سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کودو ہفتوں میں چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کا حکم

supreme_court_new_670x3501_convertedسپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو دو ہفتوں میں مستقل بنیادوں پر چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ایک جج اس آئینی عہدے پر اضافی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے جس کی وجہ سے عدالتی امور متاثر ہو رہے ہیں۔عدالت نے یہ حکم بلدیاتی انتخابات سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ جمعرات تک صوبے میں حلقہ بندیوں سے متعلق بل صوبائی اسمبلی میں پیش کردیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ سندھ کو طلب کر کے اُنھیں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا جائے گا۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاقی دارلحکومت سمیت ملک کے تین صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک وفاقی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے قانون سازی نہیں کرتی اُس وقت تک وہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی نہیں کرسکتے۔عدالت نے پنجاب حکومت کی طرف سے جمع کروائے گئے اس جواب کو مسترد کردیا اور کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے دو روز میں تمام ضروری قانون سازی کی جائے۔
اس کے علاوہ عدالت نے صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دو روز میں الیکشن کمشن کے ساتھ انتخابی شیڈول طے کریں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آج ہی عدالت کو بتائیں کہ کس تاریخ کو نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے گا جس کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کو دو ہفتوں میں مستقل بنیادوں پر چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک سمیت سپریم کورٹ کے متعدد جج اس عہدے پر اپنی ذمہ دایاں ادا کرتے رہے ہیں۔اس وقت سپریم کورٹ کے جج جسٹس انور ظہیر جمالی بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *