تیسری طاقت ۔۔۔کس کے ساتھ ؟

anwar abbas anwar

عمران خاں کی آجکل باگ دوڑ اور جوش و جذبہ دیکھ کر 1992 کا ورلڈ کپ یاد آگیا ہے ، اتنا تو ہماری جوان قیادت یعنی بلاول بھٹو زرداری متحرک نہیں جتنے عمران خاں ہیں، شٹل کاک کی طرح ملک کے شہروں اور قصبوں میں چکر لگا رہے ہیں اور اپنے بلے بازوں اور عوام کو بیدار کرنے ، انہیں اسلام آباد پہنچنے کے لیے تیار کر رہے ہیں، عمران خاں خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ انکے اور انکی سیاست کے لیے کس قدر اہمیت کا حامل ہے ، عمران خاں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ان کی مستقبل کی سیاست کا انحصار اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ عمران خاں اس مشن میں ہر صورت کامیابی و کامرانی چاہتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ ’’نواز شریف فوج کو تنہا کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘‘ طلال چودہری کاالزام ہے کہ عمران خاں اور شیخ رشید کے پہچھے تیسری قوت ہے،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے عمران خاں کی جانب سے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے پر کہا ہے کہ وزیر اعظم منتخب وزیر اعظم ہیں وہ کیوں استعفی دیں،عمران خاں نے جوابا حکومتی وزرا پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ عمران خاں کے پیچھے فوج ہے ۔
الزامات کی اس جنگ میں بھلا پیپلز پارٹی کیسے پیچھے رہ سکتی ہے، سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات مولا بخش چابڈیو بولے کہ’’ پرویز رشید تحقیقاتی اداروں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں‘‘انکا مذید کہنا ہے کہ مجرم خود کو بچانے کے لیے دوسروں کی طرف اشارے کرتا ہے، مولابخش چانڈیو نے حکومتی وزر ا کی جانب سے سکیورٹی کے حوالے سے لیک ہونے والی خبر کے بارے میں تازہ موقف کہ ’’ اجلاس میں دیگر لوگ( وزرا ئے اعلی سندھ اور کے پی کے) بھی موجود تھے‘‘ سے متعلق وزرا سے استفسار کیا کہ ’’اتنے عرصے بعد خیال اایا کہ دیگر لوگ بھی موجود تھے‘‘نجی ٹی وی چینلز دیکھ کر اور اخبارات پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاستدانوں میں گھمسان کی جنگ چھڑی ہوئی ہے، اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے، ہمارے سیاستدان اسکا بھرپور استعمال کر تے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جا رہی، اور نہ ہی عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو بھی بخشا جا رہا،۔
قومی سلامتی کے حوالے سے لیک ہونے والی خبر سے حکومت اور فوج کے درمیان پیدا ہونے خلیج کو ’’پر‘‘ کرنے کی کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں ، حکومتی وزرا کی فوج ظفر موج ہزار کوشش اور جتن کرنے کے باوجود اس تاثر کو زائل کرنے میں ناکام رہی ہے کہ حکومت اور فوج کے بیچ کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، وزیر اعظم نواز شریف خود چل کر انگریزی اخبار ڈان کی مالکن امبر سہگل کے شوہر سے ملے اور ان سے اس حوالے سے مدد کی درخواست کی۔ اعظم سہگل نے کیا جواب دیا اس بارے میں ملاقات کی خبر دینے والے ذرائع خاموش ہیں ممکن ہے کہ اعظم سہگل نے کہا ہو کہ ان کا ’’ڈان‘‘ کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں۔
ادھر لاہور کے ایک الیاس نامی شہری کی جانب سے قومی سلامتی کی خبر لیک کرنے پر وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے، جس میں موقد اختیار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پاک فوج کو بدنام کیا گیا،درخواست گذار کے وکیل بابر اعوان کا کہنا ہے کہ خبر لیک ہونے پر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ زمہ دار نہیں ہے، خبر لیک کرنے والوں کے خلاف انکوائری خفیہ رکھنے پر بھی کئی حلقوں کو تشویش ہے، علامہ طاہر القادری کا عمران خان کی تحریک میں شریک ہونے کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔لگتا ہے کہ جوں جوں اسلام آباد لاک ڈاؤن کی گھڑیاں کم ہوتی جائیں گی بہت سارے لوگ اور جماعتیں اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہوتی دکھائی دیں گی۔
کیا واقعی عمران خاں کے پیچھے کوئی تیسری طاقت کام کر رہی ہے؟ طلال چودہری کوئی ایرا غیرا نہیں ایک ذمہ دار شخصیت ہے اگر تو ان کے پاس ثبوت ہیں تو انہیں عدالت جانا چاہیے اور عوام کو بھی دکھانا چاہیے کیونکہ ایسی ہی نصیحت پرویز رشید نے عمران خاں اور اعتزاز احسن کو کی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، اصولی بات ہے کہ اگر طلال چودہری کے پاس یا مسلم لیگ کے میڈیا سیل کے پاس ثبوت ہیں تو وہ فوری طور پر عوام کو دکھائے جائیں اور عدالت کے سامنے بھی پیش کیے جائیں تاکہ سڑکوں پر لڑی جانے والی جنگ آئینی اور قانونی اداروں میں لڑی جائے۔مجھے یقین کامل ہے کہ اعتزاز احسن جیسی ذامہ دار شخصیت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر سکتی یقیننا ان کے پاس کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوگی۔ اسی لیے تو وہ وزیر اعظم نواز شریف سے کہہ رہے ہیں کہ ٹی او آرز پر راضی ہو جاو ورنہ ۔۔۔ورنہ۔۔۔ تیسری طاقت آجائے گی۔۔۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جہاں لوگ آپس میں دست و گریباں رہتے ہوں ،جہاں نفسا نفسی کا عالم ہو وہاں ہمیشہ تیسری طاقت منافع میں رہتی ہے، پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اگر ہمارے سیاستدانوں نے محض اقتدار کے حصول کے لیے تیسری طاقت کا آلہ کار بن کر اپنے قبیلے کے خلاف میدان میں اترے تو نقصان سیاستدانوں کا ہی ہوگا، اور نفع میں تیسری طاقت رہے گا، اس کے علاوہ ملک پر آمریت کاسیاہ سایہ دس گیارہ سال تک پڑا رہے گا، اب سوچنا سیاستدانوں کا کام ہے کہ وہ خود کو میدان سے باہر نکلنے کے لیے تیسری طاقت کی آرزو و منشاء کی تکمیل کے لیے کام آتے ہیں یا ملک کو آمریت کے سیاہ ساٗئے سے محفوظ رکھنے کے ، جمہوریت کی بالا دستی اور سیاسی ،جمہوری کارکنوں کے مورال کو بلند رکھنے لے لیے تیسری طاقت کے منصوبے کو ناکام بناتے ہیں، تیسری طاقت کبھی سیاستدانوں میں اتفاق و اتحاد نہیں دیکھنا چاہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *