جعلی دانشمندی

adnan-amir

عدنان عامر

جاوید چوہدری ایک اردو کالمسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ہیں ۔ انہوں نے اپنے کالموں کا مجموعہ 'زیروپوائنٹ' نامی کتاب کی شکل میں شائع کر کے بہت شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ وہ جعلی دانشوری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں کی عجیب منطق کے ساتھ تعریفیں کرنے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایسی کہانیاں سنانا ہے جو ابھی عام نہیں ہوتیں اور وہ انہیں بدل کر اپنا پائنٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  پچھلے ماہ جاوید چوہدری نے کچھ دوسرے اینکر پرسنز کے ساتھ کوئٹہ کا دورہ کیا اور وہاں انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس میں حصہ لیا۔ اس دورہ میں انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کا بھی دورہ کیا اور کچھ گھنٹے وہاں گزارے۔ اپنے مشاہدات بیان کرنے کے لیے انہوں نے ایک اخبار کے لیے کالم لکھ ڈالا۔ اپنے کالم میں انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی کو بہترین یونیورسٹی قرار دیا اور چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال کی بھی بے انتہا تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ اس وقت یہ کالم سوشل میڈیا پر گھوم رہا ہے اور لوگ جنہیں اصل حقائق معلوم ہیں اس کا مذا ق اڑا رہے ہیں، اس لیے جاوید چوہدری کے بیانات کا حقائق کی روشنی میں مطالعہ لازمی امر معلوم ہوتا ہے۔  جاوید چوہدری نے پروفیسر جاوید اقبال کو کامیابی کے لیے کیس سٹڈی قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پروفیسر جاوید سے پی آئی اے اور سٹیل ملز کی ترقی کے لیے خدمات لیں۔

جاوید  اقبال ایک قابل تعریف شخص ہیں اور کچھ اہم خدمات بھی سر انجام دے چکے ہیں لیکن وائس چانسلر کی حیثیت سے ان کی خدمات اعلی قرار دینا بالکل مناسب نہیں ہے۔ انہیں تو صرف بلوچستان کا بہترین وائس چانسلر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان بھر کے لیے کیس سٹڈی قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ اپنے کالم میں چوہدری صاحب نے سکیورٹی صورتحال کو بیان کرنے میں بھی مبالغہ آرائی سے کام لیا اور اسے افریقہ کے جنگ زدہ شہر کی طرح پیش کیا۔ اگرچہ اس یونیورسٹی میں ماضی میں سکیورٹی ایشوز رہے ہیں لیکن اب اس کی سکیورٹی کے حالات اتنے خراب نہیں ہیں جتنے انہوں نےبیان کیے ہیں۔ جاوید چوہدری نے جاوید اقبال کو جیمز بانڈ جیسا بنا کر پیش کیا ہے ۔ چوہدری صاحب کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر صاحب ہر وقت ایک گن جیب میں رکھتے ہیں اور ایک گن ان کے آفس میں موجود ہوتی ہے۔ یہ بیانات کسی طرح بھی قابل یقین نہیں کیونکہ ایک بڑا سکواڈ یونیورسٹی کی حفاظت پر معمور ہے اور وائس چانسلر کو اپنے پاس یا دفتر میں بندوق رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔

 اگر مان بھی لیا جائے کہ وائس چانسلر کے دفتر میں بندوق چھپائی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کی سکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ چوہدری صاحب رائفل کی بات کرنے سے پہلے سکیورٹی کی صورتحال بیان کرنا بھول گئے ہیں۔ چوہدری صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ یو او بی کے تمام اساتذہ بہت تربیت یافتہ اور قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دوسرے شخص سے جب ہم ہاتھ ملاتے تو معلوم ہوتا کہ وہ آکسفورڈ یا ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہے۔

 اس دعوے پر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اس یونیورسٹی کے بہت کم اساتذہ نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ فی الحال تو یہاں کوئی ایسا پروفیسر نہیں ہے جس نے آکسفرڈ یا ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہو۔ میں تو یہ سوچ کر حیران ہو رہا ہوں کہ وہ کونسے پروفیسر تھے جنہوں نے آکسفرڈ یا ہاورڈ سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور وہ بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیم دے رہے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ جاوید چوہدری نے کچھ اہم ناکامیوں کو بیان کرنے سے گریز کیا۔ یو او بی کے 25 شعبہ جات میں بھرتیاں پچھلے 18 ماہ سے لٹک رہی ہیں۔ مارچ 2015 میں لیکچرر کے لیے ٹیسٹ لینے کے باوجود ابھی تک  بھرتیوں کا عمل مکمل نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کی دخل اندازی ہے۔ یو او بی انتظامیہ ابھی تک صرف لیکچرر کی بھرتی کا کام مکمل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ اکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن نے یو او بی کے بہت سے معاملات ہائی جیک کر رکھے ہیں اور آج بھی نکمے لوگ مختلف شعبوں کے ہیڈ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔  یونیورسٹی کے وائس چانسلر ان مسائل کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی انتظامیہ کی موجودگی میں یو او بی میں ایک صوبائی وزیر کی بیٹی کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لیکچرر بھرتی کیا گیا تھا۔ مختصر یہ کہ کچھ معاملات میں بہتری کے علاوہ یونیورسٹی آف بلوچستان آج بھی بہت سے مسائل کا گڑھ ہے۔ ایک آئیڈیل یونیورسٹی  بننے کے لیے ابھی اسے بہت وقت درکار ہے۔

اس یونیورسٹی کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹ پیش کرنے والے صرف جاوید چوہدری نہیں ہیں۔ اس سے قبل 2015 میں ایک اور کالمسٹ رسول بخش رئیس نے  بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ، انجیئرنگ اینڈ مینیجمنٹ سائنس کو اپنے کالم میں ایک ورلڈ کلاس یونیورسٹی قرار دیا تھا۔ پروفیسر رسول بخش ویسے تو ایک باعزت سکالر ہیں لیکن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی درخواست پر یو او بی کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے جاوید چوہدری کے سٹائل کو کاپی کیا۔ اگرچہ بی یو آئی ٹی ای ایم ایس میں بہت سی اچھی چیزیں دیکھنے کو ملتی  ہیں لیکن اس کے بنیادی نقائص کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر فاروق احمد بازئی 10 سال سے اس کو اپنی جائیداد سمجھ کر چلا رہے ہیں۔ مسٹر رئیس نے بھی حقائق کو  نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مختصر ٹور کو بہت بڑھا چڑھا  پیش کیا۔

یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ لوگ اپنے فرضی علم پر مبنی بیانات میں بلوچستان کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سےلوگ جنہیں اس صوبے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے  اپنی رائے اس غلط انفارمیشن کی بنیاد پر قائم کر لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *