حسن نثار کے نواز شریف پر خوفناک الزام کی حقیقت !

naeem-baloch1
جیو ٹی وی کے معروف پروگرام رپورٹ کارڈ میں تجزیہ نگاروں کے سامنے ایک سوال رکھا گیا کہ انڈیا کے پاکستان کے بارڈر پر حملوں کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں تجزیہ نگاروں نے اپنی اپنی رائے پیش کی جس میں اکثریت کا یہ کہنا تھا یہ سی پیک منصوبے کی تکلیف کا ردعمل ا ور مقبوضہ کشمیر میں عوامی ردعمل پر عالمی توجہ ہٹانے کے طریقے ہیں ۔ لیکن حسن نثار نے ایک نئی تھیوری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ایک دوسری بات کرتے ہیں جس کو اگرچہ وہ درست کہنے میں متامل ہیں لیکن اگلے ہی لمحے انھوں پینترا بدلا اور کہا کہ میں اس بات کو بہت حد تک قرینِ قیاس سمجھتا ہوں کہ یہ حملہ مودی اور نواز شریف کے رومانس کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔حسن نثار نے مزید کہا کہ یہ عین ممکن ہے کہ نواز شریف حکومت پر دباؤ کم کرنے کے لیے ایسا کیا جارہا ہو اور ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے !البتہ انھوں نے واضح نہیں کیا کہ ایسا ماضی کب اور کہاں ہوا؟
کسی پیشہ ور صحافی کا اپنے ملک کے وزیر اعظم پر ایسا گھٹیا اور بے بنیاد الزام لگانے کی شاید یہ پہلی مثال ہو ۔ ایک وزیر اعظم پر غداری کا اس قدر بڑا الزام کہ اس نے دشمن ملک کے وزیر اعظم کو قائل کیا کہ وہ اس کے ملک کے خلاف چھوٹے پیمانے پر جنگ شروع کر دے اور اتنی بڑی انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ کہ وزیر اعظم نوازشریف بھارت کی اس حرکت کو جارحیت بھی کہیں گے اس کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کریں گے لیکن پورا بھارت ، اس کے وزیراعظم اور فوج اس پر ذرا بھی بد مزا نہیں ہوں گے !اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے بھارت کے ان حملوں کا ہماری اندرونی سیاست پرکوئی اثر نہیں ہو رہا اور وزیر اعظم پر الزامات اور مقدمات کا سلسلہ زور شور سے جاری ہے ! اور پھر یہ ڈراما کس لیے ہو رہا ہے؟ اس کیس کے ہارنے کے خوف کی وجہ سے جس کے حوالے سے ایک باخبر صحافی ( نجم سیٹھی )نے چھ مہینے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس کیس کا انجام کیا ہونے والاہے اور اس کے دفاع میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی ۔( یاد رہے کہ سیٹھی صاحب نے چھ ماہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نواز شریف اپنے پرانے شاہی دوستوں کی طرف سے یہ گواہی د لوا دیں گے ان کے پاس متنازعہ سرمایہ کہاں سے آیا ؟)
اصل میں پانامہ لیکس ایک ’’ اوپن سیکریٹ ‘‘ کیس ہے ، اس ملک میں اس طرح کا کام کرنے کے اتنے ’قانونی‘ طریقے ہیں جس کا کوئی حساب نہیں اور یہ کیس تو ویسے بھی ہر پہلو سے بہت کمزور تھا، اتنا کمزور کہ عمران اینڈ کمپنی جسے ’’ثابت شدہ ‘‘ کہہ رہی تھی، اس کے ثبوت ایک فاضل جج کی نظر میں ردی سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اس طرح کے ثبوت عدالت کے ریمارکس کے مطابق وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ سچی بات تو یہ کہ حسن نثار جس گھوڑے پر اتنا بڑا جوا لگا رہے ہیں اس کی تو ٹانگیں ہی چھوٹی بڑی ہیں ، یقیناًًاس وقت موصوف اپنی خاص کیفیت میں ہوں گے !اور جب وہ حقیقت کی دنیا میں آئیں گے ان کو احساس ہو گا کہ ان کا محبوب گھوڑا جیتنے والے گھوڑے کے پاؤں میں کس بے دردی سے کچلا گیا ہے !
ایک دوسرے ٹاک شو’ میرے مطابق ‘ میں ا نھوں نے سی پیک منصوبے کے کامیاب آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواہ مخواہ فرض کر لیا گیا ہے اسکا کریڈٹ نواز شریف حکومت کو جاتا ہے ، یہ بالکل بکواس ہے ، اس کا کریڈٹ اصل میں آصف علی زرداری کو جاتا ہے ، انھوں نے اپنے دور میں چین کے سب سے زیادہ دورے کئے اور وہی اس منصوبے کے اصل معمار ہیں ۔ چنانچہ جیسے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ نواز شریف کو بلا وجہ دیا جاتا ہے اسی طرح سی پیک کے منصوبے پر ان کی تحسین ایک بے تکی بات ہے ۔ انھوں جناب زرداری کے حضور سجدہ سہو بھی ادا کیا ان سے معافی بھی مانگی اور ان کے عظیم لیڈر ہونے کی گواہی بھی دی !
اس تبصرے پر ایک فیس بکی قاری نے لکھا کہ یہ اصل میں حب علی نہیں ، بغض معاویہ ہے ! اور ایک دوسرے بے رحم لیکن دل جلے نے یہ تبصرہ کیا کہ:
’’ اس’’ پانچ وقت ‘‘کے شرابی سے کوئی پوچھے کہ کیا وہ زرداری کے حوالے سے کسی ایک بیان کی بھی نشان دہی کر سکتا ہے جس میں زرداری صاحب نے سی پیک منصوبے کا ذکر بھی کیا ہو؟ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ محاورہ کسی اونٹ کے لیے نہیں کسی حسن نثار کے لیے بنایا گیا ہو گا کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی ! ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *