جلد یا بدیر ایبولا وائرس پاکستان پہنچ جائے گا،عالمی ادارہ صحت

ebolaعالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس جلد یا بدیر پاکستان پہنچ جائے گا جس کے بعد اس انفیکشن کو پھیلنے سے روکنا بڑا چیلنج ہوگا۔
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان کے لیے نمائندے ڈاکٹر مشیل تھیرن نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی ایئرپورٹ اس مرض کے حامل مریض کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا ۔ اس لیے اسے حکومت کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ایئر پورٹس پر تعینات اہلکاروں اور عوام کو آگاہی دینا اس مرض کے خلاف دفاع کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔
اسلام آباد میں ایبولا وائرس کے بارے میں حکومت پاکستان اور مسلح افواج کے ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مشیل نے کہا کہ ایبولا جس تیزی سے مختلف ملکوں میں پھیل رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ وائرس پاکستان نہیں پہنچے گا۔
اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کی زیر سربراہی چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے حکام، ایئرپورٹس اور امیگریشن کے افسران، فوجی نمائندوں اور غیر ملکی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں ایبولا وائرس کے پاکستان میں ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔ان میں ایئیرپورٹس پر اس وائرس کی تشخیص کے لیے سکریننگ کے آلات اور ہسپتالوں میں اس مرض کے لیے خصوصی وارڈ بنانا شامل ہے۔
ڈاکٹر مشیل نے اجلاس کے بارے میں کہا کہ ایبولا کے خلاف لڑائی کی بہت اہم شروعات ہیں: ’میں نے میٹنگ میں زور دیا ہے کہ حکومت کے یہ تمام اقدامات ایک ماہ کے اندر مکمل ہو جائیں کیونکہ ہمارے پاس ابتدائی کام کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ وائرس تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے اس لیے پاکستان کو بھی اس کے لیے فوراً تیاری کرنا ہو گی۔ ڈاکٹر مشیل نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایئرپورٹ اس مرض کے حامل مریض کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا اس لیے اسے حکومت کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *