بھٹکے ہوئے لوگ

 

yasir pirzada

        وہ تینوں کافی دیر سے بھٹک رہے تھے ۔ جنگل سے باہر نکلنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دے رہی تھی ۔شام ڈھل رہی تھی اور بارش کے آثار بھی نظرآرہے تھے ،ہوا میں خنکی  بڑھ چکی تھی اور انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ کچھ ہی دیر میں سردی ہو جائے گی جس سے بچنے کا بظاہر کوئی انتظام اُن کے پاس نہیں تھا ۔ پورا جنگل سائیں سائیں کر رہا تھا ، انہیں اپنے جوتوں کے نیچے کچلے جانے والے پتوں کی چرچراہٹ کے سوا کوئی آواز انہیں سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ اُ ن میں سے ایک جو عمر میں نسبتا ً بڑا تھا ، اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی تھی ، شکل سے کچھ درشتگی جھلکتی تھی اور کچھ کچھ  دیر بعد وہ  کسی نہ کسی بات پر  جھنجھلا جاتا تھا ، اس وقت بھی وہ جھلایا ہوا لگ رہا تھا کیونکہ ایک درخت کی جھکی ہوئی شاخ اس کی قمیض کے ساتھ الجھ گئی تھی اور وہ اس سے پیچھا چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا ، اسی کوشش میں اُس کا ہاتھ  بھی زخمی ہو گیا ۔ اُس نے غصے سے ایک گندی سی گالی دی جس کی گونج پورے جنگل میں پھیل گئی ۔ باقی دونوں ساتھیوں نے اچٹتی سی نظر پہلے پر ڈالی اور پھر راستہ تلاش کرنےمیں لگ گئے ۔

         ’’میرا خیا ل ہے ہمیں مغرب کی طرف چلنا چاہیے ! ‘ ‘ دوسرےآدمی نے رائے ظاہر کی ۔ یہ چالیس بیالیس برس کا ایک شخص تھا، چہرے سے لا اُبالی پن چھلکتا تھا ، اُس کی شکل دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ     زندگی میں  کبھی سنجیدہ بھی ہواہو، اِس وقت بھی یہ بات اُس نے یونہی بلا وجہ کہہ د ی تھی ، یہ وہ بھی جانتا تھا کہ اس کی کوئی ٹھوس وجہ اُس کے پاس نہیں ہے ۔ لیکن  تیسرے نے غور سےاُس کی بات سنی اور ایسا تاثر دیا کہ وہ اِس مشورے پر دیر تک سوچ بچار کا ارادہ رکھتا ہے ، یہ تیسرا شخص بھی لگ بھگ پینتالیس برس کی عمر کا تھا ، چہرے مہرے سے سنجیدگی ٹپکتی تھی ، ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں ڈوبا ہو ا دکھائی دیتا تھا ،   بال سلیقے سے پیچھے کی طرف سنوار رکھے تھے اور  ناک پر عینک دھری تھی ،اِس وقت بھی اُس کی شکل دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کسی گھنے جنگل میں بھی بھٹک رہا ہے ۔ اُس نے درختوں کی اوٹ میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھا اور بولا  :

        ’ ’ جب ہم جنگل میں داخل ہوئے تھے تو یہ سورج ہمارے پیچھے چمک رہا تھا ، اس لحاظ سے ہمیں مغرب کی طرف نہیں بلکہ مشرق اور مغرب کے بیچ کی طرف منہ کرکے چلنا چاہیے ، شائد ایسی صورت میں ہم منزل تک پہنچ سکیں  ۔ ‘ ‘

        درشت چہرے  والے شخص  نے ، جو اس وقت تک  خود کو شاخ سے علیحد ہ کر چکا تھا ، سنجیدہ شخص کی بات کو غصے سے سنا :’’تم اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتے ہو؟ پچھلے کئی گھنٹو ں سے ہم تمہاری وجہ سے خوار ہو رہے ہیں ، تمہار ی ساری منطق اس جنگل میں ناکام ہے! ‘ ‘

        سنجیدہ شخص نے تحمل سے پہلے والے کی بات سنی :’ ’ دوست ، اگر تمہارے پاس کوئی بہتر تجویز ہو تو بتا  ؤ ، ہم اُس پر عمل کر کے دیکھتے ہیں ! ‘ ‘

        درشت چہرے والے نے کھا جانے والی نظروں سے  سنجیدہ آدمی کو دیکھا مگر اس بات کا کوئی جواب دئیے بغیر دوسری سمت چل پڑا ۔ لا اُبالی طبیعت والا  اب تک خاموشی سے اُن دونوں کی گفتگو سُن رہا تھا ، اُس نے سنجیدہ شخص کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ ا ب کیا کریں ۔

        یہ لوگ اچھے بھلے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے نہ جانے من میں کیا سمائی کی جنگل کی سیر کا پروگرام بنا ڈالا ۔ اب یہ اُس وقت کو کوس رہے تھے جس وقت انہو ں نے اِس تجویز کو عملی جامہ پہنایا تھا ۔ دراصل یہ منصوبہ درشت چہرے والے شخص کا تھا ، اس کا خیال تھا کہ شہر سے باہرجانے کے لئے جنگل کی وہ پرانی گذر گاہ تلاش کرنی چاہیے جو صدیوں پہلے کبھی یہاں کے باسیوں کے استعمال میں ہوا کرتی تھی ، اُس کا خیال تھا کہ اگر وہ یہ شارٹ کٹ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو شہر  کے تمام لوگوں کا اس سے بھلا ہو جائے گا  جنہیں فی الحال جنگل کےباہر  سے ہوتے ہوئے پورا چکر کاٹ کر نکلنا پڑتاہے ۔  لا ابالی طبیعت والے شخص نے حسب عادت اس تجویز پر بلا سوچے سمجھے سر ہلا دیا تھا البتہ سنجیدہ آدمی نے کافی بحث کے بعد حامی بھری تھی ، اس کا خیال تھا کہ اگر پرانی گذر گاہ نہ بھی ملی تو جنگل کی سیر بذات خود ایک نیا تجربہ ہوگا ۔ مگر اب یہ تجربہ کافی مہنگا ثابت ہو رہا تھا ۔

        رات ڈھل چکی تھی اور تینوں تھک کر چور ہو چکے تھے ، انہیں سردی بھی لگ رہی تھی  ، درشت چہرے والے کا غصے سے برا حال تھا  مگر وہ اب قابل بھی نہیں رہا تھا کہ اپنا غصہ کسی پر نکال سکے ۔ سنجیدہ صورت شخص نے پتھروں سے آگ جلانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ملی ، اب اُس کی حالت بھی دیدنی تھی ، بال بکھر چکے تھے ، عینک راستے میں کہیں گُم ہو گئی تھی ، جنگل نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا  ۔

         اچانک لا ابالی طبیعت والا شخص اٹھا اور کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگا :’’تمہیں یہ آواز سنائی دی ؟ شیر کی چنگھاڑ ! ‘ ‘ اُس کے لہجے میں خوفزدگی تھی ۔

        درشت چہرے والے نے اسے گھور کر دیکھا :’’تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ، اس جنگل میں خطرناک جانور نہیں ہیں ، اگر وہ یہاں پائے جاتے تو شہر میں بھی کبھی کبھار نظر ا ٓ جاتے ! ‘ ‘

         سنجیدہ صورت والے نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ بات سنی مگر منہ سے کچھ نہیں بولا ۔

        ’’میں نوٹ کر رہا ہوں کہ جب سے ہم اس جنگل میں بھٹک رہے ہیں تم میری باتوں کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کرتے ہو، کیامیں تمہیں شکل سے احمق نظر آتا ہوں ؟ ‘ ‘ درشت چہرے والا ہتھے سے اکھڑ گیا ۔

        ’’دیکھو دوست ، میں تم سے الجھنا نہیں چاہتا ، بہتر ہوگا کہ ہم آپس میں لڑنے کی بجائے جلد از جلد یہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کریں ورنہ جنگلی جانور ہماری بوٹیاں نوچ ڈالیں گے پھر ہم ایک دوسرے پر اپنا غصہ اتارنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے !  ‘ ‘ سنجیدہ صورت شخص نے پر سکون لہجے میں جواب دیا ۔

        ’’شائد یہ آدمی ٹھیک بات کہہ رہا ہے ۔ ‘ ‘ لا ابالی طبیعت والے نے پہلی مرتبہ کوئی رائے دی ۔ درشت چہرے والے نے اسے گھور کر دیکھا  اور پھر تحقیر آمیز انداز میں بولا : ’ ’ تم تو خاموش ہی رہو ، ابھی کچھ دیر پہلے تمہارے کان بج رہے تھے اور تمہیں شیر کی چنگھاڑ سنائی دے رہی تھی ! ‘ ‘

        لا ابالی طبیعت والا یہ سُن کر ہتھے سے اکھڑ گیا ، اُس نے درشت چہرے والے کو گریبان سے پکڑا اور درخت پر دے مارا ، وہ لحیم شحیم جسم کا مالک تھا ، درشت چہرے والا اُس کے آگے بالکل نہ ٹھہر سکا ، سنجیدہ صورت شخص نے بھی بیچ بچاؤ کروانا مناسب نہیں سمجھا ۔

        وہ تینوں پوری رات ایسے ہی بلا مقصد الجھتے رہے ۔

        صبح تک وہ تینوں تھک کر نڈھال ہو چکے تھے ، اب اُن میں اتنی بھی سکت نہیں رہی تھی کہ ایک دوسرے کو اُن کے ناموں سے بھی بلا سکیں ۔ انہیں احساس تھاکہ اس جنگل میں قدم رکھنا اُن کی غلطی تھی مگر اِس سےبھی بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش نہ کر سکے ۔

        آج انہیں جنگل میں بھٹکتے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں مگر ہیں  اب تک انہیں  اندھیرے جنگل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *