امید اور مایوسی

syed-hazir-hussain

زندگی میں بہت سے مواقع پرا نسان پر امید اور بہت سےدوسرے مواقع پر انسان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پُر دَم ہے اگر تُو، تو نہیں خطرہ افتاد

اقبال کے ان اشعار سے میں اپنی گفتگو آگے بڑھاتا ہوں۔ اقبال کی تمام کی تمام شاعری انسان کو اپنے آپ کو پہچاننے،  خود کی بہتری، خود اعتمادی، ہمت وہ حوصلہ اور بہادری کا درس دیتی ہے۔ یہ شاعری سارے نوجوانوں خصوصا مسلمان نوجوانوں کے لیے سبق ہے۔ ہمارے آج کے نوجوان نا امیدی کا شکار ہیں۔ معاشرے کے زیادہ تر معاملات منفی چیزوں کی وجہ سے ناامیدی پیدا کرنے کے باعث ہیں۔ بہت کم اساتذہ ایسے ہیں جو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اپنے طلبا کو پہچاننے کی کوشش کرتے اور انہیں زندگی سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیادہ تر اساتذہ کی توجہ صرف سلیبس ختم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ انہیں طلبا کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ جب کوئی بچہ ناامیدی کا شکار ہوتا ہے تو اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم تیار کر رہے ہیں جس میں موٹیویشن، ہمت، مدد  کا جذبہ اور اسطرح کے بڑے فیکٹرز  کی روح ہی موجود نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہماری قوم ایسی نہیں ہے جیسا اقبال اپنے اشعار میں اسے بنانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

اس لیے مستقبل میں ہماری قوم ایسی نہیں ہو گی جس میں لوگوں کو اپنے مستقبل کی فکر ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں بہت سے لوگ خود کشی کر لیتے ہیں جس کی وجہ چھوٹے چھوٹے مسائل ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے جوانوں کو امید اور محنت کی تلقین کرنی ہوگی۔ دنیا میں ہر انسان کو کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں یا دوسروں کو مار ڈالیں۔ مختصر یہ کہ انسان کو ہمیشہ امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے ۔ ناامیدی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر ہمارے اساتذہ اور باس حضرات اپنے طلبا اور ماتحتوں کو امید دلاتے رہیں تو یہ ایک قومی خدمت کہلائے گی۔ اگر بچوں کو امید کا ہاتھ پکڑے رکھنے کی تربیت دی جائے تو زندگی کے زیادہ تر مسائل کا حل نکل آتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *