکام نے کٹر قوم پرست نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی کے نسل پرست سیاسی کارکنوں پر نیو نازی تشدد کی لہرکے پیش نظر پابندی لگا دینے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز حکام بالا تک پہنچا دی ہے تاہم سیاسی قائدین نے اس پارٹی کے خلاف کارروائیوں میں احتیاط سے کام لینے پر زور دیا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے اس پارٹی کے کارکنوں کی اہمیت میں اضافہ ہوجانے کا خدشہ ہے جو کہ حکومت کو قطعی منظور نہیں۔ دوسری طرف سرکاری اعلیٰ عہدیداروں نے یہ کہہ کر اس پابندی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے کہ اس طرح متنازع، غیر موثر، غیر منطقی بلکہ جوابی ردعمل پیدا کرنے کا سبب بنے گا لیکن پولیس حکام کی اس مندرجہ بالا تجویز کی ٹھوس وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات کی قائل ہوچکے ہیںکہ نیو نازی پارٹی جرمنی میں ترک نژاد باشندوں، مشرقی یورپ سے آئے ہوئے پناہ گزینوں، ایشیائی باشندوں (جن میں پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لوگ شامل ہیں) مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان حملوں کی خبریں نہ صرف جرمنی بلکہ تمام یورپی میڈیا نے بھی نمایاں طور پر شائع کی ہیں ۔ علاوہ ازیں یورپ کے تمام بڑے شہروں میں ہونے والے اقلیتوں پر حملوں کے واقعات کی رپورٹنگ کی وجہ سے بھی جرمن حکام کو نیو نازی پارٹی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا پڑ رہی ہے ۔آج جرمنی میں تقریباً 70لاکھ غیر ملکی باشندے مقیم ہیں۔سرکاری اعدادوشمار میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور دیوار برلن کے انہدام کے بعد یورپی یونین کے ممبر ملکوں میں سیاسی پناہ طلب کرنے والوں کی 58فیصد تعداد نے جرمنی میں پناہ طلب کی ہے ۔اتنی بڑی تعداد کو دوسرے مغربی ملکوں کے مقابلے میں نہ صرف جرمنی اپنے اوپر ’’بوجھ‘‘ تصور کرتا ہے بلکہ اس سے دوسری اقلیتوں پر حملوں کا بھی جواز مہیا کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی باشندوں کے خلاف جرمن نیو نازیوں کے حملوں کا نشانہ مسلم اقلیت اور مسلم آبادی رہی ہے۔آج جرمنی میں بسنے والےمسلمانوں کی تعداد 25 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں سے تین چوتھائی کا تعلق ترکی سے ہے۔ بعض ناقدین کے نزدیک جرمنی میںمسلم اورعیسائی تہذیب و تمدن اور اقدار میں تصادم ہورہا ہے اور اس کی وجہ مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ہے کہ جرمنی میں مسلم مذہبی احیا پسند (جنہیں وہ بنیاد پرست سمجھتے ہیں) جرمن تہذیبی قدروں اور طرز زندگی کو اپنانے سے گریزاں ہیں اور مبینہ طور پر مسلمانوں میں خلافت کی داغ بیل ڈالی جاری ہے اور اس کیلئے جو پارٹی کام کررہی ہے اس کا ہیڈ آفس جرمنی میں قائم ہے۔ فرانس کی طرح جرمنی میں بھی اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی کے بنکوں میں 25 فیصد سرمایہ ترکوں کا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلم برادری جرمنی میں سب سے زیادہ تیز رفتار ترقی کرنے والی نسلی برادری بھی بنتی جارہی ہے۔ آج کے جرمنی میں جہاں 134 چھوٹی بڑی نسلی پارٹیاں زیرزمین مصروف عمل ہیںاور وہ اپنے چالیس ہزار نازی ممبران کے ذریعے نسلی منافرت پھیلارہی ہیں وہاں اس وقت جرمن نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد خود کو جرمن سے کہیں زیادہ یورپی سمجھتی ہے۔ یہ لوگ سیکولر اور جمہوری اقدار سے نہ صرف گہری وابستگی رکھتے ہیں بلکہ نئے یورپ کی کثیر تہذیبی اور مخلوط نسلی ارتقاء کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یورپی یونین کے ممبر ممالک اور جرمنی میں بیروزگاری کے بڑھتے ہوئے خطرے اور سست رفتار معاشی ترقی نے اچانک نسل پرست نیو نازی سیاست کو نئی ’’توانائی بخشی‘‘ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جرمنی میں نیونازی تہذیب ’’ابھی تک محض نوجوان نسل تک محدود ہے۔ اس تحریک سے وہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں جو 1980ء اور 90ء کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے یہ وہ نوجوان ہیں جو جرمنی کی موجودہ نازی شناخت کو خطرناک نئی راہیں دکھانے کے خواہش مند ہیں۔ نیونازی تحریک سے وابستہ یہ لوگ جرمنی کے جمہوریت پر ایمان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یہی وجہ ہے وہ ’’عظیم جرمنی‘‘ کے ’’عظیم تر جرمن‘‘ فارمولا کے قائل ہیں جبکہ جنگ عظیم دوم کے بعد نئے جرمن کی کثیر تہذیبی، کثیرنسلی اور مخلوط معاشرے نے جرمن قوم کو جرمنی کی طاقت اور عظمت رفتہ کی وفاداری سے کہیں زیادہ جمہوری اقدار سے وفاداری کے اظہار کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے برعکس نیونازی تحریک نسل پرست اور فاشسٹ نظریات پرعمل پیرا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *