ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے لیے رحمت یا زحمت

کامران یوسف

Experts say US may be more ‘transparent’ in its dealings with Islamabad under Donald Trump. PHOTO: AFP

لیجیے ۔ وہ ہو گیا جس کا ڈر تھا۔ یہ نتیجہ حقیقت سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نئے امریکی صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ جہاں باقی دنیا بھی ٹرمپ کی جیت سے حیران ہے وہاں پاکستان کو فی الحال یہ فکر لگی ہے کہ ٹرمپ کی فتح اس ملک کےلیے کیا اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس سوال کا آسان جواب کوئی نہیں ہے۔

پہلی  وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی کی طرف کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے  خاص طور پر پاکستان کے بارے میں تو الیکشن مہم کے دوران انہوں نے کوئی بڑا بیان نہیں داغا ہے۔

 دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی ناقابل یقین جیت نے پاکستان کے پالیسی میکرز کو سارا کام دوبارہ سے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ٹرمپ کو مبارکباد دینے اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی امید کا اظہار کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی۔ لیکن اس کے باوجود سٹریٹجی اور خارجہ پالیسی ماہرین نے حکومت کو خبردار رہنے کا پیغام دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی ماہرین نے بدلتے ہوئے حالات میں اچھے نتائج کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود جو پوری دنیا کی طرح ٹرمپ کی شکست کی امید رکھتے تھے کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی خارجہ پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہے لیکن ٹرمپ سرکار زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر سکتی ہے۔ ٹرمپ پاکستان سے مزید مطالبات کر سکتے ہیں۔ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار بڑھانے پر دباو ڈال سکتے ہیں۔تاریخی لحاظ سے دیکھیں تو پاک امریکہ تعلقات ہمیشہ سکیورٹی صورتحال پر منحصر نظر آتے ہیں۔

اس وقت امریکہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہے۔ پاک امریکہ اتحاد کے باوجود دونوں ممالک کے بیچ اعتماد کا فقدان تعلقات پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ سب سے بڑی ہچکچاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ہمیشہ اس بات سے خائف رہا ہے کہ پاکستان کچھ دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کو بھی امریکہ سے بہت سی شکایتیں ہیں۔ سب سے بڑی یہ کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاروائی اور قربانی کو تسلیم نہیں کر رہا۔ حال ہی میں بھارت کی طرف امریکہ کے جھکاو سے بھی پاکستان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے انٹر نیشنل ریلیشن پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی متوقع ہے کیوں کہ ٹرمپ کوئی مبہم طریقے سے کام کرنے سے گریز کریں گے۔ ٹرمپ کی حکومت میں امریکہ پاکستان کی طرف تھوڑی لچک کا مظاہرہ کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ سے معاملات طے کرتے ہوئے اب پاکستان کے سامنے کوئی گرے ایریا نہیں ہو گا۔ دوسرے لوگوں کی سوچ کے برعکس ڈاکٹر اشتیاق کے مطابق ٹرمپ کی جیت پاکستان کے لیے بُری ثابت نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ زحمت کے روپ میں رحمت ثابت ہوگی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ ٹرمپ کھری بات کریں گے اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔

سینر خارجہ آفس اور سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق پاکستان کو امریکہ کے بارے میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ دفتر خارجہ کے ایک سینیر اہلکار کا کہنا تھا کہ " میں اسے دوسری طرح دیکھتا ہوں۔ اب پاکستان کو سرپرائز مل سکتا ہے لیکن یہ بُرا نہیں بلکہ اچھا ہو گا۔ ایک اور افسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ کہنا تھا کہ ٹرمپ پاکستان کے معاملے میں زیادہ مداخلت نہیں کریں گے کیونکہ ان کی ترجیحات ملک کے اندونی معاملات ہوں گے۔ ٹرمپ جو بھی پالیسی اختیار کریں اور پاکستان کی طرف ان کا رویہ جو بھی ہو، پاکستان کے سرکاری  آفیشلز اور خارجہ پالیسی میکر ز کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان اور امریکہ تعلقات کا خاتمہ کسی بھی ملک کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *